افغانستان کے منجمد اثاثہ کا نصف ۹/۱۱؍ متاثرین کو دینے کے خلاف شدید احتجاج

Updated: February 16, 2022, 11:07 AM IST | Agency | Kabul

مظاہرین نے واضح کیا کہ افغان عوام کا ۹/۱۱؍ سے کوئی تعلق نہیں ، خود پر تھوپی گئی جنگ کے مہلوکین کے اہل خانہ کیلئے امریکہ سے مالی معاوضے کی بھی مانگ کی

People in Kabul protest against US decision. Picture: PTI
کابل میں عوام امریکی فیصلے کے خلاف احتجاج کرتےہوئے۔تصویر: پی ٹی آئی

 افغانستان کے منجمد شدہ ۷؍ بلین ڈالرس کے تعلق سے جو بائیڈن انتظامیہ  کے اس فیصلے  نے افغان عوام میں غم وغصہ کی لہر دوڑا دی ہے کہ اس کا نصف یعنی ۳ء۵؍ بلین ڈالر ۹/۱۱؍ حملوں کے متاثرین کو دیا جائےگااور نصف افغان عوام تک اس طرح پہنچایا جائےگا کہ یہ رقم طالبان کے ہاتھ نہ لگنے پائے۔  ۳ء۵؍ بلین ڈالر ۹/۱۱؍ حملوں کے متاثرین کو دینے کے  امریکی فیصلے پر جو بائیڈن نے جمعہ کو دستخط کئے اور سنیچر سے ہی  افغانستان    میں اس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع ہوگیاہے۔ منگل کو بھی  افغان شہریوں  نے کابل میں صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے  واضح کیا کہ ۹/۱۱؍ حملوں سے  افغانستان کا کوئی لینا دینا  نہیں ہے۔اس کے ساتھ مظاہرین نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ اس نے مذکورہ حملوں کی وجہ سے افغانستان  پر جو جنگ تھوپی اور  اس میں  جاں بحق ہونے والے  افغان شہری کا واشنگٹن مالی معاوضہ ادا کرے۔ افغان عوام نے یہ مظاہرہ کابل کی عیدگاہ میں کیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK