Updated: October 24, 2026, 7:02 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام نہ ملنے کی شکایت کے درمیان ایک ریپبلکن امیدوار نے خود ساختہ ’’مین آف دی سنچری ایوارڈ‘‘ پیش کیا ہے۔ ٹرمپ نے اس اعزاز کو قبول کیا اور ایک بار پھر نوبیل امن انعام اور پلٹزر انعام نہ ملنے پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔
ریپبلیکن امیدوار ٹرمپ کو ایوارڈ پیش کرنے سے قبل دکھاتے ہوئے۔ تصویر: ایکس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو آئیووا کے شہر سیوکس سٹی میں اپنی تازہ انتخابی ریلی کے دوران ’’مین آف دی سنچری ایوارڈ‘‘ پیش کیا گیا۔ یہ اعزاز ریپبلکن پارٹی کے کانگریسی امیدوار جو مچل نے انہیں دیا، جو خود اسی ایوارڈ کے بانی ہیں۔ ۲۹؍ سالہ مچل ریاستی اسمبلی کے سابق رکن ہیں اور آئیووا کے دوسرے کانگریسی حلقے سے ڈیموکریٹ امیدوار لنڈسے جیمز کے خلاف سخت مقابلے میں ہیں۔ صدر ٹرمپ کی شہر آمد کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ اسٹیج پر ان کے ساتھ آئے اور پرجوش مجمع سے خطاب کیا۔ اس دوران انہوں نے ٹرمپ کی چمک دمک اور اعزازات میں دلچسپی کو بھانپتے ہوئے ان کی بھرپور تعریف کی۔ مچل نے کہا، ’’میں صدر صاحب سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ ۱۰؍ برسوں کے دوران آپ نے اس ملک کو کسی بھی دوسرے صدر کے مقابلے میں زیادہ محفوظ رکھا ہے۔ اور ویسے بھی انہوں نے آپ کو نوبیل امن انعام کبھی نہیں دیا جو ایک شرم ناک بات ہے۔‘‘ ایک فریم شدہ سند بلند کرتے ہوئے مچل نے مزید کہا، ’’اسی لیے صدر صاحب، میں نے ایک نیا ایوارڈ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کا نام ’مین آف دی سنچری ایوارڈ‘ ہے۔ جی ہاں، یہ ’مین آف دی سنچری ایوارڈ‘ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’میں اسے مصنوعی میڈیا کو دکھانے کیلئے بلند کر رہا ہوں۔ سی این این، ذرا یہاں زوم کیجیے، سی این این۔ اس شخص نے انسانیت اور امریکہ کیلئے کسی بھی دوسرے صدر کے مقابلے میں زیادہ کام کیا ہے۔‘‘ مچل نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے کہا، ’’صدر صاحب، یہاں آنے کیلئے آپ کا شکریہ۔ آئیووا کی حمایت کرنے کیلئے شکریہ اور ہمارے اب تک کے سب سے عظیم صدر ہونے کیلئے بھی آپ کا شکریہ۔‘‘ ٹرمپ نے خوش دلی سے ایوارڈ قبول کیا، مچل سے ہاتھ ملایا اور پھر اسے قریب کھڑے اپنے ایک معاون کے حوالے کردیا۔ واضح رہے کہ یہ اعزاز صدر کو اس وقت دیا گیا جب صرف ایک روز قبل انہوں نے جنوبی کیرولائنا کے شہر گرین ویل میں اپنی گزشتہ وسط مدتی انتخابی ریلی کے دوران ایک بار پھر شکایت کی تھی کہ انہیں نوبیل امن انعام کیلئے نظر انداز کردیا گیا ہے۔ وہ طویل عرصے سے اس انعام کے حصول کے خواہش مند رہے ہیں۔
جنوبی کیرولائنا کی ریلی میں ٹرمپ کو ریپبلکن سینیٹر ڈارلین گراہم کی حمایت کرنی تھی، لیکن اس کے بجائے انہوں نے گزشتہ سال کے نوبیل امن انعام کی فاتح اور وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچاڈو کا ذکر کیا۔ ماچاڈو نے امریکی فوج کی جانب سے نکولس مادورو کی حکومت کا تختہ الٹنے اور وینزویلا کے صدر کو فوجداری الزامات کا سامنا کرنے کیلئے نیویارک منتقل کیے جانے کے دو ہفتے بعد اپنا اعزاز ٹرمپ کو پیش کیا تھا۔ ٹرمپ نے کہا، ’’گزشتہ سال جس خاتون کو یہ انعام ملا، وہ ایک اعلیٰ معیار کی خاتون ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ وہ کون ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: جنوبی افریقی مصنفہ کی اے آئی کی مدد سے ۲۰؍ ماہ میں ۳۷۰؍ کتابوں کی تخلیق
ممکن ہے کہ صدر کو ان کا نام یاد نہ رہا ہو۔ انہوں نے مزید کہا، ’’انہوں نے کہا تھا کہ نہیں، نہیں، میں نوبیل امن انعام کی مستحق نہیں ہوں۔ دنیا میں صرف ایک ہی شخص ہے جو اس کا مستحق ہے۔ درحقیقت، انہوں نے کہا کہ وہ اس انعام کے ہر سابق فاتح سے زیادہ اس کے مستحق ہیں، کیونکہ میں نے ان تمام جنگوں کو ختم کرایا ہے۔‘‘ تاہم ٹرمپ نے اس سال کے نوبیل امن انعام کی فاتح، جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی وکیل اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج ۸۵؍ سالہ نوا نیتھم ’’ناوی‘‘ پلّے کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کیے۔ انہوں نے کہا، ’’جس خاتون کو یہ انعام ملا ہے، مجھے نہیں معلوم کہ وہ کہاں سے آئی ہیں۔ میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ وہ اسرائیل سے نفرت کرتی ہیں۔ بس یہی بات ہے۔ وہ اسرائیل سے شدید نفرت کرتی ہیں۔‘‘ غالباً ٹرمپ کا اشارہ پلّے کی جانب سے گزشتہ سال اقوام متحدہ کے ایک پینل کی سربراہی کی طرف تھا، جس نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔ اسرائیل ان الزامات کی بارہا تردید کرچکا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا، ’’مجھے نوبیل امن انعام نہیں ملا۔ مجھے پلٹزر انعام بھی نہیں ملا۔ مجھے تحریر کے شعبے میں بھی پلٹزر انعام ملنا چاہیے تھا۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’جن لوگوں کو یہ انعامات ملے، انہیں نہیں ملنے چاہیے تھے۔ انہیں روس، روس، روس کے موضوع پر درست اور شاندار تحریروں کیلئے پلٹزر انعام دیا گیا، لیکن ان کی بات غلط تھی۔ ان سب نے غلط لکھا تھا۔‘‘ اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں ٹرمپ نے پلّے پر تنقید جاری رکھی، تاہم اس دوران وہ انعامات کے ناموں کو خلط ملط کرتے دکھائی دیے۔ انہوں نے کہا، ’’انہوں نے شاندار امن انعام دیا، ہے نا؟ کیا کسی کو اس امن انعام کا نام معلوم ہے؟‘‘ پھر انہوں نے کہا، ’’انہوں نے ایک نوجوان خاتون کو پلٹزر انعام دیا۔ میرا خیال ہے کہ ان کی عمر ۸۰؍ سال ہے۔‘‘ واضح رہے کہ خود ٹرمپ کی عمر بھی ۸۰؍ سال ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جاپان: ۲۴؍ گھنٹہ، ۲۰۰؍ صفحات کا ناول، ۱۶؍ ادیبوں کی مشترکہ تخلیق
جو مچل کی جانب سے پیش کی گئی سند اب ممکنہ طور پر وہائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں رکھی جائے گی، جہاں گزشتہ دسمبر فیفا کے سربراہ جیانی انفانٹینو کی جانب سے ٹرمپ کو پیش کیا گیا پہلا ’’فیفا پیس پرائز‘‘ بھی موجود ہے۔ یہ اعزاز بھی نوبیل امن انعام کمیٹی کی جانب سے ٹرمپ کو نظر انداز کیے جانے کے بعد ان کی ناراضی دور کرنے کی کوشش کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔