ریلوے کے فرضی تتکال ٹکٹو‌ں کے خلاف ویجیلینس کی کارروائی

Updated: September 14, 2020, 12:12 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai

اودھ اور ہاوڑہ ایکسپریس میں دو دنوں تک خصوصی چیکنگ کی گئی۔ دھوکہ بازوں کی تلاش جاری۔ ٹکٹ نہ ملنے سے مسافر پریشان

Indian Railway - Pic : INN
انڈین ریلوے ۔ تصویر : آئی این این

ریلوے میں دلال اور فرضی کاموں میں ماہر کسی نہ کسی طرح سے دھوکہ دہی کا ایسا انداز اپناتے ہیں جو ریلوے انتظامیہ کی بھی نیند اڑا دیتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ ویجیلینس کی دو ٹیموں کے ذریعے کی گئی جانچ کے بعد سامنے آیا اور اودھ ایکسپریس میں سفر کرتے ہوئے۲۰؍ایسے مسافر پکڑے گئے جو رنگین چھاپے گئے فرضی تتکال ٹکٹوں پر سفر کررہے تھے۔ اسی طرح احمدآباد- ہاوڑہ ایکسپریس میں۱۹؍ ایسے مسافروں کی نشان دہی کی گئی جن کی عمریں کم تھیں اور وہ سینئر سٹیزن   کے حساب سے بک کرائے گئے ٹکٹ پر سفر کررہے تھے۔ یہ کارروائی کمرشیل مینیجر پرویز خان (ٹکٹ چیکنگ اسٹاف) کی سربراہی میں کی گئی۔
  مذکورہ بالا تفصیلات ویسٹرن ریلوے کے چیف پی آر او سمیت ٹھاکر نے نمائندہ انقلاب کو بتائیں ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ جانچ ممبئی ڈویژن اور احمدآباد ڈویژن کی سطح پر کی گئی ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ بتائی گئی کہ بار بار یہ شکایت مل رہی تھی کہ یوپی اور ہاوڑہ سے ممبئی اور احمدآباد آنے والی کچھ ٹرینیں ایسی ہیں جس میں خاص طور پر تتکال ٹکٹوں کی کالا بازاری کی جارہی ہے اور کچھ شاطر قسم کے دلال ریلوے کے طرز پر فرضی رنگین تتکال ٹکٹ چھاپ کر مسافروں کو تو لوٹ ہی رہے ہیں وہ ایک طرح سے ریلوے کو بھی چونا لگا رہے ہیں اسی لئے اس پر خاص توجہ دی گئی اور کامیابی بھی ملی۔  انہوں نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ روز دو دنوں کی وجیلینس کی اس مہم سے پہلے وجیلینس ٹیم نے پہلے اس کا خاکہ تیار کیا اور پانچ سو کلومیٹر سے زائد دوری کا سفر کرنے والے مسافروں کو ذہن میں رکھا ۔ 
 چیف پی آر او  کے مطابق  ویجیلینس خاص طور پر ایسے‌ دلالوں کے خلاف جو اس مہارت کے ساتھ ٹکٹوں کی کالا بازاری کر رہے ہیں ،ان کی تہہ تک جانے کے لئے منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ ایسے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کیا جاسکے۔
 ویسٹرن ریلوے کے جنرل مینیجر آلوک کنسل نے مہارت اور باریکی سے جائزہ لے کر خاص طور پر تتکال ٹکٹوں کے سلسلے میں کی گئی ویجیلینس کی کارروائی کی ستائش کی۔انہوں‌نے یہ بھی کہا کہ عام مسافر کو بھی یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ وہ خود بھی دھوکہ دہی کا شکار نہ ہو اور ریلوے ٹکٹ کاؤنٹر اور دیگر مقامات جہاں قانونی طور پر ریلوے نے ٹکٹ خریدنے کی اجازت دی ہے وہیں سے ٹکٹ خریدیں تاکہ وہ دھوکہ نہ کھائیں اور غلط طریقے سے ٹکٹ فروخت کرنے والے دلالوں کو بڑھاوا بھی نہ ملے۔ 
 دوسری جانب ٹرینیں کم ہونے کے سبب مسافروں کو ٹکٹ نہیں مل رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ کوشش کے باوجود جہاں ٹکٹ کی اصل قیمت سے کئی گنا زیادہ دام دینے پر مجبور ہوتے ہیں وہیں ٹکٹوں کا بآسانی نہ ملنا بھی دلالوں کے ذریعے مسافروں کو پھنسانے کا ایک بڑا سبب بن جاتا ہے۔ اسی لئے مسافروں نے ریلوے انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ  وہ  اس جانب بھی توجہ دے تاکہ انہیں سہولت بھی ملے اور وہ ٹھگی کا شکارہونے سے بھی محفوظ رہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK