Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ہم شرد پوار کے بیان سے اتفاق نہیں کرتے‘‘

Updated: May 22, 2026, 1:05 AM IST | Mumbai

نریندر مودی کی تعریف کرنے پر شیوسینا (ادھو) اور کانگریس پوار سے ناخوش، این سی پی (شرد) نے اپنے لیڈر کے بیان کا دفاع کیا

Sharad Pawar and Sanjay Raut: Sir, what did you say?
شرد پوار اور سنجے رائوت:سر یہ کیا کہدیا آپ نے؟

 ایک روز قبل شرد پوار نے یہ کہہ کرسیاسی حلقوں میں ہلچل مچادی تھی کہ ’’ وزیر اعظم سے لاکھ نظریاتی اختلاف سہی لیکن یہ بات بھلائی نہیں جا سکتی کہ وہ عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند کر رہے ہیں۔‘‘ یاد رہے کہ قومی سطح پر انڈیا اتحاد اور ریاستی سطح پر مہا وکاس اگھاڑی کا موقف یہ رہا ہے کہ وزیر اعظم عالمی سطح پر ملک کا نام ڈبو رہے ہیں۔ ایسی صورت میں انڈیا اتحادکا سب سے اہم چہرہ ہوتے ہوئے شرد پوار کا مودی کی تعریف کرنا ان کے حلیفوں کو تشویش میں مبتلا کرنے والا ہے۔ کانگریس اور شیوسینا (ادھو) نے پوار کے اس بیان  سے اختلاف ظاہر کیا ہے جبکہ خود شرد پوار کی پارٹی این سی پی نے کہا ہے کہ پوار کے بیان کو ’وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔‘‘ 
  یاد رہے کہ قومی سطح پر کانگریس خاص کر راہل گاندھی اس بات پر مصر ہیں کہ وزیر اعظم مودی مسلسل عالمی سطح پر ملک کا نام ڈبو رہے ہیں۔ وہ امریکی صدر کی طرف سے توہین آمیز بیانات کے باوجود کوئی رد عمل ظاہر نہیں کرتے ، عالمی میڈیا ان سے کوئی سوال کرتا ہے تو اس کا جواب نہیں دیتے۔ ٹھیک اسی دوران شرد پوار کا یہ کہنا کہ وزیر اعظم مودی عالمی سطح پر ملک کے وقار کو بلند کر رہے ہیں انڈیا اتحاد کے موقف اور جدوجہد کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔ اسی پر بات کرتے ہوئے شیوسینا (ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے کہا ’’ ہم شرد پوار کے بیان سے متفق نہیں ہیں۔ ‘‘ میڈیا کے اصرار پر انہوں نے کہا ’’ اگر وہ ملک کے وزیر اعظم ہیں تو انہیں جواب دینا چاہئے۔ وہ میڈیا کے سوالوں کے جواب کیوں نہیں دیتے؟ ‘‘ رائوت نے میڈیا کے ذریعے شرد پوار سے سوال کیا ’’ کیا اندرا گاندھی کے موقف سے شرد پوار متفق نہیں ہیں؟ اندرا گاندھی تو جواب دیا کرتی تھیں؟‘‘ رکن پارلیمان نے نام گنوائے ’’ اندرا گاندھی جب بیرون ملک جاتی تھیں، من موہن سنگھ جب بیرون ملک جاتے تھے۔ نرسمہا رائو  جب باہر جاتے تھے یا راجیو گاندھی جب باہر جاتے تھے تو کیا وہ میڈیا سے گفتگو نہیں کرتے تھے؟ یہ لوگ میڈیا سے گفتگو کرتے تھے۔ ان کے سوالوں کے جواب دیتے تھے ۔ پھر نریندر مودی کیوں نہیں میڈیا سے بات کرتے؟ اس سوال کا جواب شرد پوار کو دینا چاہئے۔‘‘ 
 مہاراشٹر کانگریس کے صدر ہرش وردھن سپکال نے کہا ہے کہ ’’ ہم شرد پوار کے بیان سے اتفاق نہیں کرتے۔ ہمارا کہنا یہ ہے کہ وزیراعظم نے ملک کے عوام سے دغاکی ہے اور بی جے پی کو ان کی حکومت کی ناکامی کو تسلیم کرنا ہوگا۔‘‘ 
 اپنے حلیفوں کی ناراضگی کے باوجود این سی پی (شرد) کے لیڈران پوار کے بیان کا الگ طریقے سے  دفاع کر رہے ہیں۔ این سی پی کے ریاستی صدر ششی کانت شندے کا کہنا ہے کہ ’’ شر د پوار کے بیان کو وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ ان کا کہنا صرف اتنا ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری جنگی صورتحال کے سبب دنیا بھر میں بحران آیا ہوا جس کا اثر ہندوستان پر بھی پڑا ہے ایسی صورت میں ملک کو ا س بحران سے نکالنے کیلئے تمام  پارٹیوں کو اختلافات بھلا کر متحد ہو جانا چاہئے۔‘‘ تو کیا پوار کے بیان سے انڈیا اتحاد پر کوئی اثر پڑے گا؟ یا پوار نے انڈیا سے الگ راہ اختیار کی ہے؟ اس سوال پر ششی کانت شندے نے کہا ’’ ایسا نہیں ہے۔ شردپوار کے اس بیان کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ انہوں نے انڈیا اتحاد سے الگ راہ اختیار کی ہے۔اگر انڈیا اتحاد کو مضبوط کرنے کیلئے کسی نے سب سے زیادہ محنت کی ہے تو وہ پوار صاحب ہیں۔ ہم انڈیا اتحاد کے ساتھ ہیں۔‘‘ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK