ایپسٹین فائلوں کے حوالے سے’ ونچت بہوجن اگھاڑی‘ اور ’بھارت مکتی مورچہ‘ کے احتجاج کو کانگریس کی بھی حمایت، اجازت نہیں ملی تومظاہرہ، جلسے میں تبدیل ۔
آر ایس ایس کے خلاف جلسے کاایک منظر۔ تصویر:آئی این این
ونچت بہوجن اگھاڑی، بھارت مکتی مورچہ اور کانگریس پارٹی نے مشترکہ طور پر ’ایپسٹین فائلس‘ معاملے پر آر ایس ایس ہیڈکوارٹرز تک احتجاجی مارچ کا اعلان کیا تھا تاہم، ناگپور پولیس نے امن و امان کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے مارچ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔اس انکار کے باوجود پارٹی کارکنان ’سنویدھان چوک‘ پر بڑی تعداد میں جمع ہوئے۔ اس موقع پر پولیس نےبھاری حفاظتی انتظامات کئے تھے،جس کی وجہ سے مظاہرین کو آر ایس ایس کے ہیڈکوارٹرز کی طرف آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔ اس موقع پر ونچت کے سربراہ پرکاش امبیڈکر اور کانگریس کے ریاستی صدر ہرش وردھن سپکال نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے پولیس کی کارروائی پر تنقید کی اور اس مسئلے پر اپنے موقف رکھا۔
ہرش وردھن سپکال نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مرکزی اور ریاستی وزارت داخلہ سچائی کا سامنا کرنے سے گھبرا رہی ہیں،اسلئے اُن کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہم اس مارچ کے ذریعے اپنا موقف رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی تشدد کا سہارا نہیں لیں گے۔ اجازت نہ ملنے پر بھی ہمارا مارچ جاری رہے گا۔‘‘ سپکال نے کھرات معاملے پر بھی وزیر اعلیٰ فرنویس، وزیر اعظم مودی اور حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ وزیر اعلیٰ نے کھرات کیس کیسے ہونے دیا؟ آپ پچھلے ۵؍ سال تک وزیر داخلہ تھے۔ کیا آپ اس وقت سو رہے تھے؟ سپکال نے مزید کہا کہ آر ایس ایس اور کانگریس کے درمیان اختلافات ایک الگ مسئلہ ہے، لیکن تنقید کرنا سیاست کا حصہ ہے۔ ماضی میں جب فرقہ وارانہ فسادات ہوئے تو ہم نے ریشم باغ میں واقع آر ایس ایس ہیڈکوارٹرز تک مارچ کرنے کی کوشش کی تھی۔ جب آر ایس ایس اپنے سو سال مکمل کر رہی تھی، اُس وقت بھی ہم نے آر ایس ایس کے رجسٹریشن کا مطالبہ کیا تھا۔ اُس وقت بھی ہم نے اپنی بات پرامن طریقے سے پہنچائی تھی اور اس بار بھی یہی ہماری کوشش ہے۔ ایپسٹین فائلز جیسے سنگین معاملے میں نریندر مودی کا نام آنا سنگین بات ہے لہٰذا، ہم اس مارچ کے ذریعے اُن کے استعفیٰ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ چونکہ ونچت اور ہمارا موقف ایک ہے اسلئے ہم اس مارچ میں شامل ہیں۔
اس موقع پر ونچت اور بھارت مکتی مورچے کے لیڈروں نے بھی عوام سے خطاب کیا اور الزام لگایا ہے کہ وزیر اعظم سے متعلق ایپسٹین فائلز کیس کو آر ایس ایس دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ خیال رہےکہ پولیس نے امن و امان کا حوالہ دیتے ہوئے پیر ۲۳؍مارچ کو ناگپور میں آر ایس ایس ہیڈکوارٹرز تک اس مارچ کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔ جس کے بعد مظاہرین نے سنویدھان چوک پر ہی احتجاجی دھرنا دیا اور وہیں پر عوام سے خطاب بھی کیا۔