Inquilab Logo Happiest Places to Work

جسٹس یشونت ورما نقدی برآمدگی تنازع کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ سے مستعفی

Updated: April 10, 2026, 10:12 PM IST | Allahabad

جسٹس یشونت ورما نے نقدی برآمدگی تنازع کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ سے استعفیٰ دے دیا ، تاہم صدر جمہوریہ کو لکھے گئے ان کے استعفیٰ نامے میں مبینہ طور پر استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔

Justice Verma, left, with burnt cash recovered from his house. Photo: INN
جسٹس ورما ، بائیں جانب ان کے گھر سے برآمد جلی ہوئی نقدی۔ تصویر: آئی این این

الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس یشونت ورما نے جمعہ کو صدر جمہوریہ کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا۔ انہیں اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ سے ان کی رہائش گاہ پر مبینہ طور پر نقدی ملنے کے تنازع کے بعد واپس الہ آباد منتقل کر دیا گیا تھا۔صدر جمہوریہ کو لکھے گئے ان کے استعفیٰ نامے میں مبینہ طور پر استعفیٰ دینے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ورما نے اپنے استعفیٰ نامے میں لکھا، ’’اگرچہ میں آپ کے عہدے پر ان وجوہات کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہتا جنہوں نے مجھے یہ خط لکھنے پر مجبور کیا، لیکن شدید افسوس کے ساتھ میں یہاں الہ آباد کی ہائی کورٹ کے جج کے عہدے سے فوری اثر سے استعفیٰ پیش کرتا ہوں۔ اس عہدے پر خدمات انجام دینا اعزاز کی بات تھی۔‘‘واضح رہے کہ جسٹس ورما نے۵؍ اپریل۲۰۲۵ء کو حلف اٹھایا تھا، اور فی الحال وہ داخلی تفتیش کا سامنا کر رہے ہیں، جس میں الزامات کے سلسلے میں ہٹائے جانے کی پارلیمانی کارروائی کا امکان ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ہمایوں کبیر اور بی جے پی کے بڑے لیڈروں کے درمیان کروڑوں روپے کی ڈیل کا دعویٰ

دریں اثناء اس اقدام کے ساتھ، جسٹس ورما موجودہ ججوں کو حاصل آئینی استثنیٰ سے محروم ہو جائیں گے، جس سے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنا اور گرفتاری کی کارروائی ممکن ہو جائے گی۔ تاہم، یہ اقدامات اسی وقت مؤثر ہوں گے جب صدر جمہوریہ ان کا استعفیٰ منظور کریں گے۔یہ بھی یاد رہے کہ گزشتہ سال مارچ میں، دہلی میں جسٹس ورما کی سرکاری رہائش گاہ پر بڑی آگ لگنے کے بعد نقدی کے ڈھیر پائے گئے تھے۔ بعد ازاں تب کے چیف جسٹس نے اس واقعے کا نوٹس لیا اور جسٹس ورما کو دہلی ہائی کورٹ سے الہ آباد ہائی کورٹ منتقل کر دیا، اور وہاں کے چیف جسٹس کو ہدایت کی کہ وہ انہیں کوئی عدالتی ذمہ داری نہ سونپیں۔عدالت نے بعد میں دہلی ہائی کورٹ میں جسٹس ورما سے عدالتی کام واپس لے لیے تھے۔لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے اگست۲۰۲۵ء میں جسٹس ورما کے خلاف الزامات کی جانچ کے لیے تین رکنی پینل تشکیل دیا۔جبکہ ایک غیر معمولی اقدام میں، عدالت نے ان کی رہائش گاہ سے مبینہ طور پر برآمد ہونے والی نقدی کی تصاویر اور ویڈیوز بھی اپ لوڈ کیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: کیا ۹۰؍ سالہ شخص ۴۳؍ سالہ آدمی گود لے سکتا ہے؟ بامبے ہائی کورٹ میں انوکھا مقدمہ

حالانکہ جسٹس ورما نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ نہ تو انہوں نے اور نہ ہی ان کے خاندان نے کبھی اسٹور روم میں نقدی رکھی تھی، اور یہ کہ کمرہ سب کے لیے قابل رسائی تھا۔ان کا استعفیٰ سپریم کورٹ کی جانب سے انہیں راحت دینے سے انکار کے تقریباً سات ماہ بعد آیا ہے، جس نے پارلیمنٹ کے لیے ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کرنے کی راہ ہموار کر دی تھی۔سپریم کورٹ نے اس سے قبل ان کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں انہوں نے داخلی انکوائری رپورٹ کو چیلنج کیا تھا جس میں ان کی رہائش گاہ سے بڑی مقدار میں نقدی برآمد ہونے کے بعد انہیں ہٹانے کی سفارش کی گئی تھی۔ساتھ ہی عدالت نے کہا تھا کہ داخلی کمیٹی کا قیام اور اس کے ذریعے اپنائے گئے تفتیش کے طریقہ کار میں کوئی غیر قانونی بات نہیں تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK