Inquilab Logo Happiest Places to Work

وجے حکومت نے۱۴۴؍ ووٹوں کے ساتھ اعتماد کا ووٹ حاصل کر لیا

Updated: May 13, 2026, 5:01 PM IST | Chennai

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی قیادت والی تملگا ویتری کژگم (ٹی وی کے) حکومت نے بدھ کو آسانی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کر اپنی اکثریت ثابت کر دی۔

CM Vijay. Photo: INN
سی ایم وجے۔ تسویر : آئی این این

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی قیادت والی تملگا ویتری کژگم (ٹی وی کے) حکومت نے بدھ کے روز۲۳۴؍ رکنی اسمبلی میں اتحادی جماعتوں اور اے آئی اے ڈی ایم کے کے باغی اراکینِ اسمبلی کے تعاون سے آسانی سے اعتماد کا ووٹ جیت کر اپنی اکثریت ثابت کر دی۔وجے کو یہ کامیابی اس وقت ملی جب ۵۹؍ اراکین پر مشتمل اہم اپوزیشن جماعت ڈی ایم کے نے ایوان سے واک آؤٹ کیا، جبکہ اے آئی اے ڈی ایم کے کی اتحادی چار رکنی پٹالی مکل کچی (ڈی ایم کے) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

وجے کی جانب سے اپنی حکومت پر اعتماد کے اظہار کی قرارداد پیش کرنے اور مختلف جماعتوں کے قائدین کے خطاب کے بعد قرارداد پر ووٹنگ کرائی گئی۔ اگرچہ دو متبادل موجود تھے، لیکن اسپیکر جے سی ڈی پربھاکر نے وائس ووٹ کے بجائے حکومت کی حمایت کرنے والوں کی گنتی کرنے کا انتخاب کیا۔ایوان کے ۲۳۲؍ اراکین میں سے۱۷۱؍ اراکین موجود تھے۔  وجے نے ایک نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا اور مدراس ہائی کورٹ نے ٹی وی کے کے ایک ایم ایل اے کو اعتماد کے ووٹ میں حصہ لینے سے روک دیا تھا۔ ایوان میں وجے نے اے آئی اے ڈی ایم کے کے باغی اراکین سمیت ۱۴۴؍اراکین کی حمایت کے ساتھ آسانی سے فلور ٹیسٹ جیت لیا، جبکہ اس کی مخالفت میں ۲۲؍ ووٹ پڑے اور پانچ اراکین غیر جانبدار رہے۔

یہ بھی پڑھئے : عوام سے بیرون ملک سفر سے گریز کی اپیل کے بعد جمعہ کو وزیراعظم کی یو اے ای روانگی

قرارداد کی حمایت کرنے والے ۱۴۴؍ اراکینِ اسمبلی میں ٹی وی کے کے ۱۰۴؍ اراکین (اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور عدالت کی طرف سے روکے گئے ایک رکن کے علاوہ)، پانچ حمایتی جماعتوں کے ۱۳؍اراکین، اے ایم ایم کے کا ایک اور بقیہ اے آئی اے ڈی ایم کے کے باغی اراکین شامل تھے۔
 وجے کی قیادت والی چار دن پرانی حکومت کے لیے یہ پہلی اور شاندار جیت ہے، جن کی پارٹی ۱۰۸؍ اراکین کے ساتھ سب سے بڑی جماعت کے طور پر ابھری تھی لیکن اکثریت سے پیچھے تھی۔ گورنر آر وی آرلیکر کی جانب سے حکومت بنانے کی دعوت دیے جانے کے بعد، انہوں نے ہدایات کے مطابق مطلوبہ تعداد جمع کر کے اپنی طاقت ثابت کی۔وجے کے ذریعے قرارداد پیش کیے جانے کے بعد، کانگریس، سی پی آئی، سی پی آئی (ایم)، وی سی کے اور انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) سمیت حمایتی جماعتوں کے قائدین نے وزیر اعلیٰ کے حق میں بولتے ہوئے اپنی حمایت کا یقین دلایا تاکہ بی جے پی کو دور رکھا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے : نیٹ پیپر لیک پر چوطرفہ تنقید، اپوزیشن نے حکومت کو نشانہ بنایا

اے آئی اے ڈی ایم کے کی قیادت والے اتحاد کے حلیف اے ایم ایم کے کے نکالے گئے واحد رکنِ اسمبلی کامراج نے کچھ رکاوٹوں کے باوجود وجے کو اپنی حمایت دینے کا عہد کیا۔ اس کے بعد اتحادی جماعت پی ایم کے کی لیڈر سومیا انبو منی نے وزیر اعلیٰ کے بعض فیصلوں، خصوصاً دو ہفتوں میں ریاستی ملکیت کی ۷۱۷؍ شراب دکانیں بند کرنے کے حکم، کی ستائش کی اور اعلان کیا کہ پی ایم کے کے چار اراکین ووٹنگ سے دور رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK