Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال میں کئی جگہوں پر تشدد ، ۹۱؍ فیصد پولنگ

Updated: April 29, 2026, 11:53 PM IST | Kolkata

دونوںمرحلوں میں مجموعی طور پر ۹۲ء۴۷؍ فیصد پولنگ ہوئی،مرکزی فورسیز پر ووٹرس کو دھمکانے کا الزام ، ایک ووٹر کی موت، ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی نے برہمی ظاہر کی

Queues of voters can be seen at a polling center in Kolkata for the second phase of polling. (Photo: PTI)
دوسرے مرحلے کی پولنگ کیلئے کولکاتا کے ایک پولنگ سینٹر پر ووٹرس کی قطاریں دیکھی جاسکتی ہیں۔(تصویر: پی ٹی آئی )

 مغربی بنگال اسمبلی الیکشن  کے دوسرے مرحلے میں ۱۴۲؍ سیٹوں پر ہونے والے پولنگ میں ۹۱ء۶۲؍ فیصد ووٹروں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ ووٹنگ صبح سات بجے شروع ہوئی تھی اور شام چھ بجے تک جاری  رہی۔ریاست کے مشرقی بردھمان ضلع میں سب سے زیادہ جبکہ کولکاتا جنوبی ضلع میں سب سے کم  فیصد ووٹنگ درج کی گئی۔ اس دوران بعض علاقوں میں ووٹنگ کے وقت جھڑپوں اور کشیدگی کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں، تاہم دیگر حلقوں میں ووٹنگ پُرامن طریقے سے جاری رہی۔ 
 پولنگ مراکز پر ووٹروں کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں اور بنگال کے عوام نے جمہوریت کے اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ یاد رہے کہ پہلے مرحلے میں ۹۳؍ فیصد پولنگ ہوئی تھی اور اس طرح دونوں مرحلوں میں مجموعی طور پر۹۲ء۴۷؍ فیصد پولنگ ہوئی ہے۔ آزادی کے بعد سے یہ بنگال میں پولنگ کا سب سے زیادہ فیصد ہے۔ ویسے یہ واضح رہے کہ بنگال میں ماضی کے انتخابات میں بھی پولنگ فیصد ۷۵؍ سے زائد ہی رہا ہے لیکن اس مرتبہ ایس آئی آر کو وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ 
 ادھرمغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر منوج کمار اگروال نے کہا کہ جہاں کہیں بھی مشینوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی اطلاعات ملی ہیں، چاہے ٹیپ لگانے کے ذریعے ہو یا کسی اور طریقے سے وہاں ہم دوبارہ ووٹنگ کرائیں گے۔ ہم نے پہلے دن سے اعلان کیا ہے کہ ہم بنگال میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانا چاہتے ہیں۔ ہم شکایات کا جائزہ لیں گے اور جمعرات کو دوبارہ ووٹنگ کا اعلان کریں گے۔
 واضح رہے کہ مغربی بنگال کے مختلف علاقوں میں ووٹنگ کے دوران تشدد اور ہنگامہ آرائی کے واقعات سامنے آئے، جس نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوالات کھڑے کر دیے۔ اطلاعات کے مطابق ضلع نادیہ کے چاپڑا اور شانتی پور، ہگلی کے خاناکل، جنوبی ۲۴؍ پرگنہ کے بھنگر اور بسانتی کے علاوہ کولکاتا کے شیام بازار، اقبال پور اور بھبانی پور جیسے علاقوں میں کشیدگی اور توڑ پھوڑ کی خبریں ملیں۔ خاص طور پر بھبانی پور، جہاں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی انتخابی میدان میں ہیں، حالات کافی کشیدہ رہے۔ یہاں اس وقت حالات بگڑ گئے جب بی جے پی لیڈر سوویندو ادھیکاری جے ہند بھون پولنگ بوتھ پر پہنچے۔ ان کی آمد کے بعد ترنمول کانگریس کے حامیوں نے، جن کی قیادت کاجوری بنرجی کر رہی تھیں، ’’جے بنگلہ‘‘ کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ کاجوری بنرجی مقامی کونسلر ہیں اور ممتا بنرجی کے بھائی کارتک بنرجی کی اہلیہ بھی ہیں۔صورتحال کو قابو میں کرنے  کے لئے مرکزی  دستوں کی بھاری نفری فوری طور پر تعینات کی گئی۔ سوویندو ادھیکاری نے الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کی اپیل کی، جس کے بعد مرکزی فورسز نے لاٹھی چارج کرتے ہوئے مشتعل ہجوم کو منتشر کر دیا۔ یہ جھڑپیں ہریش مکھرجی روڈ اور کالی گھاٹ روڈ کے آس پاس کے علاقوں میں ہوئیں جو حکمراں جماعت کے مضبوط گڑھ مانے جاتے ہیں اور جہاں ممتا بنرجی اور ابھیشیک بنرجی کی رہائش گاہیں بھی واقع ہیں۔تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہنے والی اس کشیدگی نے ووٹرز میں خوف و ہراس پیدا کر دیا، جس کے باعث پولنگ اسٹیشنوں کے باہر قطاروں میں کھڑے لوگوں میں بے چینی پھیل گئی۔ادھر انٹالی میں بی جے پی امیدوار پرینکا تیبریوال کی پولنگ افسران اور سیکوریٹی اہلکاروں کے ساتھ تکرار ہو گئی۔ اسی درمیان ابھیشیک بنرجی نے ٹویٹ کیا اور بتایا کہ ایک معمر ووٹر جو کسی سہارے کے بغیر نہیں چل سکتا تھا اسے مرکزی فورسیز کے جوانوں نے دھکا مارکر گرادیا جس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی ۔ ابھیشیک بنرجی نے اس ووٹر کی تصویر بھی شیئر کی اور مرکزی حکومت سے جواب مانگا ہے۔ ممتا بنرجی نے بھی اس معاملے میںباقاعدہ بیان جاری کیا ہے۔  

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK