Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی لیڈروں کے قتل پرپاسداران انقلاب کی امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی

Updated: April 01, 2026, 2:02 PM IST | Tehran

ایران کی پاسداران انقلاب نے ایرانی لیڈروں کے قتل کے بدلے خطے میں موجود امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے، بیان میں کہا گیا کہ ایرانی شخصیات پر کسی بھی حملے کا جواب ان کمپنیوں کے علاقائی آپریشنز کے خلاف جوابی کارروائی سے دیا جائے گا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایران کی خصوصی فوجی فورس،پاسداران انقلاب  نے منگل ۳۱؍ مارچ کو خبردار کیا کہ اگر ہدفی قتل کے ذریعے مزید ایرانی لیڈر مارے گئے تو وہ مغربی ایشیا اور خلیج میں امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنایا جائےگا۔ پاسدران نے۱۸؍ بڑی کمپنیوں کے نام بتائے ہیں، جن میں مائیکروسافٹ، گوگل، ایپل، انٹیل، آئی بی ایم، ٹیسلا، بوئنگ، ڈیل ٹیکنالوجیز، ایچ پی، سیسکو، اوریکل، میٹا، جے پی مورگن چیس، اور جنرل الیکٹرک شامل ہیں۔ اس نے کہا کہ ایرانی شخصیات پر کسی بھی حملے کا جواب ان کمپنیوں کے علاقائی آپریشنز کے خلاف جوابی کارروائی سے دیا جائے گا۔بیان میں کہا گیا، ’’یہ کمپنیاں ایران میں دہشت گردی کی ہر کارروائی کے جواب میں اپنی تنصیبات کی تباہی کا مزہ چکھیں گی۔‘‘ اس میں مزید کہا گیا کہ حملے یکم اپریل کو تہران کے مقامی وقت کے مطابق شام۸؍ بجے سے شروع ہو سکتے ہیں۔ بعد ازاں ملازمین کی حفاظت کے لیے فوری طور پر کام کی جگہیں خالی کرنے کی ہدایت کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نرم، نیتن یاہو سخت، ایران شرائط پرقائم ، عالمی صف بندیاں واضح

پاسداران نے زور دے کر کہا کہ ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (AI) کی کمپنیاں ایران کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں براہِ راست ملوث ہیں، جس کی وجہ سے وہ جائز اہداف ہیں۔یہ انتباہ ایک اور اعلیٰ سطحی ہدف کے قتل کی تصدیق کے بعد سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، بریگیڈیئر جنرل جمشید اسحاقی، جو ایران کی مسلح افواج کے مشترکہ عملہ میں بجٹ اور مالیاتی امور کے سربراہ تھے، اپنے خاندان کے افراد سمیت امریکہ-اسرائیل کے مشترکہ حملے میں مارے گئے۔پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف احمد وحیدی نے اسحاقی کی ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے میں خدمات کو سراہا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کی جوابی کارروائی، دبئی بندرگاہ نشانہ، سمندری محاذ پر کشیدگی بڑھ گئی

واضح رہے کہ اسحاقی پر۲۰۲۵ء میں امریکہ کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی تھیں، ان پر الزام تھا کہ وہ چین کو تیل کی ترسیل میں مدد فراہم کر رہے تھے اور حزب اللہ، حماس اور حوثیوں جیسے علاقائی مسلح گروپوں کو مالی امداد دے رہے تھے۔تاہم اسحاقی حالیہ ہفتوں میں مارے جانے والے تازہ ترین اعلیٰ ایرانی اہلکار ہیں، یہ سلسلہ بڑھتے ہوئے تنازع کے دوران جاری ہے جس میں پہلے ہی متعدد اعلیٰ شخصیات جاں بحق ہو چکی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK