عمران خان کی بہن نورین نیازی نے خان کو ”رات کی تاریکی میں“ اسلام آباد کے پی آئی ایم ایس اسپتال لے جانے اور وہاں صرف تین گھنٹے رکھنے کے بعد واپس جیل منتقل کر دینے کے واقعے کو ”انتہائی پراسرار اور خوفناک خاموشی“ میں لپٹا ہوا قرار دیا۔
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 9:59 PM IST | Islamabad
عمران خان کی بہن نورین نیازی نے خان کو ”رات کی تاریکی میں“ اسلام آباد کے پی آئی ایم ایس اسپتال لے جانے اور وہاں صرف تین گھنٹے رکھنے کے بعد واپس جیل منتقل کر دینے کے واقعے کو ”انتہائی پراسرار اور خوفناک خاموشی“ میں لپٹا ہوا قرار دیا۔
پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی دائیں آنکھ میں `سینٹرل ریٹینل وین اکلوژن` (CRVO) نامی ایک سنگین بیماری کی تشخیص ہوئی ہے جس کا اگر بروقت علاج نہیں کیا گیا تو وہ بینائی سے محروم ہوسکتے ہیں۔ اس انکشاف کے بعد خان کی صحت اور ان کی قید کے حالات کے بارے میں نئے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
خان کی سیاسی جماعت، پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) نے حکام پر بروقت طبی امداد کی فراہمی سے انکار اور شفافیت کی کمی کا الزام لگایا ہے۔ پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ جیل میں خان کا معائنہ کرنے والے طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ریٹنا کی رگ میں رکاوٹ کا فوری اور مناسب علاج نہیں کیا گیا تو ”ان کی بینائی کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پارٹی عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ خان پہلے ہی دھندلی بینائی کے مسئلے کا سامنا کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: آسٹریلیا: اسلام مخالف بیانات دینے پراسرائیلی انفلوئنسر کا ویزا منسوخ
خان کو رات میں اسپتال لے جایا گیا
جمعرات کو پی ٹی آئی نے تصدیق کی کہ خان کو آنکھ کے علاج کیلئے اڈیالہ جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا۔ پارٹی کا کہنا تھا کہ یہ منتقلی ان کے اہلِ خانہ، قانونی مشیروں یا سیاسی نمائندوں کو پیشگی اطلاع دیئے بغیر کی گئی، جس سے ان کی صحت کے متعلق مزید خدشات پیدا ہوئے۔ اگرچہ حکومت نے بعد میں اسپتال دورے کو معمول کی کارروائی قرار دیا، لیکن پی ٹی آئی لیڈران نے سوال اٹھایا کہ کسی قسم کی تصدیق شدہ طبی تفصیلات ظاہر کیوں نہیں کی گئیں۔
پی ٹی آئی کے ترجمان سید ذوالفقار بخاری نے کہا کہ حکام اہم معلومات ظاہر کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”تشخیص، علاج، ماہرینِ طب کی شمولیت یا انہیں اتنی جلدی واپس جیل منتقل کرنے کی وجوہات کے بارے میں کوئی واضح تفصیلات حکام نے نہیں بتائی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سرکاری یقین دہانیوں میں شفافیت کا فقدان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لبنان: گزشتہ ۳؍ ماہ میں اسرائیل نے جنگ بندی کی۶؍ ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کی ہیں
خان کی بہن نورین نیازی نے الزام لگایا کہ سابق وزیراعظم کو ”رات کی تاریکی میں“ اسلام آباد کے پی آئی ایم ایس اسپتال لے جایا گیا اور وہاں صرف تین گھنٹے رکھنے کے بعد واپس جیل منتقل کر دیا گیا۔ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے اس واقعے کو ”انتہائی پراسرار اور خوفناک خاموشی“ میں لپٹا ہوا قرار دیتے ہوئے حکام پر خان کی صحت کو خطرے میں ڈالنے اور خاندان کو اندھیرے میں رکھنے کا الزام لگایا۔
پاکستانی حکام نے ابھی تک ان نئے الزامات پر کوئی تفصیلی عوامی ردِعمل جاری نہیں کیا ہے۔ ماضی میں حکام نے خان کے ساتھ ناروا سلوک کے دعوؤں کی متعدد دفعہ تردید کی ہیں اور اصرار کیا کہ خان کو وہی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جو دیگر قیدیوں کو حاصل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: ’ویٹ ٹینٹ سنڈروم‘ بے سہارا خاندانوں کے نوزائیدہ بچوں کی جانیں لے رہا ہے
قانونی عمل کے متعلق خدشات
دوسری طرف، سابق پاکستانی وزیراعظم کے خلاف جاری قانونی عمل کے بارے میں تحفظات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس ہفتے کے اوائل میں پی ٹی آئی نے بیان دیا کہ تقریباً ۱۰۰ دنوں سے خان کو اپنے وکلاء تک رسائی نہیں دی گئی ہے۔ ۷۳ سالہ خان بدعنوانی اور ریاستی راز افشا کرنے سے متعلق متعدد سزائیں کاٹ رہے ہیں، وہ اور ان کے حامی ان سزاؤں کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے اس صورتحال کو تشویشناک قرار دیا، خاص طور پر اس لئے کہ خان کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور اپنی قانونی ٹیم سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ”عدالتی احکامات کے باوجود ہم خان سے نہیں مل سکے۔ وہ تنہائی میں قید اور دنیا سے کٹے ہوئے ہیں، جو ان کے بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔“ گوہر علی خان نے ڈاکٹروں، وکلاء اور خاندان کے ارکان تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا۔