ملک میں۲۰۱۸ء سے۲۰۲۰ء کے دوران پھیلنے والی وبا میں ہونے والی ہلاکتوں سے اس مرتبہ زیادہ اموات ہوچکی ہیں، یہ ملک میں اب تک کی مہلک ترین وبا بن چکی ہے۔
EPAPER
Updated: August 18, 2026, 2:26 PM IST | Agency | New York / Kinshasa
ملک میں۲۰۱۸ء سے۲۰۲۰ء کے دوران پھیلنے والی وبا میں ہونے والی ہلاکتوں سے اس مرتبہ زیادہ اموات ہوچکی ہیں، یہ ملک میں اب تک کی مہلک ترین وبا بن چکی ہے۔
عوامی جمہوریہ کانگو (ڈی آر کانگو) میں ایبولا کی وبا سے جان گنوانے والوں کی تعداد ۲۳۲۵؍ تک پہنچ گئی ہے جو۲۰۱۸ء سے۲۰۲۰ء کے دوران پھیلنے والی وبا میں ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔ اس طرح یہ ملک کی تاریخ کی سب سے مہلک ایبولا وبا بن گئی ہے۔ ڈی آر کانگو کے قومی ادارہ برائے صحت عامہ نے اتوار کو جاری کردہ اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا کہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تصدیق شدہ تعداد۴۹۴۵؍ہوگئی ہے جن میں گزشتہ ۲۴؍ گھنٹوں کے دوران سامنے آنے والے۱۰۱؍نئے معاملات بھی شامل ہیں ۔ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ ٹام فلیچر کے مطابق یہ ریکارڈ پر سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’جنگ بندی کی امریکی کوشش جنگ کے نئے مرحلہ کی تیاری ہے‘‘
انہوں نے کہا کہ اس وائرس کے ہم سے مزید آگے نکل جانے سے پہلے ہمیں رفتار، بڑے پیمانے پر اقدامات اور یکجہتی کی ضرورت ہے ۔ یہ ڈی آر کانگو میں ایبولا کی ۱۷؍ ویں وبا ہے ۔ معاملات کی تعداد کے اعتبار سے یہ پہلے ہی ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی وبا بن چکی تھی، جب جولائی کے اواخر میں اس نے سابقہ ریکارڈ عبور کیا تھا۔ حکومت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مہلوکین کی مجموعی تعداد اب ۲۰۱۸ء -۲۰۲۰ء کی وبا کے دوران ہونے والی ۲۲۹۹؍ ہلاکتوں سے تجاوز کرگئی ہے۔ وہ وبا اس وقت تک ملک کی تاریخ کی بدترین ایبولا وبا سمجھی جاتی تھی۔
فلیچر نے وبا پر قابو پانے کی تازہ کوششوں کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آر کانگو میں ایبولا غالب آ رہا ہے۔ ہم وائرس کو اب مزید بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتے ۔ بدھ کو عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس نے کہا تھا کہ موجودہ رفتار برقرار رہی تو یہ وبا۲۰۱۴ء سے۲۰۱۶ءکے مغربی افریقی ایبولا بحران سے بھی زیادہ مہلک ہوسکتی ہے۔ اس بحران میں۱۱؍ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کے نتیجے میں ایبولا ویکسین کی تیاری کیلئے کوششوں میں تیزی آئی تھی۔ موجودہ وبا ایبولا وائرس کی بنڈی بوگیو قسم کی وجہ سے پھیلی ہے جس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سی جے پی کا خوف، راجستھان کے اسکولوں میں باہری افراد کے داخلہ پر پابندی
۱۵؍ مئی کو وبا کے باضابطہ اعلان کے بعد سے اس میں تیزی آئی ہے ۔ کمزور طبی سہولیات، علاقے کا دور دراز ہونا اور جنوبی سوڈان، یوگنڈا اور روانڈا کی سرحدوں کے قریب جاری تنازع نے وبا پر قابو پانے کی کوششوں میں رکاوٹیں پیدا کی ہیں۔ وائرس سے متاثر ہونے کے بعد ہلاک ہونے والے افراد کی شرح یعنی شرحِ اموات جون کے اوائل میں تقریباً۲۰؍ فیصد سے بڑھ کر۴۶؍ فیصد ہوگئی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ تصدیق شدہ مریضوں میں تقریباً ہر دوسرا شخص جان کی بازی ہار رہا ہے ۔ طبی امدادی تنظیم ڈاکٹرز وِداؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) کے ساتھ ڈی آر کانگو میں تعینات صحت عامہ کے ماہر تھامس پیریش نے کہا کہ عام طور پر وبا کے پھیلنے کے ساتھ شرحِ اموات کم ہونی چاہئے کیونکہ متاثرہ افراد سے رابطے کا سراغ لگانے کا عمل بہتر ہوتا ہے اور مریضوں کی جلد شناخت کرکے ان کا علاج شروع کردیا جاتا ہے مگر یہاںحالات بگڑتے ہی جارہے ہیں۔