Inquilab Logo Happiest Places to Work

فاکس ویگن کا جرمن پلانٹ بند کرنے کا منصوبہ،۴۰؍ ہزار ملازمین خطرے میں

Updated: July 10, 2026, 2:42 PM IST | Berlin

جرمن آٹو میکر فاکس ویگن نے ذرائع کے مطابق پانچ سالوں میں Zwickau اور Emden کی فیکٹریوں میں پیداوار ختم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کے نتیجے میں ۴۰؍ ہزار ملازمین کی ملازمت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این

جمعرات کو میڈیا رپورٹس کے مطابق، فاکس ویگن ایک وسیع تنظیمی تبدیلی کی تیاری کر رہی ہے جس کے تحت متعدد جرمن کارخانوں میں پیداوار بند ہو سکتی ہے، جس سے تقریباً ۴۰؍ہزار نوکریاں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ہفتہ وار ڈیر اشپیگل نے کمپنی کے نگران بورڈ کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ سی ای او اولیور بلوم کا ارادہ ہے کہ وہ آئندہ پانچ سالوں میں Zwickau اور Emden پلانٹس میں گاڑیوں کی پیداوار ختم کر دیں۔ رپورٹ کے مطابق، ہینوور میں کمرشل گاڑیوں کی فیکٹری۲۰۳۲ء میں اور آڈی کا نیکارسولم پلانٹ۲۰۲۴ء میں بند ہو جائے گا۔میگزین کے مطابق، ان چاروں مقامات پر تقریباً ۴۰؍ ہزار ملازمین کام کرتے ہیں۔ بلوم کا ہدف ۲۰۳۰ء تک پوری کمپنی میں ۵۰؍ ہزار نوکریاں ختم کرنا بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیٹو سربراہی اجلاس میں ایک دوسرے کی حفاظت کرنے کا فیصلہ

دریں اثناء نگران بورڈ کے ترجمان اور بورڈ میں شامل مزدور نمائندے دونوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔ماہرین اقتصادیات کے مطابق، یہ تجاویز دنیا کی دوسری بڑی آٹو میکر کی تاریخ میں سب سے بنیادی تبدیلی ہیں، جن پر جمعرات کو وولفسبرگ میں نگران بورڈ کے اجلاس میں غور کیا جانا تھا۔ جرمنی کی طاقتور آئی جی میٹیل یونین نے فوری طور پر ان منصوبوں کی مذمت کی اور بورڈ اجلاس کے دوران وولفسبرگ میں ایک ریلی کا اہتمام کیا گیا۔
واضح رہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی مانگ کے سبب پیٹرول گاڑیوں کو سخت مقابلے کا سامنا ہے، جن میں سب سے بڑا مد مقابل چین ہے، جس کی کاروں نے یوروپ کے بازار کے بڑے حصے پر اپنا قبضہ قائم کر لیا ہے، یہی وجہ ہے کہ یورپی کاروں کی کمپنیوں کو مندی کا سامنا ہے، جس کی ایک مثال فاکس ویگن ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK