ہم پڑوسی ممالک پر اپنا تسلط قائم نہیں کرنا چاہتے

Updated: November 24, 2021, 9:28 AM IST | Beijing

چینی صدر شی جن پنگ کا ’آسیان ‘ کے اجلاس سے خطاب، ملائیشیا اور فلپائن نے اپنی تشویش ظاہر کی

Xi Jinping addressing a virtual meeting (Photo: Agency)
ورچوئل اجلاس سے خطاب کے وقت شی جن پنگ( تصویر: ایجنسی)

چینی صدر شی جن پنگ نے کہا  ہےکہ ان کا ملک جنوب مشرقی ایشیاء پر حاوی ہونے یا اپنے چھوٹے پڑوسی ممالک  کے خلاف جارحانہ رویہ اختیار کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔  شی جن پنگ  نے  پیر کو جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کے اتحاد’آسیان‘ کی کانفرنس کے ایک ورچوئل اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ یہ کانفرنس چین اور آسیان ممالک کے درمیان تعلقات کی ۳۰؍ ویںسالگرہ کے سلسلے میں منعقد ہوئی تھی۔
  شی جن پنگ نے خطےمیں اپنی بڑھتی ہوئی طاقت اور اثر و و نفوذ کے بارے میں دیگر ممالک  کی تشویش کو دور کرنے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ  پورے جنوبی بحیرہ چین پر ملکیت کے چینی دعوے کے تعلق سے آسیان رکن ممالک، ملائیشیا، ویت نام، برونائی اور فلپائین کا اختلاف قائم ہے۔  چینی صدر نے کہا کہ چین بالا دستی اور طاقت کے بل پر کی جانے والی سیاست کا سخت  مخالف ہے اور اس کی خواہش ہے کہ پڑوسی ممالک سے اس کے  دوستانہ تعلقات پروان چڑھیں۔ چین کبھی بھی کسی علاقے میں اپنی بالادستی کا خواہاں نہیں رہے گا اور نہ چھوٹے ملکوں کو بزور طاقت دبائے گا۔
 شی جن پنگ کے  خطاب سے چند ہی روز قبل چین کےبحری جہازوں نے فلپائن کی دو کشتیوں کو واپس جانے پر مجبور کر دیا تھا، جو اپنے فوجیوں کیلئے رسد لے کر متنازع جنوبی بحیرہ چین  میں جا رہی تھیں۔فلپائن کے صدر نے اس اجلاس میں اس واقعہ کا ذکر بھی کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ حالیہ کارروائی سخت ناپسندیدہ تھی اور ہمیں اس  اور اس طرح کے دیگر واقعات پر تشویش ہے۔
  یاد رہے کہ ۲۰۱۶ءمیں ہیگ کی عالمی عدالت نے جنوبی بحیرہ چین پر چین کے مکمل ملکیت کے دعوے کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ چین اس مصالحتی حکم نامے کو تسلیم نہیں کرتا۔فلپائن کے صدر نے کہا کہ ہم سب کو ان قوانین پر عمل کر کے جنوبی بحیرہ چین پر امن، مستحکم اور خوشحال علاقہ رہنے دینا چاہئے۔ملائیشیا کے وزیر اعظم اسماعیل صابری یعقوب نے بھی اپنی تقریر میں یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ تسلیم شدہ بین الاقوامی اصولوں اور قوانین کی روشنی میں جنوبی بحیرہ چین کے مسئلے کو پر امن طور پر حل کیا جانا چاہئے۔ ملائیشیا تمام ملکوں پر زور دیتا ہے کہ وہ جنوبی بحیرہ چین کو ایک سمندری علاقہ بنائیں، جو پر امن اور مستحکم ہو اور تجارتی مقاصد کیلئے کھلا ہو۔ تمام فریقوں کو اشتعال انگیزی سے بچنے کیلئے تحمل سے کام لینا ہو گا، تاکہ صورت حال مزید پیچیدہ نہ ہو اور علاقے میں کشیدگی میں اضافہ نہ ہونے پائے۔ واضح رہے کہ چین اس خطے میں اپنی موجودگی کو نہ صرف بڑھا رہا ہے بلکہ یہاں دوسروں کو روکتا بھی آیا ہے۔  واضح رہے کہ اس اجلاس میں میانمار کو شریک نہیں ہونے دیا گیا کیونکہ موجودہ فوجی حکومت عالمی برادری سے منظور شدہ نہیں ہے۔ 

china Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK