Inquilab Logo Happiest Places to Work

جنگ، اسلحہ سازی معاشرہ کی ناکامی ہے، پائیدار امن ہتھیاروں سے ممکن نہیں: پوپ لیو

Updated: June 08, 2026, 9:04 PM IST | Madrid

پوپ لیو نے اسپین کی پارلیمنٹ سے تاریخی خطاب میں جنگ، اسلحہ سازی، ہجرت، مصنوعی ذہانت اور انسانی حقوق جیسے اہم عالمی مسائل پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ جنگ اور دوبارہ اسلحہ سازی معاشروں کی ناکامی کی علامت ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ پائیدار امن فوجی طاقت کے ذریعے نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور بین الاقوامی قانون کے احترام سے قائم کیا جا سکتا ہے۔

Pope Leo. Photo: PTI
پوپ لیو۔ تصویر: پی ٹی آئی

رومن کیتھولک چرچ کے سربراہ پوپ لیو نے پیر کو اسپین کی پارلیمنٹ سے ایک تاریخی خطاب میں کہا کہ جنگ اور اسلحہ سازی میں اضافہ دراصل معاشروں اور سیاسی نظاموں کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے، جبکہ پائیدار اور حقیقی امن کبھی بھی فوجی ذرائع سے حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ میڈرڈ میں اسپین کی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے پوپ لیو اس ادارے کے سامنے تقریر کرنے والے تاریخ کے پہلے پوپ بن گئے۔ ان کے خطاب کا مرکزی موضوع انسانی جان کا تحفظ، انسانی وقار کا احترام اور عالمی سطح پر انصاف پر مبنی نظام کی ضرورت تھا۔ پوپ نے کہا کہ ’’ہر انسانی زندگی کو تصور سے لے کر اس کے فطری اختتام تک، اس کے وجود کے ہر مرحلے میں تسلیم اور محفوظ کیا جانا چاہیے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’’انسانی زندگی کا دفاع نہ تو کسی نجی مفاد کا معاملہ ہے اور نہ ہی صرف مذہبی تشویش، بلکہ یہ تہذیب کا ایک بنیادی مقصد ہے۔‘‘ پوپ لیو نے خبردار کیا کہ جب معاشرے اپنے کمزور ترین افراد کے تحفظ میں ناکام ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتے ہیں۔ اپنے خطاب میں انہوں نے عالمی ہجرت کے مسئلے پر بھی تفصیلی اظہارِ خیال کیا اور اسے ’’ہجرت کا المناک ڈرامہ‘‘ قرار دیا۔ ان کے مطابق تارکین وطن اور پناہ گزینوں کا بحران نہ صرف مختلف ممالک کے ضمیر بلکہ پورے بین الاقوامی نظام کی اخلاقی بنیاد کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس مسئلے کے حل کے لیے ایسے اقدامات درکار ہیں جو انسان کو مرکز میں رکھیں، ان وجوہات کا ازالہ کریں جو لوگوں کو اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور کرتی ہیں، اور صرف نقل مکانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے تک محدود نہ رہیں۔‘‘

تصویر: پی ٹی آئی

پوپ نے محفوظ اور قانونی ہجرتی راستوں، مہذب استقبال اور معاشرے میں حقیقی انضمام کے مواقع فراہم کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو ایسے حالات پیدا کرنے چاہئیں جہاں لوگ جنگ، غربت، عدم تحفظ یا موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور نہ ہوں۔ عالمی تنازعات کے حوالے سے پوپ نے کہا کہ ’’ہر جنگ بالآخر انسانیت کی مکالمے اور تنازعات کو پرامن انداز میں حل کرنے کی صلاحیت کی ایک دردناک ناکامی ثابت ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ ’’ہتھیار عارضی خاموشی تو مسلط کر سکتے ہیں، لیکن وہ کبھی بھی حقیقی اور دیرپا امن قائم نہیں کر سکتے۔‘‘پوپ لیو نے دنیا کے مختلف خطوں، خصوصاً یورپ میں دفاعی اخراجات اور اسلحہ سازی میں اضافے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’یہ تشویشناک ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں، بشمول یورپ، دوبارہ اسلحہ سازی کو بین الاقوامی حالات کا تقریباً ناگزیر جواب بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔‘‘

تصویر: پی ٹی آئی

ان کے مطابق حقیقی سلامتی انصاف، صبر کے ساتھ جاری مکالمے، بین الاقوامی قانون کے احترام اور ایسی سیاست سے جنم لیتی ہے جو جنگ سے فائدہ اٹھانے والے مفادات کے بجائے انسانی جانوں کو ترجیح دے۔ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے فوجی استعمال پر بات کرتے ہوئے پوپ نے خبردار کیا کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے سخت اخلاقی نگرانی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’زندگی اور موت سے متعلق فیصلے کبھی بھی خودکار نظاموں کے سپرد نہیں کیے جانے چاہئیں اور نہ ہی انہیں انسانی اخلاقی ذمہ داری سے الگ کیا جا سکتا ہے۔‘‘ پوپ نے اظہارِ رائے، ضمیر اور مذہبی آزادی کو بھی ہر جمہوری معاشرے کے لیے بنیادی قرار دیا۔ ان کے مطابق حقیقی آزادی وہی ہے جو انسان کی مذہبی اور روحانی شناخت کو تسلیم کرے، اس کا احترام کرے اور قانونی تحفظ فراہم کرے۔

خطاب کے اختتام پر پوپ لیو نے قانون سازوں سے اپیل کی کہ وہ اس حقیقت کو ہمیشہ مدنظر رکھیں کہ ہر سیاسی اور قانونی فیصلہ حقیقی انسانوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دنیا کو صرف قانونی اصلاحات ہی نہیں بلکہ ’’اخلاقی تجدید‘‘ کی بھی ضرورت ہے تاکہ انصاف، وقار اور امن پر مبنی معاشرے تشکیل دیے جا سکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK