Updated: April 10, 2026, 9:03 PM IST
| New Delhi
بیورو آف انرجی ایفیشنسی کے ڈائریکٹر جنرل کرشن چندر پانگِگری نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی ایل پی جی کی کمی کے نتیجے میں انڈکشن کُک ٹاپ کے استعمال میں اضافہ ہونے سے ملک میں بجلی کی طلب میں تقسیم کی سطح پر ۱۳؍سے ۲۷؍ گیگا واٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
الیکٹریسٹی۔ تصویر:آئی این این
بیورو آف انرجی ایفیشنسی کے ڈائریکٹر جنرل کرشن چندر پانگِگری نے جمعہ کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی ایل پی جی کی کمی کے نتیجے میں انڈکشن کُک ٹاپ کے استعمال میں اضافہ ہونے سے ملک میں بجلی کی طلب میں تقسیم کی سطح پر ۱۳؍سے ۲۷؍ گیگا واٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔
پانگِگری نے کہا کہ طلب کے اندازے میں ۱۳؍ سے۲۷؍ گیگا واٹ کی بڑی حد کی وجہ مختلف علاقوں کی آب و ہوا میں فرق اور سماجی و اقتصادی حالات کا مختلف ہونا ہے۔رپورٹس کے مطابق پانگِگری نے بتایا کہ طلب میں بڑا تبدیلی ابھی مکمل طور پر سامنے نہیں آیا ہے۔ ہندوستان اپنی ایل پی جی کا تقریباً ۹۰؍ فیصد حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے درآمد کرتا ہے، جو مغربی ایشیائی تنازع کے باعث متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں صارفین نے برقی انڈکشن کُک ٹاپس کی طرف رخ کیا ہے۔
وزارتِ توانائی کے اضافی سیکریٹری پیوش سنگھ نے کہا کہ ہندوستان کو اپریل سے جون کے دوران۲۲؍ گیگا واٹ سے زیادہ صلاحیت شامل ہونے کی توقع ہے، جس میں ۵ء۳؍گیگا واٹ تھرمل توانائی، ۱۰؍ گیگا واٹ شمسی توانائی، ۵ء۲؍گیگا واٹ ہوا سے پیدا ہونے والی توانائی، ۹ء۱؍ گیگا واٹ بیٹری انرجی اسٹوریج اور ۷۵۰؍ میگا واٹ پن بجلی شامل ہے۔ اس کے علاوہ پمپ اسٹوریج اور ہائبرڈ منصوبے بھی ملک کی بجلی کی فراہمی میں اضافی کردار ادا کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ایشین باکسنگ میں ہندوستان کا ڈنکا: ہندوستان نے جیتے ۵؍ طلائی تمغے
مغربی ایشیا کی جنگ کے باعث گیس کی فراہمی میں کمی کو دیکھتے ہوئے، بجلی کی طلب پوری کرنے کے لیے وزارتِ توانائی نے ۱۰؍ گیگا واٹ صلاحیت والے کوئلے پر مبنی پاور پلانٹس کی مرمت کو تین ماہ کے لیے مؤخر کر دیا ہے۔ سنگھ نے کہاکہ ’’اس عرصے میں پلانٹس کی مرمت کی جاتی ہے، لیکن ضرورت اور گیس کی کمی کو دیکھتے ہوئے ہم نے مرمت مؤخر کر دی ہے۔‘‘ انہوں نے اندازہ لگایا کہ اس سال بجلی کی زیادہ سے زیادہ طلب ۲۷۱؍ گیگا واٹ تک پہنچ سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:آئی پی ایل ۲۰۲۶ء: ہسرنگا کی جگہ ایل ایس جی ٹیم میں شامل ہوئے جارج لِنڈے
افسر نے بتایا کہ گیس پر مبنی پاور پلانٹس کو اپنا ایل این جی خود درآمد کرنے کی اجازت دی گئی ہے اور حکومت صلاحیت میں توسیع اور کوئلے کی سپلائی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔عالمی ایل این جی برآمدات ۷؍ مارچ کو ختم ہونے والے ہفتے میں کم ہو کر ۶ء۸؍ملین ٹن رہ گئیں، اور اس کے بعد کے ہفتے میں ۸ء۷؍ ملین ٹن تک آ گئیں، جو فروری ۲۰۲۶ء میں تقریباً ۶ء۹؍ ملین ٹن فی ہفتہ تھیں۔