• Sun, 30 November, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ملک میں شہد کی مٹھاس اور کسانوں کی آمدنی بڑھ رہی ہے: وزیراعظم مودی

Updated: November 30, 2025, 9:59 PM IST | New Delhi

وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج ملک شہد کی پیداوار میں نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے اور ملک میں شہد کی مٹھاس بڑھنے کے ساتھ ساتھ کسانوں کی آمدنی بھی بڑھ رہی ہے۔

Narendra Modi.Photo:PTI
نریندر مودی۔ تصویر:پی ٹی آئی

 وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ آج ملک شہد کی پیداوار میں نئے ریکارڈ قائم کر رہا ہے اور ملک میں شہد کی مٹھاس  بڑھنے کے ساتھ ساتھ کسانوں کی آمدنی بھی بڑھ رہی ہے۔ اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام `من کی بات میں پی ایم مودی نے کہا کہ ۱۱؍ سال پہلے ملک میں شہد کی پیداوار ۷۶؍ ہزار ٹن تھی، جو اب بڑھ کر ڈیڑھ لاکھ ٹن سے بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں شہد کی برآمدات بھی تین گنا سے زیادہ ہو چکی ہیں۔ ہنی مشن پروگرام کے تحت کھادی گرام ادیوگ نے بھی ۲۵ء۲؍ لاکھ سے زائد شہد کی مکھیوں کے چھتے لوگوں میں تقسیم کیے ہیں۔ 
وزیراعظم نے کہا کہ اس سے ہزاروں لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع ملے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں شہد کی مٹھاس بڑھ رہی ہے اور یہی مٹھاس کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں ون تُلسی یعنی سُلائی کے پھولوں سے بننے والے سفید شہد، جسے رامبن سُلائی ہنی کہا جاتا ہے، کو جی آئی ٹیگ ملنے کا ذکر کیا۔ جنوبی کنڑا ضلع کے پُتّور کی جنگلی نباتات سے تیار شہد کا حوالہ دیتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ اب یہ شہد  برانڈیڈ  پروڈکٹ کی شکل میں دیہی علاقوں سے شہروں تک پہنچ رہا ہے اور اس اقدام سے ڈھائی ہزار سے زیادہ کسانوں کو فائدہ ملا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:گایتری-ٹریسا نے ڈبلز خطاب برقرار رکھا، سری کانت فائنل میں ہارے

کیرالہ کے ہی تمکور ضلع میں شیوگنگا کالنجیا نامی تنظیم کے بارے میں وزیراعظم نے بتایا کہ یہ تنظیم ہر رکن کو آغاز میں دو  بی باکس  دیتی ہے۔ اس طرح اس تنظیم نے کئی کسانوں کو اپنے مشن سے جوڑ دیا ہے۔ اب اس تنظیم سے وابستہ کسان مل کر شہد نکالتے ہیں، بہترین پیکجنگ کرتے ہیں اور اسے مقامی بازار تک پہنچاتے ہیں جس سے انہیں لاکھوں کی آمدنی ہو رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:ڈجیٹل بینکنگ کے اصول یکم جنوری سے تبدیل ہوں گے، آر بی آئی کی نئی ہدایات جاری

انہوں نے ناگالینڈ کے چوکلانگن گاؤں میں خِیامنی۔یانگن قبیلے کا ذکر کیا اور کہا کہ وہاں شہد کی مکھیاں درختوں پر نہیں بلکہ اونچی چٹانوں پر اپنے چھتے بناتی ہیں، اس لیے شہد نکالنے کا کام بہت خطرناک ہوتا ہے۔ وہاں کے لوگ شہد کی مکھیوں سے پہلے نرمی سے بات کرتے ہیں، ان سے اجازت طلب کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آج وہ شہد لینے آئے ہیں، اس کے بعد ہی شہد حاصل کرتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK