ایران جنگ کے باوجود عالمی معیشت میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، تاہم حالیہ بیانات کے بعد مالیاتی منڈیوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹس میں تیزی اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ کے خاتمے کی امیدیں بڑھ رہی ہیں۔
EPAPER
Updated: April 01, 2026, 8:04 PM IST | New York
ایران جنگ کے باوجود عالمی معیشت میں اتار چڑھاؤ جاری ہے، تاہم حالیہ بیانات کے بعد مالیاتی منڈیوں میں بہتری دیکھی گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں کمی اور اسٹاک مارکیٹس میں تیزی اس بات کی علامت ہیں کہ جنگ کے خاتمے کی امیدیں بڑھ رہی ہیں۔
(۱) جنگ کے خاتمے کے اشارے، عالمی شیئربازار میں تیزی، تیل کی قیمتوں میں کمی
ایران جنگ کے خاتمے کے امکانات کے اشاروں کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جہاں اسٹاک مارکیٹس میں تیزی جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد کہ جنگ ’’دو سے تین ہفتوں میں ختم ہو سکتی ہے‘‘، عالمی مارکیٹس میں مثبت ردعمل سامنے آیا۔ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں ۱۵؍ فیصد سے زائد کمی ہوئی جبکہ جاپان، جنوبی کوریا اور یورپ کی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی لیڈروں کے قتل پرپاسداران انقلاب کی امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی
تجزیاتی رپورٹس کے مطابق اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں دوبارہ تیزی سے بڑھ سکتی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کا اہم راستہ ہے۔ یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ عالمی معیشت اس جنگ سے براہ راست متاثر ہو رہی ہے اور کسی بھی سفارتی پیش رفت پر فوری ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
(۲) ایران کا مشروط عندیہ، پیزشکیان کی جنگ ختم کرنے کی آمادگی
ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ اور اسرائیل حملے روک دیں تو ایران جنگ ختم کرنے کیلئے تیار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’جنگ کے خاتمے کیلئے عوام کے مفادات اور سیکیورٹی کی ضمانت ضروری ہے۔‘‘ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سفارتی سطح پر دباؤ بڑھ رہا ہے اور عالمی طاقتیں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ایران کا یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ مکمل پسپائی کیلئے تیار نہیں بلکہ شرائط کے ساتھ مذاکرات چاہتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نرم، نیتن یاہو سخت، ایران شرائط پرقائم ، عالمی صف بندیاں واضح
(۳) ٹرمپ کا عندیہ، امریکی انخلا ۲؍ سے ۳؍ ہفتوں میں ممکن
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ امریکہ آئندہ دو سے تین ہفتوں میں ایران سے اپنی فوجی موجودگی کم یا ختم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اپنے اختتام کے قریب ہے اور امریکی اہداف بڑی حد تک حاصل ہو چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق اس اعلان کے بعد عالمی سطح پر کشیدگی میں کمی کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم خطے میں حملے اب بھی جاری ہیں۔ یہ بیان ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ جنگ کو طویل کرنے کے بجائے جلد ختم کرنے کی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے۔