Updated: November 30, 2025, 10:03 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کی فضائی حدود کو مکمل طور پر بند خیال کریں، ٹرمپ نے کمپنیوں، پائلٹوں، منشیات کے اسمگلرز اور انسانی اسمگلرز کو خبردار کرتے ہوئے یہ بیان دیا، اس کے علاوہ انہوں نے اس خطے میں اپنی فوجی اور جنگی جہازوں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے۔
وینزویلا کے صدر نیکولس مدورو۔ تصویر: ایکس
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے سنیچر کو اعلان کیا کہ وینزویلا کے اوپر اور اس کے ارد گرد کی فضاؤں کو مکمل طور پر بند سمجھا جانا چاہیے۔ یہ واشنگٹن اور اس جنوبی امریکی ملک کے درمیان بڑھتے تناؤ کی تازہ ترین کڑی ہے۔ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا کمپنی ٹروتھ سوشل پر لکھا: ’’تمام ہوائی کمپنیوں، پائلٹوں، منشیات کے اسمگلرز اور انسانی اسمگلرز سے گزارش ہے کہ براہ کرم وینزویلا کے اوپر اور اس کے ارد گرد کی فضاؤں کو مکمل طور پر بند سمجھیں۔
واضح رہے کہ یہ اقدام لاطینی امریکہ میں امریکی فوجی آپریشن کے پھیلاؤ کے مہینوں بعد آیا ہے، جس میں میرین، جنگی جہاز، بمبار جہاز، آبدوزوں اور ڈرونز کی تعیناتی شامل ہے، جبکہ قیاس آرائیاں ہیں کہ واشنگٹن وینزویلا پر حملہ کر سکتا ہے۔دریں اثناءاب تک، امریکی فوج نے مشکوک منشیات اسمگلنگ کرنے والے جہازوں پر۲۱؍ حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں کم از کم۸۳؍ افراد ہلاک ہوئے ہیں جنہیں انتظامیہ ’’نارکو دہشت گرد‘‘قرار دے چکی ہے۔بعد ازاں جمعرات کو ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ بہت جلدزمینی سطح پر مشکوک وینیزویلا کے منشیات اسمگلرز کو روکنے کے لیے کارروائی شروع کرے گا۔یہ بیان واشنگٹن کے ذریعےوینزویلا میں قائم کارٹل ڈی لاس سولز کو بطور غیر ملکی دہشت گرد تنظیم تسلیم کرنے کی رسمی نامزدگی کے بعد آیاہے، اس تنظیم کے تعلق سے امریکہ کا الزام ہے کہ ملک کے صدر نیکولس مدورو اور دیگر سینئر اہلکار اس کی قیادت کرتے ہیںحالانکہ وینزویلا کی حکومت نے اس اقدام کو ایک ’’غیر موجود‘‘ سوداگروں کو دہشت گرد گروپ کے طور پر نامزد کرنے کی ایک ’’مضحکہ خیز‘‘ سازش قرار دیا ہے۔