سری نگر میں میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ملک میں مسلمان ایک حساس اور آزمائشی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ پولرائزیشن، مساجد سے متعلق اقدامات اور مذہبی آزادی پر خدشات کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: February 18, 2026, 10:38 PM IST | Srinagar
سری نگر میں میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ ملک میں مسلمان ایک حساس اور آزمائشی مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ پولرائزیشن، مساجد سے متعلق اقدامات اور مذہبی آزادی پر خدشات کا اظہار کیا۔
کشمیر کے عالم میر واعظ عمر فاروق نے اتوار کو کہا کہ ملک میں مسلمان ایک ’’حساس اور آزمائشی دور‘‘ سے گزر رہے ہیں۔ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں ایک مذہبی کانفرنس کے بعد نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بڑھتے ہوئے فرقہ وارانہ پولرائزیشن پر تشویش ظاہر کی۔ میرواعظ کے مطابق، ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں جن سے کمیونٹی کے بعض حلقوں میں بے چینی اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں بے آواز لوگوں کی آواز بننا ہے‘‘ اور مذہبی قیادت کو ذمہ داری کے ساتھ حالات کا جائزہ لینا چاہیے۔ میرواعظ عمر فاروق نے دعویٰ کیا کہ بعض مقامات پر مساجد سے متعلق کارروائیاں، املاک کی توڑ پھوڑ اور مسلمانوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ انہوں نے مساجد کی مبینہ پروفائلنگ کو ’’مذہبی معاملات میں بلا جواز مداخلت‘‘ قرار دیتے ہوئے ایسے اقدامات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ مذہبی اداروں کو آزادی اور وقار کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے، خصوصاً ایسے وقت میں جب رمضان المبارک قریب ہو۔ میرواعظ نے اپنے بیان میں عالمی سطح پر مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے فلسطین میں جاری تشدد اور مغربی ایشیا کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مختلف خطوں میں مسلمانوں کے مصائب باعثِ تکلیف ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مقدس مہینے کے دوران مذہبی معاملات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی اور حکام شہریوں کے مذہبی حقوق کا احترام یقینی بنائیں گے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر میرواعظ نے کہا کہ حکام کو چاہیے کہ عبادت گاہوں کو بلا رکاوٹ کام کرنے دیا جائے اور آئینی و مذہبی حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسے اقدامات سے ہی اعتماد سازی ممکن ہے اور سماجی ہم آہنگی برقرار رکھی جا سکتی ہے۔