سری لنکا میں پابندیوں کےباوجود تشدد

Updated: May 13, 2022, 12:03 PM IST | Agency | Colombo

املاک اور گاڑیوں پر آتش گیر مادے سے حملے کئے جارہےہیں ۔بدامنی کے درمیان سری لنکا کے صدر کاپہلا خطاب

A roadside security guard is seen in Colombo..Picture: PTI/AP
کولمبوکی ایک سڑ ک پرسیکوریٹی اہلکار نظر آرہےہیں۔ تصویر: پی ٹی آئی/ اے پی

  سری لنکا میں پابندیوں کے درمیان  بدامنی کا ماحول ہے۔ مظاہرین بے قابو ہوگئے ہیں۔ املاک اور گاڑیوں  پر حملے کررہے ہیں۔ قبل ازیں سری لنکا کے صدر نے  بدامنی کے درمیان پہلی مرتبہ عوام سے خطاب کیا  ۔   میڈیارپورٹس سری لنکا میں ملک گیر کرفیو کے باوجود حملے اور مظاہرے جاری ہیں۔ مظاہرین  املاک اور گاڑیوں پر آتش گیر مادے سے حملے کر رہےہیں۔ قبل ازیں سیکوریٹی فورسیز کو شرپسندوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کا حکم دیا گیا  ۔ اس کے باوجود مظاہرے  جاری ہیں ۔ پرتشدد مظاہروں میں اب تک ۹؍افراد ہلاک اور۲۰۰؍ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ قبل ازیں بدھ کی رات کو سری لنکا کے صدر گوٹابایا راجا پکسے نے قوم سے خطاب کیا  جس میں انہوں نے شدید مطالبے کے باوجود مستعفی ہونے کے معاملے کو یکسر نظر انداز کردیا جس پر شہری انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ مظاہروں کے آغاز کے بعد اپنے  پہلے قومی خطاب میں صدارت کے کچھ اختیارات پارلیمنٹ کو دینے کی پیشکش کی ہے لیکن  اس کا کوئی  وقت طے نہیں کیا ہے۔ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تقریر میں گوٹابایا راجا پکسے نے کہا ،’’ میں ایک ایسے وزیر اعظم کا نام دوں گا جو پارلیمنٹ میں اکثریت اور عوام کا اعتماد حاصل کرے گا۔‘‘ انہوں نے اپنے بڑے بھائی مہندا راجاپکسے کے استعفیٰ کے بعد سری لنکا کے نئے وزیر اعظم کا نام نہیں بتایا، مہندا راجاپکسے نے نئی کابینہ کی تشکیل کیلئے وزیر اعظم کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ادھر سری لنکا کی فوج کے مطابق مستعفی وزیر اعظم مہندا راجا پکسے نے ایک بحری اڈے میں پناہ لے لی ہے۔ گوٹابایا راجاپکسے نے۲۰۱۹ء کے انتخابات کے فوراً بعد اپنی جمہوری اصلاحات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ،’’میں پارلیمنٹ کو مزید اختیارات دینے اور آئین میں۱۹؍ویں ترمیم کے اہم نکات کے نفاذ کیلئے کام کروں گا۔‘‘ 
 گوٹابایا راجاپکسے نے کہا کہ انہیں اس بات کو یقینی بنانے کیلئے عوام کی حمایت کی ضرورت ہے کہ ملک نہ ٹوٹے اور ہم سب کو ضروری اشیاء فراہم کرنے کے قابل ہیں۔  ادھر سری لنکا کے وہ لوگ جو ان سے سنگین معاشی بحران پر ان کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے ہیں، صدر کے خطاب سے بالکل متاثر نہیں ہوئے۔سری لنکا کے شہریوں کا کہنا ہے کہ انہیں اصلاحات کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ صدر کا استعفیٰ ہے۔  جمعرات کو دارالحکومت کولمبو کے وسط میں آہنی رکاوٹوں اور جلی ہوئی بسوں کے درمیان فوجی کھڑے نظر آئے جو  خونریز جھڑپوں کے بعد تقریباً ویران سڑکوں کی حفاظت  پر مامور رہے۔
 گزشتہ۳؍ روز سے بدامنی پر قابو پانے کی کوششوں کے بعد سیکوریٹی فورسیز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسے افراد کو دیکھتے ہی گولی مار دیں جو آتشزنی میں ملوث ہوں یا مزید تشدد اور انتشار پھیلا رہے ہوں۔ مظاہرین  دارالحکومت کولمبو میں صدر  کے دفتر کے باہر ایک ماہ سے زائد عرصے سے ڈٹے ہوئے ہیں تاکہ ان پر مستعفی ہونے کیلئے دباؤ ڈال سکیں۔  ملک بھر میں حکومت کے حامیوں کی جانب  سے صدر  مخالف مظاہرین پر حملہ کرنے کے بعد سے کرفیو نافذ ہے جس کے نتیجے میں مشتعل ہجوم نے بھی جوابی کارروائیاں کی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK