زیلنسکی کامزید ہتھیاروں کا مطالبہ،یورپ کو روس کا اگلا نشانہ قراردیا

Updated: March 28, 2022, 1:30 PM IST | Agency | Kyiv

پولینڈ کے صدر سے ویڈیوکانفرنس میں کہا: اگر یوکرین کی اسلحہ اور جنگی ساز و سامان کے ساتھ مدد نہ کی گئی تو روسی فوج کا اگلا ہدف نیٹو ممالک ہوں گے

A Ukrainian soldier poses for a photo with a Russian tank.Picture:INN
یوکرین کا ایک فوجی روس کے تباہ شدہ ٹینک کے سامنے کھڑے کوہوکر تصویر کھنچوارہاہے۔ تصویر: آئی این این

وارسا: یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس سےجنگ لڑنے کیلئےایک مرتبہ پھر پولینڈ سے ٹینک اور لڑاکا طیارے فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نےپولینڈ کے صدر آنجے ڈوڈا کے ساتھ ویڈیو کانفرنس کے دوران ایک بار پھر جنگی طیاروں اورٹینکوں کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ روس سے جنگ کے لیے ہمیں اسلحہ کی ضرورت ہے۔صدر ولادیمیر زیلنسکی نے خبردار کیا کہ اگر یوکرین کی اسلحہ اور جنگی ساز و سامان کے ساتھ مدد نہ کی گئی تو روسی فوج کا اگلا ہدف بعد نیٹو ممالک ہوں گے جن میں سب سے زیادہ خطرات پولینڈ، سلوواکیہ، ہنگری، رومانیہ اور بالٹک کو ہیں۔اس موقع پر پولینڈ کے صدر نے اپنے یوکرینی ہم منصب کوہرممکن مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئےیوکرینی عوام کےعزم وہمت کی تعریف بھی کی اور روسی صدر سے فوجیوں کو واپس بلانے کا مطالبہ کیا۔
ناٹو کے صرف ایک فیصد طیاروںکی ضرورت
 دوسری جانب زیلنسکی نے اپنے ٹیلی گرام چینل پرپوسٹ کئے گئے ویڈیو میں کہا ہے کہ یوکرین کو ناٹو ممالک کے کم از کم ایک فیصد طیاروں اور ٹینکوں کی ضرورت ہے۔ زیلینسکی نے کیف کےمغربی اتحادیوں پر الزام لگایا کہ وہ اب بھی یوکرین کی مدد سے ہچکچا رہے ہیں۔صدر نے اپنے ٹیلی گرام چینل پرپوسٹ کیے گئے ایک ویڈیو خطاب میں کہا، ’’ہمیں صرف ایک فیصد ناٹو طیاروں اور ٹینکوں کی ضرورت ہے، اس سے زیادہ کچھ نہیں۔‘‘گزشتہ روزجاری کیے گئے ۲۷؍ یورپی ممالک کےسربراہان سے اپنے خطاب میں زیلنسکی نے کیف کو ہتھیاروں کی فراہمی سے انکار کرنے اور ہنگری کی سرزمین سےہتھیاروں کی منتقلی کی اجازت نہ دینے پر ہنگری کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
ناٹو اجلاس سے کیف کو مایوسی
 زیلنسکی انتظامیہ کے سربراہ آندرے یرماک نےجمعہ کے روز کہا کہ اس ہفتےکےشروع میں ہونے والی ناٹوسربراہی اجلاس سے کیف کو شدید مایوسی ہوئی ہےکیونکہ کیف کو توقع تھی کہ اتحاد اپنی ہمت کا مظاہرہ کرے گا اور روس کا مقابلہ کرنے کے لیے اضافی اقدامات کرے گا۔قابل ذکر ہے کہ یوکرین کے ڈونیٹسک اور لوہانسک کو الگ الگ ممالک کے طور پر تسلیم کرنے کے بعد روس نے ۲۴؍فروری کو یوکرین کےخلاف خصوصی فوجی آپریشن شروع کیا تھا تاکہ یوکرین کی فوج کو یہاں سےہٹایا جا سکے۔ روس نے کہا کہ اس کا یوکرین کے ساتھ الحاق کا کوئی منصوبہ نہیں ہے لیکن اس کا مقصد یوکرین کو غیر فوجی بنانا ہے۔
امریکہ کا کیف کو۱۰۰؍ملین ڈالر دینے کا اعلان
  یوکرین میں روس کے خصوصی فوجی آپریشن کے دوران امریکہ کیف کو سیکورٹی امداد کےطور پر اضافی ۱۰۰؍ملین ڈالر فراہم کرنے جا رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے یہ اطلاع دی۔سنیچرکےروز ایک بیان میں بلنکن نے کہا ’’امریکہ سول ڈیفنس میں۱۰۰؍ملین ڈالر کی اضافی امداد فراہم کرے گاجس کا مقصد ضروری سرحدی سیکوریٹی فراہم کرنے، امن و امان کو برقرار رکھنے اور حکومت کی حفاظت کے لیے یوکرین کی وزارت داخلہ کی صلاحیت اورانفراسٹرکچر کو بڑھانا  ہے۔‘‘ جمعرات کو وہائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا کہ امریکہ کیف کو انسانی امداد کے لیے ۱۰۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ کی امداد فراہم کرےگا۔یہ یوکرین اور اس کے آس پاس کے ممالک میں جمہوریت اور انسانی حقوق کےکاموں کے لیے اضافی ۳۲۰؍ ملین ڈالر بھی فراہم کرے گا۔ اس ماہ کے شروع میں امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کیلئےایک ہزار ۳۵۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ کی انسانی، اقتصادی اور دفاعی امداد کی منظوری دی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK