Inquilab Logo Happiest Places to Work

میناکشی نٹراجن کی نامزدگی رد ہونے کے بعد ہنگامہ، دھرنا، الیکشن کمیشن سے ملاقات

Updated: June 11, 2026, 9:42 AM IST | Agency | New Delhi

مدھیہ پردیش اسمبلی سے راجیہ سبھا کیلئے کانگریس کی امیدوار میناکشی نٹراجن کے مدمقابل بی جےپی کی جانب سے مہیش کیوٹ کو امیدوار بنائے جانے کے بعدہی کانگریس الرٹ ہوگئی تھی۔

Congress Leader Meenakshi Natarajan Speaking To The Media Against The Rejection Of Her Candidature.Photo:INN
کانگریس لیڈر میناکشی نٹراجن اپنی امیدواری خارج ہونے کے خلاف میڈیا سے بات کرتے ہوئے۔ تصویر:آئی این این
مدھیہ پردیش اسمبلی سے راجیہ سبھا کیلئے  کانگریس کی امیدوار میناکشی نٹراجن  کے مدمقابل بی جےپی کی جانب سے مہیش کیوٹ کو امیدوار بنائے جانے کے بعدہی کانگریس الرٹ ہوگئی تھی۔ چونکہ بی جےپی کے پاس تیسرے امیدوار کی کامیابی کیلئے خاطر خواہ اراکین اسمبلی نہیں تھے اس لئے اندیشہ تھا کہ وہ کانگریس کے اراکین کو توڑ کر کراس ووٹنگ کرواکر اپنے امیدوار کو جتائے گی ۔اس سے بچنے کیلئے منگل کو کانگریس نے اپنے تمام اراکین اسمبلی کو بنگلور منتقل کرنے کی نہ صرف تیاری کرلی تھی بلکہ مذکورہ اراکین ایئر پورٹ بھی پہنچ گئے تھے مگر شام ہوتے ہوتے اس وقت سب کچھ بدل گیا جب  ریٹرننگ آفیسر نےبی جےپی کی شکایت پر حیرت انگیز طو رپر نٹراجن کا پرچہ نامزدگی ہی خارج کردیا۔ 
اس کے بعدجس دن کا آغاز کانگریس کی جانب سے اراکین اسمبلی کو بنگلور منتقل کرنے کی منظم حکمت عملی سے ہوا تھا، اس کا اختتام  رن وے سے واپس بلائے گئے چارٹرڈ طیارے اور الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر سینئر رہنماؤں کے دیر رات دھرنے پر ہوا۔تقریباً۱۵؍ گھنٹوں تک جاری رہنے والے ان ڈرامائی واقعات نے  راجیہ سبھا سیٹ کیلئے معمول  کے  انتخابی عمل کو سیاسی بحران میں بدل دیا۔
بنگلور آپریشن:پیر کی رات ہی کانگریس نے اپنے اراکین اسمبلی کو بنگلور روانگی کی ہدایت دیدی تھی۔کئی ارکان رات بھر خریداری کے بعد منگل کی صبح سیدھے ایئرپورٹ پہنچے تھے،  کچھ اپنے اہل خانہ کو بھی ساتھ لائے تھے ۔ لیکن کانگریس اراکین کو لے جانے والا خصوصی طیارہ وقت پر نہیں پہنچا اس لئے بورڈنگ پاس جاری نہیں ہوئے اور اور اراکین  اسمبلی، ان کے اہل خانہ اور پارٹی کارکن جون کی شدید گرمی میں ایئرپورٹ کے باہر انتظار کرتے رہے۔کئی گھنٹے گزر گئے مگر طیارے کا کوئی پتہ نہیں تھا۔
انتظار ختم ہوا، اصل ڈراما شروع ہوا:ساڑھے ۴؍ گھنٹے کے انتظار کے بعد شام تقریباً ۵؍بجے ساڑھے چارٹرڈ طیارہ بھوپال پہنچا اور تھکے ہوئے اراکین اسمبلی بورڈنگ کی تیاری میں مصروف ہو گئے۔ اسی دوران سیاسی بم پھٹ گیا۔اسمبلی احاطے میں تقریباً ۲؍ گھنٹوں تک بی جے پی اور کانگریس لیڈر اپنے اپنے دلائل پیش کرتے رہے اور ریٹرننگ افسر کاغذات اور اعتراضات کا جائزہ لیتے رہے۔شام ساڑھے ۶؍بجے ریٹرننگ افسر نے میناکشی نٹراجن کی  پرچہ نامزدگی مسترد کرنے کا بم پھوڑ دیا۔سب کچھ بدل گیا اور ایئرپورٹ پر کانگریس اراکین کو لے جانے والا  جو طیارہ رن وے کی جانب بڑھ چکا تھااسے  اچانک اسے واپس بلا لیا گیا۔ 
ہنگامی پریس کانفرنس:اس دھچکے کے بعد میناکشی نٹراجن اور دیگر سینئر لیڈربھوپال کانگریس دفتر پہنچے جہاں شام تک ہنگامی میٹنگیں ہوتی رہیں۔ شام ساڑھے۷؍بجے کانگریس لیڈروں  نے پریس کانفرنس کی اور الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار اور نامزدگی مسترد کرنے  کے فیصلے پر سوال اٹھائے اور  ضرورت پڑنے پر سپریم کورٹ سے رجوع کا اعلان کیا۔ اس کے بعد کانگریس دفتر میں خاموشی اور مایوسی تھی مگر لڑنے کا عزم بھی نمایاں تھا۔
 
 
نامزدگی خارج کرنے کا جواز بے بنیاد: میناکشی نٹراجن  نے میڈیا سے خطاب کیا اور بتایا کہ ان کی نامزدگی جس معاملے کی اطلاع نہ دینے کی بنیاد پر خارج کی گئی  وہ معاملہ سرے سے ہے ہی نہیں۔اس ضمن میں نہ کوئی ایف آئی آر ہوئی نہ کوئی مقدمہ شروع ہوا ہے بلکہ ایک نجی تحریری شکایت پر کورٹ کی جانب سے بس انہیں ایک نوٹس ملا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ معاملہ قانونی سے زیادہ سیاسی ہے اور  اس کے ذریعہ جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے، ساتھ ہی الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری پر بھی سوال اٹھائے۔
 
 
نصف شب کا احتجاج: لڑتے رہنے کے عزم  کے ساتھ دیر رات  کانگریس لیڈراور کارکن بھوپالالیکشن کمیشن کے دفتر پہنچے۔ انہیں دفتر میں  داخل نہیں ہونے دیاگیا جس کے بعد ریاستی کانگریس صدر جیتو پٹواری، اپوزیشن لیڈر امنگ سنگھار، ریاستی انچارج ہریش چودھری اور دیگر رہنماؤں نے وہیں دھرنا شروع کیا جو  رات۱۲؍بجےتک جاری رہا۔ 
  الیکشن کمیشن سے ملاقات:  بدھ کو ابھیشیک منو سنگھوی کی قیادت میں کانگریس لیڈروں نے دہلی میں الیکشن کمیشن  سے ملاقات کی اور میناکشی نٹراجن کاپرچہ مسترد کئے جانے کو بلا جواز قرار دیا۔ اب الیکشن کمیشن کے فیصلے کا انتظار ہے تاہم کانگریس سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کیلئے تیار ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK