عمران خان پر حملے کے خلاف پاکستان میں شدید احتجاج

Updated: November 05, 2022, 1:30 PM IST | Agency | Islamabad

اسلام آباد میں لاک ڈائون نافذ کرنے کی نوبت، پی ٹی آئی کارکنان کا پنجاب گورنر ہائوس کا محاصرہ، گیٹ پر پارٹی کا جھنڈا لگا دیا، کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین میں تصادم

On Friday, PTI workers blocked the roads in most parts of Pakistan.Picture:Agency
جمعہ کو پاکستان کے بیشتر مقامات پر پی ٹی آئی کارکنان نے سڑکیں جام کردیں تصویر:ایجنسی

پاکستان کے سابق وزیر اعطم عمران خان پر ہوئے حملے کے خلاف ان کی پارٹی کے کارکنان پورے پاکستان میں احتجاج شروع کر دیا جس کا اعلان پی ٹی آئی لیڈروں نے پہلے ہی کر دیا تھا۔ اس احتجاج کی وجہ سے کئی شہروں میں حالات بے قابو ہو گئے ہیں جبکہ ملک کی راجدھانی اسلام آباد میں لاک ڈائون لگا دیا گیا ہے۔  پارٹی کارکنان نے پنجاب کے گورنر ہائوس کا  محاصرہ کر لیا  اور اس کے گیٹ پر پارٹی کا جھنڈا لگا دیا۔ اس کے علاوہ کئی جگہوں پر پتھرائو کے واقعات پیش آئے جبکہ بعض مقامات پر پولیس نے شیلنگ کی۔ 
  اسلام آباد میں لاک ڈائون
   پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں  پولیس کیلئے مظاہرین کا سامنا کرنا مشکل ہو گیا ہے جس کی وجہ سے یہاں لاک ڈائون کا اعلان کر دیا گیا ہے۔  یاد رہے کہ اسلام آباد کئی شہروں سے متصل ہے جن میںسب سے قریب راولپنڈی  ہے۔ پولیس نے اسلام آباد کی طرف جانے والے راستوں کو بند کر دیا تو مظاہرین نے راولپنڈی کی حد پر کھڑے ہو کر اسلام  آباد میں کے اندر موجود پولیس پر پتھرائو شروع کر دیا۔  اسلام آباد پولیس نے راولپنڈی  انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ  ان مظاہرین کو  راجدھانی میں داخل ہونے سے روکے اور انہیں کوئی غیر قانونی کام نہ کرنے دے۔ بیرونی عناصر کے شہر میں داخل ہونے کا خدشہ محسوس کرتے ہوئے  انتظامیہ نے  اسلام آباد میں لاک ڈائون کا اعلان کر دیا ہے۔ اعلان میں کسی تاریخ کا تذکرہ نہیں ہے بلکہ صرف حکم جاری کیا گیا ہے کہ پانی ، راشن اور میڈیکل جیسی سہولیات کے علاوہ دیگر تمام کاروبار بند رہیں گے۔ کہا جا رہا ہے کہ لاک ڈائون کا حکم خود پاکستانی  وزیراعظم شہباز شریف نے دیا ہے۔ 
 پنجاب کے گورنر ہائوس پر پی ٹی آئی کا جھنڈا
   عمران خان پر حملہ گوجرانوالہ شہر  میں ہوا تھا جو کہ پاکستان کے پنجاب صوبے میں ہے ۔ لہٰذا اس صوبے میں احتجاج کا سب سے زیادہ اثر دکھائی دے رہا ہے۔  یہاں جمعہ کو پی ٹی آئی کارکنان نے گورنر ہائوس کا محاصرہ کر لیا تھا اور اس کے گیٹ پر اپنی پارٹی کا پرچم لگا دیا تھا۔ پولیس نے اس پرچم کو اتار دیا جس پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان ’تو تو میں میں‘ شروع ہو گئی۔ کچھ دیر بعد  پی ٹی آئی کارکنان نے پھر یہ پرچم گورنر ہائوس کے گیٹ پر لگا دیا۔  ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب گورنر ہائوس پر لوگوں نے آتش زنی کی کوشش بھی کی لیکن پولیس نے انہیں ناکام بنا دیا۔  گورنر ہائوس کے اہلکاروں نے خود  اندر بند کر لیا ہے اور صدر دروازے کو بھی اندر سے تالا لگا دیا گیا ہے۔ خبر لکھے جانے تک ملی آخری اطلاع کے مطابق پولیس نے ان مظاہرین کو گورنر ہائوس کے  پاس سے منتشر کرنے میں کامیابی حاصل کر لی تھی جسکے بعد وہ سڑک پر جا کر احتجاج کر رہے تھے۔  
  فیض آباد میں پولیس کی شیلنگ
  اسلام آباد سےمتصل فیض آباد علاقے میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی خبر ہے جس کی وجہ سے پولیس کو وہاں شیلنگ بھی کرنی پڑی۔  اطلاع کے مطابق  یہاں پولیس نے مظاہرین کو روکنے کی کوشش کی تو  انہوں نے پولیس پر پتھرائو شروع کر دیا جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے چھوڑنے شروع کر دیئے۔   اس کی وجہ سے تھوڑی دیر کیلئے علاقے میں تصادم کا  منظر دیکھنے کو ملا۔ ایک طرف سے مظاہرین  پتھرائو کر رہے تھے تو دوسری طرف پولیس   ان  پر شیلنگ کر رہی تھی۔ خبر لکھے جانے تک وقفے وقفے سے یہ تصادم جاری تھا۔ 
 دیگر مقامات پر احتجاج
  اس کے علاوہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی اسی طرح کا منظر دیکھنے کو ملا۔ یہاں  شاہراہ عام پر   پی ٹی آئی کارکنان احتجاج کر رہے تھے لیکن پولیس نے انہیں روکنے کی کوشش کی جس کی وجہ سے مظاہرین اور پولیس کے درمیان تصادم شروع ہو گیا۔ لیکن بہت جلد اس پر قابو پا لیا گیا۔ یاد رہے کہ کراچی صوبہ سندھ  میں واقع ہے۔ جبکہ عمران خان کے آبائی صوبے خیبر  پختونخوا   کے کوہاٹ علاقے میں بھی  پی ٹی آئی کارکنان نے  ریلی نکالی، دھرنے دیئے اور  سڑکیں جام کرنے کی کوشش کی ۔ یہاں پولیس کے ساتھ مظاہرین کا تصادم دیکھنے میں نہیں آیا یعنی احتجاج پوری طرح سے  قابو میں رہا۔ 
 مطالبہ پورا ہونے تک احتجاج
  پی ٹی آئی لیڈر فواد چودھری نے جمعہ کو ٹویٹ کے ذریعے   عمران خان پر حملے کے خلاف جمعہ کی نماز کےبعد احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ جب تک عمران خان کا مطالبہ پورا نہیں ہو جاتا اس وقت تک پارٹی کا احتجاج جاری رہے گا۔ یاد رہے کہ عمران خان  گزشتہ کئی ماہ سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ملک میں جلد از جلد الیکشن کروائے جائیں۔ پارٹی نے ایک اور اعلامیہ میں کہا ہے کہ  عمران خان کا لانگ مارچ جو ان پر ہونے والی فائرنگ کے سبب رک گیا ہے دوبارہ جاری ہوگا اور اپنا مقصد حاصل کرنے تک جاری رہے گا۔ 
 صوبہ پنجاب کے آئی جی کو ہٹانے کا مطالبہ
عمران خان پر حملہ صوبہ پنجاب میں ہوا تھا جس کی وجہ سے  پی ٹی آئی لیڈران مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ پنجاب کے آئی جی ( انسپکٹر جنرل) کو فوری طور پر ان کے عہدے سے ہٹایا جائے۔  پاکستان میں اس بات پر بھی سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ حملہ آور نے تفتیشی افسران کے سامنے جو بیان دیا اس کا   ویڈیو عوامی سطح پر کیسے جار ی کر دیا گیا؟  اس بات پر بھی لوگ ناراض ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK