Inquilab Logo Happiest Places to Work

جموں یونیورسٹی کی محمد علی جناح اور دیگر مسلم مفکرین کو نصاب سے ہٹانے کی سفارش

Updated: March 24, 2026, 3:10 PM IST | Jammu

جموں یونیورسٹی کی تشکیل کردہ کمیٹی اے بی وی پی نے ایم اے سیاسیات کے نصاب سے محمد علی جناح اور دیگر مسلم مفکرین کو نصاب سے نکالنے کی سفارش کی ہے۔ تاہم شعبہ سیاسیات کے صدر بلجیت سنگھ مان کا کہنا ہے کہ ایک غیر ضروری تنازع پیدا کیا جا رہا ہے۔

Committee members can be seen protesting. Photo: X
کمیٹی ممبران کو احتجاج کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر: ایکس

دی انڈین ایکسپرس نے پیر کو رپورٹ کیا ہے کہ جموں یونیورسٹی کی طرف سے قائم کردہ ایک کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پاکستان کے سابق صدر محمد علی جناح، مسلم ماہر تعلیم سید احمد خان اور پاکستانی شاعر محمد اقبال سے متعلق موضوعات کو ادارے کے ایم اے سیاسیات کے نصاب سے ہٹا دیا جائے۔ اخبار کے مطابق، سفارش بورڈ آف اسٹڈیز کو بھیج دی گئی ہے، جو منگل کو اس معاملے پر بات کرنے کیلئے اجلاس کرے گا۔ ٹائمز آف انڈیا کی خبر کے مطابق، فزکس ڈیپارٹمنٹ کے پروفیسر نریش پادھا کی قیادت میں کمیٹی، اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کی طرف سے نصاب میں جناح کی سیاسی فکر پر ایک باب شامل کرنے کے خلاف کیمپس میں احتجاج کے بعد تشکیل دی گئی تھی۔

اے بی وی پی، آر ایس ایس کے نظریات کی حامل بر سر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کی طلبہ کی شاخ ہے۔ ان کے حوالے سے دی انڈین ایکسپریس نے کہا، ’’اے بی وی پی کے جموں اور کشمیر کے ریاستی سکریٹری سنک شریوتس، جنہوں نے جمعہ کو احتجاج کی قیادت کی، کہا کہ جناح کا پہلے ’’دو قومی نظریہ‘‘ کے ایک باب میں ذکر کیا گیا تھا۔ لیکن نظر ثانی شدہ نصاب میں، پاکستانی رہنما کا ذکر ’’اقلیت اور اقوام‘‘ کے باب میں نظر آتا ہے۔ اخبار نے رپورٹ کیا کہ شریوتس نے دعویٰ کیا کہ جناح کو ہندوستان میں اقلیتوں کے رہنما کے طور پر پیش کیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: جے پور میں نمازیوں پر پھول برسا کر محبت کا اظہار

دی انڈین ایکسپریس کے مطابق، جموں یونیورسٹی کے شعبۂ سیاسیات کے صدر بلجیت سنگھ مان نے اس سے قبل کہا تھا کہ نصاب میں جناح اور دیگر مفکرین کو شامل کرنا ملک بھر کی یونیورسٹیز میں رائج نصاب اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے اصولوں کے مطابق ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایک غیر ضروری تنازع پیدا کیا جا رہا ہے اور یونیورسٹی کسی بھی نظریہ کو فروغ نہیں دیتی، بلکہ مختلف نقطہ نظر پیش کرتی ہے تاکہ طلبہ تنقیدی انداز میں جائزہ لے سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK