امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سابق مشیربنن نے نیتن یاہو کے بیٹے یائر یاہو کو ایرانی جنگی محاذ پر جلاوطن کرنے کا مطالبہ کیا، بنن نے سوال اٹھایا کہ جب امریکہ، اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں تو یائر یاہو میامی میں چھٹیاں کیوں منا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: April 01, 2026, 9:09 PM IST | Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے سابق مشیربنن نے نیتن یاہو کے بیٹے یائر یاہو کو ایرانی جنگی محاذ پر جلاوطن کرنے کا مطالبہ کیا، بنن نے سوال اٹھایا کہ جب امریکہ، اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں تو یائر یاہو میامی میں چھٹیاں کیوں منا رہا ہے۔
اسٹیو بنن، جو ڈونالڈ ٹرمپ کی پہلی مدت میں سینئر مشیر رہ چکے ہیں اور’’میک امریکا گریٹ اگین‘‘ (MAGA) تحریک کی ایک نمایاں آواز ہیں، نے اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے بیٹےیائریاہو کو ریاستہائے متحدہ امریکہ سے نکالنے اورایرانی محاذ پر لڑنے کے لیے بھیجنے کا مطالبہ کیا ۔ واضح رہے کہ یہ مطالبہ اس وقت کیا گیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل ایران پر مشترکہ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دائیں بازو کی میڈیا’’ریل امریکاز وائس‘‘ پر گفتگو کرتے ہوئے بنن نے سوال اٹھایا کہ یائر جب امریکہ-اسرائیل کے ایران پر حملے جاری ہیں تو میامی میں چھٹیاں کیوں منا رہا ہے۔’ انہوں نے امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) سے کارروائی کا مطالبہ کیاکہ ’نیتن یاہو کا بیٹامیامی میں ہے، کل ہی اسے باہر نکال دو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ اور اسرائیل عالمی نظام پر اپنا حکم نہیں چلا سکتے: اسپین کی وزیر دفاع
بنن نے مزید کہا، ’’ضرورت پڑنے پرمحکمہ کہاں ہے؟ اسے واپس لے جاؤ۔ اسے وردی پہناؤ۔ آئیے اسے پہلی صف میں شامل کریں۔‘‘بعد ازاں بنن نے اپنی تنقید کا دائرہ واشنگٹن کے ساتھ اتحاد کرنے والی خلیجی عرب ریاستوں کے شہزادوں تک بھی بڑھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں بھی لندن جیسے شہروں سے نکالا جائے اور خلیج میں لڑنے کے لیے بھیجا جائے، کیونکہ امریکہ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ زمینی کارروائیاں شروع کر سکتا ہے۔نہ یائریاہو اور نہ ہی اس کا بھائی اورنر نے اسرائیل کی لازمی فوجی خدمت مکمل کی ہے، حالانکہ دونوں اس عمر میں ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: توانائی کے بحران کےبعد انٹر نیٹ بھی خطرہ میں!
واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے۲۸؍ فروری سے ایران پر فضائی حملے کیے ہیں، جن میں سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای سمیت۱۳۴۰؍ سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔تاہم ایران نے ڈرون اور میزائل سےان حملوں کا جواب دیا ہے جس کا ہدف اسرائیل، اردن، عراق اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات ہیں، ان حملوں سے جانی و مالی نقصان ہوا ہے اور عالمی منڈیوں اور ہوا بازی میں خلل پڑا ہے۔