Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ- ایران۶۰؍ روزہ مفاہمت نامہ کی مدت ختم، اہم اہداف حاصل نہ ہوسکے

Updated: August 18, 2026, 2:31 PM IST | Agency | Tehran/Washington

امن کی راہ غیر یقینی، ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کھولنے کے معاملے پرتعطل برقرار، ۱۷؍ جون کو اس یادداشت پر دستخط کئے گئے تھے۔

Iran wants to maintain its control over the Strait of Hormuz and also receive a fee for it. Picture: INN
ایران چاہتا ہےکہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول برقرار رہے اوراسے فیس بھی دی جائے۔ تصویر: آئی این این

امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت مقر رہ  ۶۰؍روزہ مدت پیر کو اس وقت ختم ہوگئی جب دونوں فریق جنگ کے خاتمے، تہران کے جوہری پروگرام پر تنازع حل کرنے یا تزو یراتی لحاظ سے اہم آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کیلئے کسی وسیع تر معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے جس کے باعث تنازع کے مستقبل پر غیر یقینی کے بادل منڈلا رہے ہیں ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایران کے درمیان۱۷؍ جون کو فرانس کے شہر ورسائی میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا مقصد عارضی جنگ بندی کو ایک مستقل تصفیے میں تبدیل کرنا تھا ۔ اس کے تحت دونوں فریقوں کو ایران کے جوہری پروگرام، جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سمیت ایک مستقل معاہدہ کیلئے مذاکرات کی خاطر۶۰؍دن دیے گئے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ڈی آر کانگو میں ایبولا سے جان گنوانے والوں کی تعداد ۲۳۲۵؍ تک پہنچی

تاہم ان میں سے کوئی بھی اہم ہدف مکمل طور پر حاصل نہیں ہوسکا۔ اس کے بجائے عبوری انتظام چند ہی ہفتوں میں بکھر گیا اور واشنگٹن اور تہران نے ایک دوسرے پر معاہدے کی شرائط کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے۔ براہ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی برقرار ہے اور آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک معمول کی سطح کے ایک معمولی حصے تک محدود ہوگئی ہے۔  اس وقت صرف پانچ مال بردار بحری جہاز اس اہم آبی گزرگاہ سے گزرنے کے قابل ہیں جبکہ امن کے زمانے میں روزانہ اندازاً۱۳۰؍ سے۱۴۰؍ بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرتے ہیں ۔جون کے معاہدے میں ایران کی جانب سے آبی گزرگاہ کو دوبارہ کھولنے میں سہولت فراہم کرنے اور امریکہ کی جانب سے تہران کے خلاف اقدامات میں نرمی کا تصور پیش کیا گیا تھا ۔ تاہم دونوں فریق اس معاملے پر شدید اختلافات کا شکار رہے کہ بحری ٹریفک کو کون کنٹرول کرے گا اور آبنائے کو کن شرائط کے تحت دوبارہ کھولا جائے گا۔ ایران کا اصرار ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کو امریکی ناکہ بندی ختم کرنے سے منسلک کیا جائے، جبکہ واشنگٹن نے یہ مطالبہ مسترد کرتے ہوئے تہران پر اقتصادی اور فوجی دباؤ برقرار رکھا ہے۔ ایران نے آبی گزرگاہ سے گزرنے والی ٹریفک کو کنٹرول کرنے میں بھی اپنا کردار چاہا ہے اور معاہدے کی تشریح اس طرح کی ہے کہ اسے کنٹرول برقرار رکھنے اور ممکنہ طور پر فیس وصول کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔ معاہدے کا خاتمہ۸؍ جولائی کو اس وقت واضح ہوگیا تھا جب نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے دوران ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے آس پاس اور اس میں موجود بحری جہازوں پر ایرانی حملوں کے بعد  اس  یادداشت کو کالعدم قرار دے دیا تھا ۔ اب اس کی باقاعدہ ۶۰؍رو زہ میعاد مکمل ہوچکی ہے۔ ٹرمپ نے ایران پر سخت کارروائی کا انتباہ دیا ہےجبکہ تہران بھی اپنےموقف اور شرائط پر اٹل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK