ہم جانچ سے خوفزدہ نہیں ہیں  مگر ضمانت پر رہائی اُن کا حق ہے

Updated: June 27, 2020, 4:15 AM IST | New Delhi

جیل میں خالد سیفی کے ۴؍ ماہ مکمل ہونے پر بیوی نرگس سیفی کا مطالبہ، پر امید ہیں کہ عدالت میں تمام الزامات جھوٹے ثابت ہوجائیں گے۔

Khalid Saifi (red dress). Photo: INN
خالد سیفی (سرخ لباس)۔ تصویر: آئی این این

دہلی فساد کے الزام میں گرفتار کئے گئے سماجی کارکن خالد سیفی کی اہلیہ نرگس سیفی ۲۷؍ فروری صبح ۱۱؍ بجے کا وہ وقت بھلا نہیں  پاتیں  جب وہ ایک دن قبل گرفتار کئے گئے اپنے شوہر سےمنڈولی جیل میں  ملاقات کرنے پہنچیں ۔ شیشے کے دوسری جانب وہ خالد سیفی کی منتظر تھیں مگر جب خالد کو انہوں  نے وہیل چیئر پر آتے ہوئے دیکھا تو حیران رہ گئیں ۔ وہ وہیل چیئر پر تھے اوران کے پیرو ں  پر پلاسٹر بندھا ہواتھا۔ شیشے کے آر پار انٹرکام کے ذریعہ ہونےوالی بات چیت میں  خالد سیفی نےبتایا کہ گزشتہ رات جگت پوری پولیس اسٹیشن میں  انہیں  بری طرح تشدد کا نشانہ بنایاگیا ہے۔ ہفنگٹن پوسٹ کی بیتواا شرما سے گفتگو کرتےہوئے نرگس بتاتی ہیں  کہ ’’ میں  بتا نہیں سکتی کہ اس وقت مجھ پر کیا گزری۔ دماغ کام کرنا بند کردیتا ہے۔ ایک دن پہلے جب وہ گئےتھےتو بالکل ٹھیک ٹھاک تھےاور پھر میں   نے انہیں درد سے کراہتے ہوئے دیکھا۔ محض ایک احتجاج کرنے پر انہوں  نے انہیں  اس بری طرح ٹارچر کیا۔‘‘ حقوق انسانی کے علمبردار اور وکیل ریبیکا جان نے خالد کی ضمانت کی درخواست پر شنوائی کے موقع پرکورٹ کو بتایا کہ خالد کو ’’پولیس اسٹیشن میں  بہت بری طرح پیٹا گیا‘‘مگر ایڈیشنل سیشن جج منجو شاہ وادھوا نے یہ کہتے ہوئے ضمانت دینے سے انکار کردیا کہ ساتھی ملزم جو ایک کمسن نوجوان ہے، نے بیان دیا ہے کہ خالد نے اسے دیسی کٹا دیاتھا۔ وکیلوں کو کہنا ہے کہ تحویل کے دوران پولیس نے کمسن سے زبردست بیان لیا ہوگا۔ وہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ کمسن کے اقبال جرم کی کوئی اہمیت نہیں  ہوتی۔ریبیکا جان نے کورٹ میں بھی یہ بات کہی مگر عدالت سننے کو تیارنہیں تھی۔ جج وادھوا کے مطابق خالد سنگین جرائم کے ملزم ہیں ۔ اسی دن پولیس نے خالد کے خلاف ایک اور ایف آئی آر درج کی جس میں  انہیں  دہلی فساد کی سازش میں  ملوث ہونے کا الزام عائد کیاگیا ہے۔ ’سازش کی ایف آئی آر‘ کے نام سے بدنام اس ایف آئی آر کے مطابق دہلی فساد کے پس پشت خالد سیفی، جے این یو طالب علم عمر خالداوران کے حامیوں  کا ہاتھ ہے۔ 
 اس کے برخلاف ایڈیشنل سیشن جج دھرمیندر رانا نے ۱۶؍ جون کو پولیس کو ایف آئی آر درج کرنے کیلئے مزید ۶۰؍ دن کا وقت دے دیا ہے۔ یعنی پولیس اب ۱۴؍ اگست تک چارج شیٹ داخل کرسکتی ہے۔(اسے کانگریس کی سابق کارپوریٹر اور دہلی فساد کے الزام میں  گرفتاری کے بعد ضمانت پر رہا ہونےوالی عشرت جہاں  نے عدالت میں  چیلنج کیا ہے۔) عام طور پر پولیس کی جانب سے ۳؍ ماہ میں چارج شیٹ داخل نہ کئے جانے پر ملزم کو تکنیکی بنیادوں پر ضمانت مل جاتی ہے مگر خالد کے معاملے میں پولیس کو چارج شیٹ داخل کرنے کیلئے ۲؍ ماہ کا اضافی وقت مل گیا۔ 
 خالد کی بیوی ۳۳؍ سالہ نرگس نے ہفنگٹن پوسٹ سے گفتگو کرتےہوئے بتایاکہ ان کے شوہر دیندار مسلمان،ا چھے شوہر اور اپنے ۳؍ بچوں  کے بہترین اورچہیتے ’ابو‘ ہیں ۔ ان کی درخواست ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے دہلی پولیس کے وکیل عرفان احمد نے دعویٰ کیا کہ کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پولیس کی جانچ سست روی کا شکار ہوگئی۔اسے فون کا ڈیٹا حاصل کرنے اور بین الاقوامی فنڈنگ کی جانچ کیلئےمزید وقت درکار ہے۔ بہرحال پولیس کیسی ہی کہانیاں  پیش کررہی ہو، نرگس کو امید ہے کہ ان کے شوہر عدالت میں بے قصور ثابت ہوجائیں گے مگر انہیں یہ سمجھ میں  نہیں آتا کہ خالد کو مسلسل قید میں کیوں  رکھا جارہا ہے۔ نرگس سیفی کے مطابق’’ان کا پاسپورٹ ان (پولیس )کے پاس ہے، موبائل فون ان کے پاس ہے۔ یاد رکھئے کہ جو کچھ کہاجارہا ہے وہ محض الزامات ہیں ، ابھی انہیں ثابت ہونا ہے، پولیس جانچ کرتی رہے مگر انہیں ضمانت کیوں  نہیں   مل سکتی؟‘‘انہوں نے کہا کہ ’’مجھے یقین ہے کہ وہ (خالد) عدالت کے ذریعہ عائد کی گئی ہر شرط کی پابندی کریں گے۔‘‘ گھر کی ضروریات کا حوالہ دیتے ہوئے نرگس مزید کہتی ہیں  کہ ’’ہمیں  گھر پر ان کی ضرورت ہے۔آپ دوست احباب اور اعزہ پر کچھ دن ، ہفتوں  یا مہینے بھر کیلئے منحصر رہ سکتےہیں ۔ بعد میں  سب کچھ خود ہی کرنا ہوتاہے۔‘‘ نرگس اس بات کو محسوس کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کو اس لئے نشانہ بنایاگیا کیوں  کہ انہوں   نے شہریت ترمیمی ایکٹ کے خلاف مظاہروں کا انعقاد کروایا۔ ۳؍ چھوٹے چھوٹے بچوں  کی اس ماں کے مطابق’’میں  سمجھتی ہوں  کہ وہ ہر حال میں انہیں جیل میں  رکھنا چاہتے ہیں تاکہ انہیں تکلیف پہنچے۔ آپ کسی بھی فیملی والے شخص کو ۴؍ مہینے تک جیل میں رکھیں گے تو وہ ٹوٹ جائےگا۔ وہ انہیں توڑنا چاہتے ہیں ، وہ پہلے ہی ٹوٹ چکے ہیں آپ انہیں  اور کتنا توڑیں گے؟‘‘ ایف آئی آر نمبر ۵۹؍ جس کے تحت خالد سیفی پر دہلی فساد کی سازش میں  ملوث ہونے کا الزام عائدکیاگیاہے، کے۱۴؍ ملزمین میں  سے ۱۰؍ اب بھی جیل میں  ہیں ۔ اس کیس میں  پولیس نے ظالمانہ قانون یو اے پی اے کا اطلاق کیا ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کی طالبہ صفورہ زرگر کو ۳؍ ناکام کوششوں کے بعد گزشتہ دنوں  دہلی ہائی کورٹ سے انسانی بنیادوں پر ضمانت پر رہائی حاصل ہوئی ہے۔ یہ رہائی انہیں   ملک اور بیرون ملک زبردست میڈیا کووریج اور رہائی کیلئے اٹھنےوالی آوازوں   کے بعد ملی ہے۔ انہیں  عدالت نے ضمانت پر کرتے ہوئے عدالت نے واضح کردیا ہے کہ اسے دیگر ملزمین کیلئے بطور نظیر پیش نہیں  کیا جاسکتا۔اس کے علاوہ پی ایف آئی کے ان ۳؍ کارکنوں  کو ۱۳؍ مارچ ضمانت پر رہائی نصیب ہوگئی تھی کیوں  کہ ان پر عائد کی گئی ۴؍ دفعات قابل ضمانت تھیں ۔اس کے ۲؍دن بعد ۱۵؍ مارچ کو دہلی پولیس نے قتل اور ملک سے غداری جیسے سخت ترین الزامات کو اس کیس میں  شامل کردیا۔ بعد میں  ۱۹؍ اپریل کو یو اے پی اے بھی عائد کردیاگیا۔ 
بشکریہ: ہفنگٹن پوسٹ

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK