Inquilab Logo Happiest Places to Work

ویتنام :تلاطم خیز سمندر میں ہندوستانی سیاحوں سے بھری کشتی اُلٹ گئی، ۱۵؍ ہلاک ، ۲۱؍ کو بچالیا گیا

Updated: July 12, 2026, 8:18 AM IST | Hanoi

ریسکیو ٹیمیں فوراً پہنچ گئی تھیں لیکن امدادی کارروائی میں اس لئے دشواری پیش آئی کیوں کہ کئی افراد کشتی اُلٹنے کی وجہ سے اس کے اندر پھنسے ہوئے تھے،وزیر اعظم مودی نے اظہار تعزیت کیا

A still image taken from a video of the accident in Vietnam shows the boat upside down.
ویتنام میں ہونے والے حادثے کی ویڈیو سے لی گئی تصویر میں کشتی کو الٹا ہوا دیکھا جاسکتا ہے

ویتنام میں ہندوستانی سیاحوں کو اس وقت خوفناک حادثہ کا سامنا کرنا پڑا جب ان کی ایک کشتی تلاطم خیز لہروں کی وجہ سے  الٹ گئی۔ اس حادثے میں ۱۵؍ ہندوستان سیاح فوت ہو گئے جبکہ ۱۲؍ کو بچالیا گیا لیکن اب بھی کچھ سیاح لاپتہ بتائے جارہے ہیں۔ اس اسپیڈ بوٹ پر تقریباً۳۲؍ سیاح اور عملے کے ۴؍ کارکن سوار تھے۔ یہ حادثہ فو کووک جزیرے کے قریب پیش آیا۔ ہندوستانی سفارت خانہ کے مطابق وہ مقامی حکام کے رابطے میں ہے ۔حکام کے مطابق دوپہر ایک بجے اوشن پیئر آئی لینڈ کمپنی کی ایک اسپیڈ بوٹ سیاحوں کو ہون مے روٹ سے این تھوئی بندرگاہ لے جا رہی تھی۔ یہ مقام فو کووک ہوائی اڈے سے ۲۵؍کلومیٹر دور ہے۔ اسی دوران ہون مے روٹ نگوئی سے تقریباً ۵۰۰؍ میٹر کے فاصلے پر کشتی اُلٹ گئی جس کے باعث اس میں سوار تمام افراد سمندر میں جا گرے۔
  کشتی کو الٹتا دیکھ کر قریب موجود دیگر سیاحتی کشتیاں مدد کے  لئے فوراً پہنچ گئیں۔ ریسکیو میں شامل ایک کشتی کے مالک نے بتایا کہ ان کی کشتی ۵؍ منٹ کے اندر جائے حادثہ پر پہنچ گئی تھی لیکن بچائو کارروائی میں دشواری اس لئے پیش آئی کیونکہ کئی افراد کشتی کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سمندر کی لہروں میں بہت زیادہ تلاطم تھا  اور حادثہ اسی وجہ سے پیش آیا۔ اس تعلق سے کئی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہوئے ہیں۔این تھوئی بارڈر گارڈ نے دوپہر تک اس بدقسمت اسپیڈ بوٹ میں سوار تمام ۳۶؍ افراد کو ساحل تک پہنچا دیا تھا۔ ان میں سے ۲۱؍ افراد کو بچا لیا گیا جبکہ ۱۵؍(۲؍ خواتین اور ۱۳؍ مرد) کی موت کی تصدیق ہوئی۔سفارت خانہ نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کو معلومات فراہم کرنے کیلئے  ہندوستانی قونصل خانہ میں کنٹرول روم قائم کیاگیا ہے۔زیادہ تر سیاح کیرالا اور تمل ناڈو کے بتائے جارہے ہیں۔  

vietnam Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK