مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کے درمیان بدھ کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔
سونے کی قیمت۔ تصویر:آئی این این
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کے بدلتے رجحانات کے درمیان بدھ کو سونے اور چاندی کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔ ملکی بازار میں قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں مسلسل کمی نے سرمایہ کاروں اور زیورات کے کاروبار سے وابستہ افراد کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی ہے۔ملٹی کموڈیٹی ایکسچینج آف انڈیا پر اگست کےسونے کا سوداایک لاکھ ۴۹؍ ہزار ۹۲۶؍ روپے فی دس گرام کی سطح پر کھلا اور کاروبار کے دوران تقریباً دو فیصد تک گر کرایک لاکھ ۴۹؍ ہزار ۵۰۰؍ روپے فی دس گرام کے یومیہ نچلے درجے تک پہنچ گیا۔
اسی طرح جولائی کی چاندی کی بکنگ۲؍ لاکھ ۳۴؍ ہزار روپے فی کلوگرام کی سطح پر کھلی اور تقریباً دو فیصد کی کمی کے بعد۲؍ لاکھ ۳۳؍ ہزار ۴۰۰؍ روپے فی کلوگرام تک نیچے آ گئی۔خبر لکھے جانے کے وقت سونا ۲۱۵۴؍ روپے کی کمی کے ساتھ ایک لاکھ ۵۰؍ ہزار روپے فی دس گرام کے قریب کاروبارکر رہا تھا جبکہ چاندی۳۳۲۸؍ روپے کی گراوٹ کے ساتھ کاروبار کر رہی تھی۔
بازار کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند روز کے دوران قیمتی دھاتوں میں مسلسل دباؤ دیکھا جا رہا ہے۔چاندی اپنی بلند ترین سطح سے۲؍لاکھ ۲۱؍ ہزار روپے تک آ چکی ہے، جبکہ سونا بھی اپنی ریکارڈ بلند سطح سے پچاس ہزار روپے سے زیادہ کی کمی کا شکار ہو چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق سونے کے لئےایک لاکھ ۵۲؍ ہزار روپے فی دس گرام کی سطح فوری مزاحمت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر قیمت اس سطح سے اوپر مستحکم ہوتی ہے تو سونے میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے ۔ دوسری جانب اگر سونا ایک لاکھ ۴۹؍ ہزار روپے کے نیچے جاتا ہے تو فروخت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ جس سے سرمایہ کاروں کو سب سے زیادہ نقصان ہو گا جبکہ عام گاہکوں کا فائدہ ہو گا۔