Inquilab Logo Happiest Places to Work

گنگا پر افطار: وارانسی کی عدالت نے ۱۴؍ مسلمانوں کی ضمانت مسترد کردی

Updated: March 24, 2026, 7:07 PM IST | Lucknow

وارانسی میں دریائے گنگا پر کشتی میں افطار پارٹی کرنے کے الزام میں گرفتار۱۴؍ مسلم افراد کی ضمانت عدالت نے مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ ملزمان کے خلاف الزامات سنگین نوعیت کے ہیں اور اس مرحلے پر انہیں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

Youth arrested for holding Iftar party on a boat in the Ganges River. Photo: INN
دریائے گنگا میں کشتی پر افطار پارٹی کرنے کے الزام میں گرفتار نوجوان۔ تصویر: آئی این این

وارانسی کی ایک عدالت نے پیر کو۱۴؍ مسلم افراد کی ضمانت مسترد کر دی، جنہیں دریائے گنگا میں کشتی پر افطار پارٹی منعقد کرنے اور مبینہ طور پر چکن بریانی کھانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ایڈیشنل چیف جوڈیشل مجسٹریٹ امت کمار یادو نے کہا کہ ملزمان کی جانب سےکئے گئے جرائم’سنگین نوعیت کے ہیں اور ناقابلِ ضمانت ہیں۔ ‘جج نے کہا، ’’کیس کے حقائق اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزمان کو ضمانت دینے کیلئے کوئی خاطر خواہ بنیاد موجود نہیں ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: جموں یونیورسٹی کی محمد علی جناح اور دیگر مسلم مفکرین کو نصاب سے ہٹانے کی سفارش

جن۱۴؍ افراد کی ضمانت مسترد کی گئی، ان میں آزاد علی، عامر کائیکی، دانش سیفی، محمد احمد، نہال آفریدی، محفوظ عالم، محمد انس، محمد اول، محمد تحسیم، محمد احمد عرف راجہ، محمد نور اسماعیل، محمد توصیف احمد، محمد فیضان اور محمد سمیر شامل ہیں۔ انہیں اس وقت گرفتار کیا گیا جب۱۶؍ مارچ کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، جس میں وہ کشتی پر پارٹی کرتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ ان افراد کے خلاف بھارتیہ نیایا سنہتا کی ان دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جو عبادت گاہ کی بے حرمتی، کسی طبقے کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے ارادے سے کئے گئے دانستہ اور بدنیتی پر مبنی اقدامات، اور مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے سے متعلق ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹرز تک مارچ

ان پر عوامی خلل ڈالنے، عوامی پانی کے ذخیرے کو آلودہ کرنے، سرکاری حکم کی خلاف ورزی کرنے اور واٹر پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پولوشن ایکٹ کی دفعات کے تحت بھی مقدمات درج کئےگئے ہیں۔ بعد میں پولیس نے اس مقدمے میں موت یا شدید نقصان کی دھمکی دے کر بھتہ خوری کے الزامات بھی شامل کر لئے۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب کشتی کے مالکان نے الزام لگایا کہ ان افراد نے زبردستی کشتی لے لی تھی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ ۶۷؍، جو الیکٹرانک صورت میں فحش مواد کی اشاعت یا ترسیل پر سزا دیتی ہے، بھی ان پر لاگو کی گئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK