شامی صدر احمد الشرع نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا کہ شمالی شام کا شہر حلب انقلابیوں کے لیے پورے شام میں داخل ہونے کا ’’دروازہ‘‘ ثابت ہوا، یہ بیان انہوں نے معزول صدر بشار الاسد سے شہر کی آزادی کی پہلی سالگرہ کے جشن کے موقع پر دیا۔
EPAPER
Updated: November 30, 2025, 10:01 PM IST | Damascus
شامی صدر احمد الشرع نے سنیچر کو ایک بیان میں کہا کہ شمالی شام کا شہر حلب انقلابیوں کے لیے پورے شام میں داخل ہونے کا ’’دروازہ‘‘ ثابت ہوا، یہ بیان انہوں نے معزول صدر بشار الاسد سے شہر کی آزادی کی پہلی سالگرہ کے جشن کے موقع پر دیا۔
شامی صدر احمد الشرع نےسنیچر کو کہا کہ شمالی شام کا شہر حلب انقلابیوں کے لیے پورے شام میں داخل ہونے کا ’’دروازہ‘‘ ثابت ہوا۔شامی عرب نیوز ایجنسی کے مطابق، انہوں نے یہ بات حلب سے دیے گئے ایک خطاب میں کہی، جو معزول صدر بشار الاسد سے شہر کی آزادی کی پہلی سالگرہ کے جشن کے موقع پر تھی۔واضح رہے کہ جمعرات سے شامی باشندے ’’ردِ جارحیت‘‘ کی لڑائی کی پہلی سالگرہ منا رہے ہیں، جو۲۷؍ نومبر۲۰۲۴ء کو شروع ہوئی تھی اور جس کے نتیجے میں۱۱؍ دنوں کے اندر بشار الاسد کی حکومت کاخاتمہ ہو گیا تھا۔دراصل حلب ان اولین شہروں میں شامل تھا جو آزاد ہوا، کیونکہ ردِِ جارحیت‘‘ کی لڑائی اس کے مغربی دیہی علاقوں سے شروع ہوئی تھی، قبل ازیں کہ دسمبر۲۰۲۴ء کے آغاز میں اس کی آزادی کا باضابطہ اعلان کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: شمالی کوریا : اسکولوں میں’’ روسی زبان ‘‘لازمی مضمون کے طور پر متعارف
میڈیا میں شائع کردہ اپنے خطاب کے اقتباسات میں الشرع نے کہا: ’’حلب کی دیواروں سے ہم نے دمشق کو آزاد ہوتے دیکھا۔ ہمارے لیے حلب پورے شام میں داخل ہونے کا دروازہ تھا۔ جب حلب کی زنجیریں ٹوٹیں تو قیدی رہا ہوئے، اور بچوں کے چہروں پر مسکراہٹیں لوٹ آئیں۔‘‘شرع نے زور دیا کہ ’’سفر کا صحیح آغاز اس وقت ہوا جب حلب آزاد ہوا، اور ہم سب مل کر شام کو نئی شکل میں تعمیر کرنے کے لیے بے انتہا محنتکریں گے۔‘‘انہوں نے مزید کہا: ’’حلب کی آزادی کے بعد، شام کے اپنے آغوش میں لوٹنے سے پوری قوم میں امید کی کرن پھیل گئی۔ آج محض حلب کا جشن نہیں، بلکہ پورے شام اور پورے خطے کے لیے لکھی جانے والی نئی تاریخ کا عنوان ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیل کی جنگ بندی کی خلاف ورزی جاری، شہداء کی تعداد ۷۰؍ ہزار سے تجاوز
تاہم اس سے قبل سنیچر کو شامی سرکاری ٹی وی چینل الاخباریہ نے بتایا تھا کہ’’ الشرع ،آزادی کی سالگرہ کے موقع پر سول اور فوجی اداروں سے ملاقات کے لیے حلب پہنچے ہیں۔‘‘واضح رہے کہ ۲۵؍ سال تک شام کےلیڈر رہنے والے بشار الاسد گزشتہ دسمبر میں روس فرار ہو گئے تھے، جس کے ساتھ ہی ۱۹۶۳ء سے برسراقتدار بعث پارٹی کےاقتدار کا خاتمہ ہو گیا۔بعد ازاں الشرع کی نئی عبوری حکومت جنوری میں تشکیل دی گئی تھی۔