• Fri, 30 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کلیان ڈومبیولی میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا

Updated: October 30, 2026, 11:05 AM IST | Ejaz Abdul Ghani | Kalyan

ایم آئی ڈی سی کی جانب سے ۳۶ ؍گھنٹے کے شٹ ڈاؤن پر میونسپل کمشنر برہم، عوامی نمائند وں نے بھی ناراضگی ظاہر کی۔

KDMC Municipal Commissioner Abhinav Goyal. Photo: INN
کے ڈی ایم سی کےمیونسپل کمشنر ابھینو گوئل۔ تصویر: آئی این این

کلیان ڈومبیولی میونسپل کارپوریشن( کے ڈی ایم سی )کی حدود میں پینے کے پانی کی عدم فراہمی نے سنگین رخ اختیار کرلیا ہے۔ایک طرف جہاں شہری پانی کی قلت سے پریشان ہیں وہیں دوسری جانب مہاراشٹر انڈسٹریل ڈیولپمنٹ کارپوریشن ( ایم آئی ڈی سی) کی جانب سے ہر ہفتے نافذ کئے جانے والے ۳۶ ؍گھنٹے کے جبری شٹ ڈاؤن نے شہریوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے۔اس سنگین مسئلے پر میونسپل انتظامیہ اور عوامی نمائندوں نے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

کے ڈی ایم سی کے کمشنر ابھینو گوئل نے جنرل باڈی میٹنگ کے دوران ایم آئی ڈی سی انتظامیہ کی نااہلی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ۲۷ ؍ گاوں کے لئے روزانہ ۱۰۵ ؍ملین لیٹر پانی کا کوٹہ باقاعدہ منظور شدہ ہے۔اس کے برعکس ایم آئی ڈی سی کی جانب سے محض ۵۵ ؍ملین لیٹر پانی فراہم کیا جا رہا ہے یعنی نصف کوٹہ پہلے ہی کاٹ لیا جاتا ہے۔میونسپل کمشنر نے سوال کیا کہ جب ۵۰؍ فیصد پانی کی سپلائی پہلے ہی کم ہے تو پھر شہریوں پر مزید ۳۶ ؍گھنٹے کا طویل شٹ ڈاؤن مسلط کرنے کا کیا جواز ہے؟

یہ بھی پڑھئے: راستوں پر گندگی سے روکنے کیلئے مصنوعی ذہانت والے کیمرے نصب

انہوں نے اعلان کیا کہ میونسپل کارپوریشن اس شٹ ڈاؤن کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے لئے ایم آئی ڈی سی کے اعلیٰ حکام کو باضابطہ مکتوب روانہ کر رہی ہے۔ ان کےمطابق  اس بندش کے باعث شہریوں کو ہفتے میں بمشکل ۵؍دن ہی پانی مل پاتا ہے۔  

اجلاس کے دوران کارپوریٹر اندرا ترے نے کام کاج روکنے کی تحریک پیش کرتے ہوئے انتظامیہ کو آڑے ہاتھوں لیا۔انہوں نے بتایا کہ ان کے حلقے کے دیہاتوں بالخصوص آشیلے اور آشیلے پاڑہ میں آٹھ آٹھ دنوں تک نلوں میں پانی نہیں آتا ہے اور مکینوں کو پینے کا پانی تک خریدنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر موسمِ سرما کے آغاز یعنی اکتوبر میں یہ تشویشناک حالت ہے تو آئندہ موسم گرما اور بالخصوص مئی کے مہینے میں صورتحال ناقابل برداشت ہو جائے گی۔دوسری جانب امرت واٹر سپلائی اسکیم بھی انتظامی رکاوٹوں کی نذر دکھائی دیتی ہے پروجیکٹ کے کل ۲۸ ؍ مجوزہ ذخیرہ آب میں سے ۱۶ ؍ٹینکوں کی تعمیر ۱۹۴ ؍ کروڑ روپے کے ابتدائی تخمینہ سے مکمل ہو چکی ہے۔بعد ازاں حکومت نے پروجیکٹ کی بڑھی ہوئی لاگت کے تحت مزید ۲۰۰ ؍کروڑ روپے کی منظوری دی جس کے پہلے مرحلے کے لئے ۵۰؍ کروڑ روپے کا سرکاری حکم نامہ بھی جاری کیا جا چکا ہے۔ تاہم یہ فنڈ تاحال میونسپل انتظامیہ کے کھاتے میں منتقل نہیں ہو سکا۔ میونسپل کمشنر نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا کہ اگر فنڈ ملنے کے بعد تمام ۱۶ ؍ٹینک چالو بھی کر دیئے جائیں تب بھی اصل سوال یہ ہے کہ ان میں بھرنے کے لئے پانی کہاں سے آئے گا؟ انہوں نے باور کرایا کہ جب تک منظور شدہ ۱۰۵ ؍ملین لیٹر کوٹے کے تحت مکمل پانی کی فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی تب تک اربوں روپے کا یہ منصوبہ عوام کے کسی کام نہیں آسکے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK