ویانا مذکرات :ایران پابندیاں ہٹانے سے کم پرراضی نہیں

Updated: December 02, 2021, 11:46 AM IST | Agency

تہران نے مذاکرات کی شروعات ہی میں سخت موقف اختیار کیا۔ جوہری معاہدے میں کسی نئی شرط کو تسلیم کرنے سے بھی انکار۔ عالمی طاقتوں کو معاہدے کے تعلق سے ’حسن نیت‘ سے کام کرنے کی تلقین۔ روس نےاب تک کی گفتگو کو ’بڑی حد تک‘ کامیاب قرار دیا ، مزید کامیاب بنانے کی کوشش جاری

Iranian Foreign Ministry spokesman Saeed Khatibzada clarified Tehran`s position.Picture:INN
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے تہران کا موقف واضح کر دیا ہے ۔ تصویر: آئی این این

 آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں گزشتہ پیر سے ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات کے ساتویں دور کا آغاز ہو گیا ہے اور اطلاع کے مطابق ایران نے اس میں انتہائی سخت موقف اختیار کیا ہے۔ اس تعلق  سے منگل کے روزایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے باور کروایا ہے کہ ویانا میں تہران کی مذاکراتی ٹیم کی توجہ پابندیوں کے اٹھائے جانے پر مرکوز ہے۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں یہ بھی واضح کیا کہ ایران جوہری معاہدے میں  کسی بھی ایسے امر کی پاسداری نہیں کرے گا جو اس میں پہلے سے شامل نہیں تھا۔ 
 سعید خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکومت سنجیدہ ارادے کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھی ہے۔ اگر دیگر فریق وقت ضائع کرنے کے بجائے پابندیاں اٹھانے کیلئے حسن نیت سےکام کریں تو پھر ہم کہہ سکتے ہیں کہ مذاکرات درست سمت میں جائیں گے۔دوسری جانب ویانا میں روس کے مندوب میخائیل اولیانوف کا کہنا ہے کہ جوہری معاہدے میں شریک فریقوں نے پابندیاں اٹھانے اور جوہری معاملات کے حوالے سے دو ورکنگ گروپوں میں بنا کسی تاخیر کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
  ٹویٹر پر جاری کردہ اپنے بیان میں  اولیانوف    نے کہا کہ ’’ گفتگو  بڑی حد تک کامیاب ہے۔‘‘ واضح رہے کہ اس سے قبل اولیانوف نے باور کروایا تھا کہ ایران اور مغربی فریقوں کے درمیان کئی نکات پر اب بھی بڑا اختلاف پایا جاتا ہے۔ تاہم پیر کے روز امریکی خصوصی ایلچی رابرٹ میلی کے ساتھ ہونے والی بات چیت سے واضح ہو گیا ہے کہ تمام فریق بنا استثنیٰ ایک مثبت نتیجہ حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
 واضح رہے کہ ایران نے پابندیاں اٹھائے جانے کے معاملے کو مذاکرات کی میز پر واپسی کا بنیادی مقصد بتایا ہے۔ وہ مذاکرات شروع کرنے سے پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہے کہ امریکہ پہلے تہران پر عائد پابندیوں کو ختم کرے اس کے بعد کسی معاہدے کی بات کرے۔  دوسری جانب امریکہ بھی  یہ بات کئی بار دہرا چکا ہے کہ بات چیت کا ہدف  جوہری معاہدے میں تہران کی واپسی اور معاہدے کی شقوں کی پاسداری کو یقینی بنانا ہے۔ یاد رہے کہ  اس معاہدے کو ایران نے نہیں بلکہ امریکہ نے ختم کیا تھا اور اس پر معاشی پابندیاں عائد کر دی تھیں جس کے بعد ایران نے دوبارہ یورینیم افزودگی میں اضافہ کر دیا تھا۔ جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے کے بعد امریکہ کے موقف میں تبدیلی آئی اور  رواں سال اپریل میں جوہری معاہدے کو بحال کرنے کیلئے چین ، روس، فرانس، اور  برطانیہ کی موجودگی میں مذکرات شروع ہوئے جس کے اب تک  ۶؍ادوار منعقد ہو چکے ہیں مگر بعض شرائط پر اتفاق نہ ہونے کی صورت میں جون میں مذاکرات کا یہ سلسلہ رک گیا تھا۔  اس دوران ایران میں بھی حکومت تبدیل ہو گئی اور ابراہیم رئیسی اقتدار میں آگئے جس کے بعد ۲۹؍ نومبر سے مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہوا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK