مظفر نگر کے ایک اسکول میں۲۰۲۳ءمیں ٹیچر کے ذریعہ ایک مسلم طالب علم کو ساتھی طلبہ کے ہاتھوں پٹوانے کے معاملے میں عدالت کی ہدایت پر عمل کرتےہوئے اترپردیش حکومت نے بالآخر متاچرہ طالب علم کی تعلیم اور دیگر ضروریات کیلئے ۳۸ء۱؍ لاکھ روپے کی یکمشت رقم منظور کی ہے۔
ملزم ٹیچر اور متاثرہ طالبعلم۔ تصویر: آئی این این
مظفر نگر کے ایک اسکول میں۲۰۲۳ءمیں ٹیچر کے ذریعہ ایک مسلم طالب علم کو ساتھی طلبہ کے ہاتھوں پٹوانے کے معاملے میں عدالت کی ہدایت پر عمل کرتےہوئے اترپردیش حکومت نے بالآخر متاچرہ طالب علم کی تعلیم اور دیگر ضروریات کیلئے ۳۸ء۱؍ لاکھ روپے کی یکمشت رقم منظور کی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایات کے بعد واقعے کے تقریباً ڈھائی سال بعد یہ رقم جاری کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:کارٹونسٹ ستیش اچاریہ کا انسٹاگرام اکاؤنٹ ۳؍ ہفتوں میں دوسری بار ہندوستان میں بلاک
اس سے طالب علم کی اسکول فیس، یونیفارم، کتابوں، اسٹیشنری اور آمدورفت کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔یہ واقعہ اگست۲۳ءمیں مظفر نگر ضلع کے ایک گاؤں میں واقع نیہا پبلک اسکول میں پیش آیا تھا۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر متاثرہ طالب علم کا داخلہ مظفر نگر کے شارڈین اسکول میں کرایا گیا۔ عدالت نے واضح کیا تھا کہ طالب علم کی تعلیم مکمل ہونے تک اس کی فیس، یونیفارم، کتابوں اور آمدورفت سمیت تعلیمی اخراجات حکومت کے ذمہ ہوں گے۔