وکھرولی : دلخراش حادثہ میں ۳؍ خاندان موت کی نیند سوگئے

Updated: July 19, 2021, 11:39 AM IST | Agency | Vikhroli

پہاڑی کی حفاظتی دیوارمنہدم ہونے اور مٹی بہنے کا واقعہ اس وقت ہوا جب سوریہ نگر کے مکین نیند کی آغوش میں‌ تھے۔ مقامی افراد نے بی ایم سی پر لاپروائی کاالزام عائد کیا ، کہا : مانسون سے قبل اعلان کیا گیا ، اگر عملی قدم اٹھایا گیا ہوتا تو اتنے لوگ ہلاک نہ ہوتے

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

  یہاں  کے مغربی علاقے سوریہ نگر کی  پنچ شیل چال  کے مکینوں پرگزشتہ شب  انتہائی تباہ کن ثابت ہوئی ۔ طوفانی بارش کے دوران شب میں۲؍ بجکر ۴۰؍منٹ پر پہاڑکی  حفاظتی دیوار کا حصہ اچانک گرگیا  اور اس سے مٹی بہنے کے سبب۶؍مکانات اس کی زد میں آگئے ۔ اس حادثہ میں۱۰؍شدید زخمی ہوگئے۔  انہیں راجہ واڑی اور مہاتما پھلے اسپتال لے جایا گیاتھا جہاں ڈاکٹروں نے معائنے کے بعد انہیں مردہ قرار دے دیا ۔اس حادثے میں راجو دوبے نام کا۴۰؍ سالہ شخص  خوش نصیب ثابت ہوا جسے اس حادثے میں معمولی زخم آئے تھے اور اس کو علاج کے بعد اسپتال سے چھٹی دے دی گئی۔‌اس حادثے کے بعدعلاقے میں افراتفری مچ گئی اور بچاؤ بچاؤ کی آوازیں بلند ہونے لگیں جس پر لوگ دوڑے۔  وکھرولی  میں ہوئےدلخراش حادثے میں جو لوگ فوت ہوئے ہیں، ان کے نام مہاتما پھلے اسپتال کی ڈاکٹر سویتا نے یہ بتائے ہیں:  انکیتا رام ناتھ تیواری(۲۳؍ سال )، رام ناتھ راج نارائن تیواری (۴۵؍ سال ) ، انیش وشوکرما(۱۹؍ سال)، پرنس ہنسراج وشوکرما(۱۱؍ سال) ، صاحب راؤ جادھو(۴۴؍ سال ) ، کلپنا جادھو(۳۴؍ سال ) اور کویتادیوی رام ناتھ تیواری(۴۲؍ سال ) اور دیگرافراد شامل ہیں۔ جائے حادثہ پر موجود وارث علی شیخ نے بتایا کہ حادثہ  بہت بھیانک تھا ۔لوگ یہ دیکھ کر حیران تھے کہ کیا یہ وہی سوریہ نگر کا حصہ ہے جہاں مکانات کے بجائے اب نشانات دکھائی دے رہے ہیں اور حسرت ویاس کی تصویر بنے ایک دوسرے کو تک رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ لوگ کہہ رہے تھے کہ حادثے میں۹؍ لوگ فوت ہوئے ہیں۔ اس دوران ایک ایسا گھر جو مٹی اور کیچڑ میں‌ تبدیل ہوگیا تھا ، لوگوں کی نشاندہی اور وہاں کسی کے ملبے میں‌ دبے ہونے کے اندیشے کے پیش نظر بچاؤ کا کام کرنے والا عملہ پوری جانفشانی سے ملبہ ہٹانے میں ‌مصروف تھا۔اس دوران مقامی نوجوانوں کی انسانیت کے جذبے کے تحت بے لوث خدمت قابل ستائش ہے ۔ اس انتہائی درد ناک حادثے میں جہاں ۳؍ خاندان ختم ہوگئے وہیں کچھ ایسے خوش نصیب بھی تھے کہ تیز بارش کا سلسلہ شروع ہونے پر وہ اپنے گھروں سے نکل گئے تھے ورنہ شاید مہلوکین کی تعداد بڑھ جاتی۔ جائے حادثہ پر صورتحال یہ تھی کہ فائر بریگیڈ اور مقامی لوگ جنگی پیمانے پر راحت اور بچاؤ کے کام میں مصروف نظر آئے لیکن مٹی اور کیچڑ کے سبب راحت رسانی میں کافی دشواری پیش آرہی تھی۔ ایک مکان کا حصہ تو اس قدر مٹی اور کیچڑ میں دب گیا تھا کہ اسے دیکھنے سے یہ اندازہ ہی نہیں ہو رہا تھا کہ یہ مکان تھا۔ حالانکہ لوگوں کی نشاندہی پر وہاں تیزی سے بچاؤ کا کام کیا جا رہا تھا۔   سوریہ نگر میں جہاں یہ حادثہ پیش آیا وہاں راستہ بہت خراب ہے اور اونچائی بھی زیادہ ہے اس لئے عملے کو راحت اور بچاؤ کے لئے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
 مقامی لوگوں نے شہری انتظامیہ پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ بی ایم سی کی جانب سے حفاظتی انتظامات نہ کئے جانے  اور اس طرح کے مقامات پر احتیاطی قدم نہ اٹھائے جانے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ کئی زندگیاں چند لمحے میں تلف ہو گئیں ۔ مقامی لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر مانسون سے قبل اعلان کے بجائے صحیح معنوں میں عملی قدم اٹھانے پر توجہ دی گئی ہوتی تو ۳؍ خاندان آج ختم نہ ہوتے۔ اس حادثے کے بعد خبر لکھے جانے تک راحت اور بچاؤ کا کام جاری تھا۔ ملبہ ہٹایا جاریا تھا۔ جائے حادثہ کو گھیر دیا گیا تھا اور پولیس کے جوان وہاں پہرہ دے رہے تھے۔ اس کے علاوہ حادثے کے قریب دیگر مکینوں کو بھی اپنے مکانات وقتی طور پر خالی کرنے کیلئے کہا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK