Inquilab Logo Happiest Places to Work

ویتنام کا ردعمل، ہندوستانی سیاحوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات مسترد

Updated: April 10, 2026, 5:03 PM IST | New Delhi

ہندوستانی سیاحوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کی خبروں پر ویتنام نے باضابطہ ردعمل جاری کرتے ہوئے اکا دکا واقعات قرار دیا ہے۔ دہلی میں ویتنام کے سفارت خانے نے کہا کہ ملک بین الاقوامی سیاحوں کے لیے محفوظ اور خوش آئند مقام ہے۔ دوسری جانب متعدد ہندوستانی سیاحوں نے اپنے تجربات میں دکانداروں کے نامناسب رویے کی شکایات کی ہیں۔ حکام کے مطابق معاملے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

ہندوستانی سیاحوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کے واقعات کے بعد ویتنام نے باضابطہ طور پر ردعمل جاری کرتے ہوئے ان الزامات کو محدود اور اکا دکا واقعات قرار دیا ہے۔ یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب متعدد ہندوستانی سیاحوں نے اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے شکایت کی کہ انہیں مقامی سطح پر نامناسب رویے کا سامنا کرنا پڑا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق دہلی میں قائم ویتنام کے سفارت خانے نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ویتنام بین الاقوامی سیاحوں، خصوصاً ہندوستان سے آنے والے مہمانوں کے لیے ایک محفوظ، دوستانہ اور خوش آئند مقام کے طور پر جانا جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات اور حالیہ برسوں میں عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے روابط اس باہمی خیرسگالی کی عکاسی کرتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: بہار: مسلم ڈرائیور کا گلا کاٹ کر قتل، ہجوم نے قاتل کوبھی پیٹ پیٹ کر مارڈالا

سفارت خانے نے مزید کہا کہ ’’ابتدائی طور پر اس معاملے کو متعلقہ حکام کے سامنے پیش کیا گیا ہے، جو اس کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں کہ آئندہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔ ہم اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ یہ واقعات عمومی رویے کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ محدود نوعیت کے ہیں۔‘‘ دوسری جانب، کئی ہندوستانی سیاحوں نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں خریداری اور دیگر سرگرمیوں کے دوران امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ 
نوئیڈا سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون سیاح حنا نے بتایا کہ ’’میں ایک دکان میں جوتے دیکھ رہی تھی تو دکاندار نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں ہندوستان سے ہوں۔ جب میں نے تصدیق کی تو اس نے صاف طور پر کہا کہ وہ مجھے کچھ فروخت نہیں کرے گا اور مجھے وہاں سے جانے کیلئے کہا۔‘‘
اسی طرح دہلی سے تعلق رکھنے والی ایک اور سیاح ریا نے کہا کہ ’’جب میں نے قیمت پر بات چیت کرنے کی کوشش کی تو دکاندار نے بات کرنے کے بجائے ترجمہ ایپ کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ ہندوستانی سیاح آ کر صرف وقت ضائع کرتے ہیں۔‘‘
ایک اور سیاح پراچی نے بھی اپنے تجربے میں بتایا کہ ’’میں نے صرف ایک لباس کی قیمت پوچھی تھی، مگر دکاندار نے جواب دینے کے بجائے مجھے جانے کیلئے کہا جبکہ دیگر گاہکوں کے ساتھ ایسا رویہ نہیں تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اجین، ایم پی: امتحانی پرچے میں ”اللہ“ پر سوال پوچھنے پر ہنگامہ، یونیورسٹی نے پروفیسر کو معطل کر دیا

ویتنام میں ہندوستانی سیاح
ان شکایات کے باوجود ویتنام سیاحوں کے لیے ایک مقبول مقام بنا ہوا ہے، جہاں قدرتی مناظر، ثقافتی ورثہ اور شہری زندگی عالمی سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ سیاحتی اعداد و شمار کے مطابق ۲۰۲۶ء کے ابتدائی دو مہینوں میں تقریباً ایک لاکھ ۵۸؍ ہزار ہندوستانی سیاحوں نے ویتنام کا رخ کیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح ۲۰۲۴ء میں ۵؍ لاکھ سے زائد ہندوستانی سیاحوں کی آمد ریکارڈ کی گئی، جو وبا سے قبل کے اعداد و شمار کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
ہنوئی، ہو چی منہ سٹی، دا نانگ اور فو کوک جیسے مقامات خاص طور پر ہندوستانی سیاحوں میں مقبول ہیں، جہاں تفریحی دوروں، سہاگ رات اور شادیوں کی تقریبات کے لیے بھی بڑی تعداد میں لوگ آتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سیاحوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے ساتھ مختلف ثقافتوں کے درمیان بہتر تفہیم اور رویوں میں توازن کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے، تاکہ سیاحت کا تجربہ مثبت اور خوشگوار بنایا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK