ایران کی کڑی شرطوں کے سبب ویانا مذاکرات ناکام

Updated: December 05, 2021, 7:32 AM IST | vienna

عبوری معاہدے کیلئے تیار کئے گئے ڈرافٹ میں تبدیلی کے مطالبے پر مغربی ممالک کے نمائندے ناخوش، البتہ روس اب بھی پر امید، مذاکرات کا ۸؍ واں دور بھی جلد ممکن

Ali Baqeri, head of the Iranian delegation in Vienna (Photo: Agency)
ویانا میں ایرانی وفد کے سربراہ علی باقری ( تصویر: ایجنسی)

 آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں جاری جوہری مذاکرات بالآخر ناکام ہو گئے ہیں۔ اس کا خدشہ پہلے ہی سے ظاہر کیا جا رہا تھا۔  عالمی طاقتوں کی جانب سے اس کا سبب ایران کے سخت رویے اور اس کی جانب سے رکھی گئی سخت شرطوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ فریقین مسئلے کو حل کرنے کی غرض سے ایک عبوری معاہدے کا ڈرافٹ تیار کر رہے تھے لیکن ایران نے اس میں اپنی طرف سے کئی اہم شرائط کو شامل کرنے پر زور دیا جس کی وجہ سے یہ معاہدہ تیار نہیں ہو سکا۔   
  حالانکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کی جانب سے رکھی گئی شرطیں واجبی ہیں اور اس کا وفد آئندہ مذاکرات کیلئے ویانا ہی میں قیام کرکے گا لیکن مغربی طاقتوں کا کہنا ہے کہ ان کے نمائندے اپنے اپنے وطن لوٹ جائیں گے اور آئندہ یعنی ۸؍ ویں دور کے لئے دوبارہ ویانا آئیں گے۔ حالانکہ اب تک اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ جوہری مذاکرات کا ۸؍ واں دور ہوگا بھی یا نہیں۔   مغربی سفارت کاروں کے مطابق ایران نے ویانا میں عبوری معاہدے کے متن میں کئی بڑی تبدیلیوں کا مطالبہ کیا ہے جو ایک مایوس کن امر ہے۔ انہوں نے  ایران کے مطالبات کو ’تشویش ‘ اور ’مایوسی‘   کا باعث قرار دیا۔ سفارت کاروں کا کہنا تھا کہ ’ایران نے ویانا  مذاکرات  میں ایک خلیج پیدا کر دی ہے اور ہمیں نہیں معلوم کہ اس کا کیا علاج ہو گا۔اس سے قبل فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون نےکہا تھا کہ ویانا میں ایران کے ساتھ مذاکرات کا حالیہ دور کامیاب نہیں رہا۔ انہوں نے مستقبل قریب میں بات چیت کے دوبارہ شروع ہونے کو خارج از امکان قرار دیا۔ ویانا مذاکرات میں چین کے مندوب کا کہنا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے بات چیت کا ایک اور دور آئندہ ہفتے کے وسط میں منعقد ہو گا۔
  ایک رپورٹ کے مطابق  ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کے اوپر عائد پابندیوں کو یکسر اٹھا لیا جائے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ ایران پہلے جوہری معاہدے کی پاسداری کرےیعنی یورینیم افزودگی کو کم کرے اس  کے بعد عالمی طاقتیں   بتدریج اس پر عائد پابندیوں کو ختم کریںگی۔ ساتھ ہی ایران نے معاہدے کی پاسداری کے معاملے میں بھی اس کے ساتھ نرمی برتنے کا  مطالبہ کیا ہے۔   یورپی سفارتکاروں کی شکایت ہے کہ ایران نے گزشتہ ۶؍ ادوار میں ہونے والے مذاکرات میں معاہدے کے تعلق سے جو متن تیار کیا جا رہا تھا اس میں بھی تبدیلی کروانے کی کوشش کی ہے حالانکہ خود ایران حکومت نے اس پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ اس وقت ایران میں حسن روحانی کی حکومت تھی جبکہ اس وقت وہاں ابراہیم رئیسی اقتدار میںہیں۔ 
  ایرانی وفد کے سربراہ علی باقری  نے صحافیوں کے سامنے اس بات کی تصدیق کی کہ تہران کی شرطوں سے یورپی سفارتخار خوش نہیں ہیں۔  علی باقری نے کہا ’’ انہوں نے کہا کہ یہ تجاویز ان کے نقطۂ نظر سے درست نہیں ہیں جبکہ ہم نے ان سے کہا کہ ہم  آپ کے نقطۂ نظر سے تجاویز نہیں پیش کر رہے ہیں بلکہ اپنے نقطۂ نظر اور مفادات کے مطابق پیش کر رہے ہیں جو کہ پوری طرح سے معقول اور فطری ہیں۔‘‘  باقری نے کہا ’’ اہم بات یہ ہے کہ یہ تجاویز ان اصولوںپر مبنی ہیں جو کہ دیگر پارٹیوں کو بھی منظور ہیں۔‘‘ انہوں نے اس بات کا اضافہ کیا کہ ’’  انہیں ( یورپی نمائندوں کو) ان تجاوزیر کے قانونی پہلوئوں پرکوئی اعتراض نہیں ہے۔   اس دورا ن یورپی یونین کے  اسٹیفن لیسٹائنسٹائن نے ایک ٹویٹ کے ذریعے مذاکرات کی ناکامی پر مایوسی کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا ’’ ہم ایران کی جانب سے اس متن میں تبدیلی  کے مطالبے سے مایوس ہیں جو گزشتہ ۶؍ ادوار کی گفتگو کے بعد تیار کیا گیا تھا۔‘‘ اس پر روس کے  نمائندے میخائیل اینالوف نے انہیں ٹویٹر کے ذریعے ہی جواب دیا ’’ مایوسی کا اظہار کرنا جلد بازی ہے۔ کثیرالفریق سفارتکاری میں یہ اصول رہا ہے کہ کوئی راضی نہیں ہے جب تک کہ ہر کوئی راضی نہ ہو۔‘‘  انہوں نے کہا ’’اس لئے اصولاً تبدیلی( متن میں) ممکن ہے۔ البتہ یہ تبدیلی ایسی ہو کہ اس سے معاملات آگے بڑھیں۔‘‘    یاد رہے کہ اس معاملے میں فریق نہ ہونےکے باوجود مداخلت کرنے والے اسرائیل نے ایک روز قبل ہی عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ مذاکرات کو فوری طور پر ترک کر دیں اور اس کے خلاف جنگی کارروائی کریں۔ یہ اسرائیل ہی تھی جس کےکہنے پر امریکہ نے ایران کے ساتھ یہ معاہدہ ختم کر دیا تھا۔  فی الحال کسی بھی ملک کی قیادت نے اس تعلق سے کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ 

iran Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK