ممبئی-ناسک شاہراہ پر کھاریگاؤں میں دوبارہ ٹول پلازہ شروع کرنے کی کارروائی شروع ہوگئی ہیں۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 11:37 AM IST | Mumbai
ممبئی-ناسک شاہراہ پر کھاریگاؤں میں دوبارہ ٹول پلازہ شروع کرنے کی کارروائی شروع ہوگئی ہیں۔
ممبئی-ناسک شاہراہ پر کھاریگاؤں میں دوبارہ ٹول پلازہ شروع کرنے کی کارروائی شروع ہوگئی ہیں۔ این سی پی(شرد پوار) ضلع کے صدر منوج پردھان نے اس ٹول ناکہ کو شروع کرنے کی مخالفت کی ہے اور انتباہ دیا ہے کہ اگر تھانے اور ممبراکے شہریوں کو اس ٹول پلازہ پر ٹول میں رعایت نہیں دی گئی ہے تو اس کے خلاف احتجاج کریں گے اور اسے بند کر دیں گے۔
اس سلسلے میں تھانے این سی پی (شرد پوار) کی جانب سے اتوار کو اعلامیہ جاری کیاگیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ممبئی ناسک ہائی وے پر ماجھی واڑہ سے وڈپے پروجیکٹ کا کام۹۰؍ فیصد مکمل ہو چکا ہے اور اس لین کی تعمیر اگلے چند مہینوں میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔ اس لئے اگرچہ ممبئی- ناسک ہائی وے اور سمردھی ہائی وے کے ذریعے ممبئی کی طرف سفر تیز ہوگا لیکن ڈرائیوروں کو ٹول کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔ کھاریگاؤں کے پرانے ٹول پلازہ علاقے میں ایک نیا ٹول پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے۔ پارٹی نے اس کی مخالفت کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کلیان: قابل اعتراض وہاٹس ایپ اسٹیٹس رکھنے پر پھل فروش گرفتار
اس سلسلے میں منوج پردھان نے کہا کہ کھاریگاؤں ٹول ناکہ سال۱۹۹۸ءمیں کھولا گیا تھا اور ٹول وصولی کے خلاف کئی احتجاج ہوئے تھے۔ ۲۰۱۷ءمیں یہ ٹول بوتھ مستقل طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے تھانے سے بھیونڈی، کلیان ، بھیونڈی، ناسک، یوور،اُرن اور جے این پی ٹی تک ہزاروں ہلکی، بھاری اور مال بردار گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو ٹول سے مستثنیٰ کر دیا گیا جبکہ ٹول وصولی بند ہوئے صرف۹؍ سال ہوئے ہیں، ماجھی واڑہ-وڈپے پروجیکٹ کی تعمیر اور تکمیل کے بعد ٹول وصولی شروع کرنے کے بارے میں ہمیں اطلاع ملی ہے۔ این سی پی (شردپوار)اس ٹول وصولی کی سخت مخالفت کرے گی۔ انہوںنے مزید کہا کہ ’’گاڑی کی خریداری کے دوران روڈ ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے، یہ ایک بار پھر ٹول لگا کر مہنگائی کا شکار شہریوں کا استحصال کرنے کی کوشش ہے۔ اس ٹول ٹیکس کی وجہ سے نہ صرف عام گاڑیوں کے مالکان پر مالی بوجھ پڑے گا بلکہ سفری اخراجات بڑھنے سے تاجروں کی جانب سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس لئے ہم اس ٹول بوتھ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ حکومت بھاری اکثریت کی حمایت سے ٹول پلازہ کی مخالفت کوبرداشت نہیں کرے گی اس لئے جس طرح ممبئی میں داخل ہونے والے پانچوں ٹول ناکوں کو۱۴؍ اکتوبر ۲۰۲۴ء کو ٹول سے مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا، اسی طرح تھانے کے شہریوں کیلئے اس ٹول سے مستثنیٰ کیا جانا چاہئے۔
یہ بھی پڑھئے: ایچ ایس سی رزلٹ، مہاراشٹر کا نتیجہ ۸۹ء۷۹؍ فیصد
دریں اثناء اگر کھاریگاؤں یا ممبرا کے شہری گھوڑ بندر پہنچنا چاہتے ہیں تو یہ سڑک بہترین آپشن ہے۔ تاہم اگر وہ تھانے شہر آنا چاہتے ہیں یا واپس سفر کرنا چاہتے ہیں تو انہیں دو بار ٹول ادا کرنا پڑے گا۔ یا ٹول سے بچنے کیلئے انہیں پرانے راستے کلوا، کورٹ ناکہ، جمبھالی ناکہ، کھوپٹ جنکشن، ماجھی واڑہ پر ٹریفک جام میں پھنسنا پڑے گا۔ اس لئے متبادل سڑک تیار کی جائے اور تھانے کے مکینوںکو ٹول سے مستثنیٰ کیاجانا چاہئے۔ اگر تھانے کے شہریوں کو کھاریگاؤں ٹول ناکہ پر ٹول سے مستثنیٰ نہیں کیا گیا تو اس ٹول پلازہ کو بند کرنے کا انتباہ این سی پی (شردپوار) نے دیا ہے۔