مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عوامی شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں انفرادی بنیاد پر ۱۸۱۵۰؍ کروڑ روپے کا خالص نقصان ہوا۔
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 7:04 PM IST | New Delhi
مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عوامی شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں انفرادی بنیاد پر ۱۸۱۵۰؍ کروڑ روپے کا خالص نقصان ہوا۔
مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عوامی شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں انفرادی بنیاد پر ۱۸۱۵۰؍ کروڑ روپے کا خالص نقصان ہوا۔ مغربی ایشیا کے بحران کی شروعات اس سال ۲۸؍ فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے ساتھ ہوئی تھی۔ حملے کے بعد آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے خام تیل کی قیمت اچانک بڑھ گئی۔ اس سے تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کی خام مال کی لاگت بڑھ گئی۔ ملک کی تینوں عوامی شعبے کی تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کو اس کے باعث پہلی سہ ماہی (اپریل-جون ۲۰۲۶ء) کے دوران بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ انڈین آئل کا نقصان ۲۶۶۱؍ کروڑ روپے، بھارت پیٹرولیم کا ۳۹۶۲؍ کروڑ روپے اور ہندوستان پیٹرولیم کا ۱۱۵۲۶؍ کروڑ روپے رہا۔ اس طرح کل ۱۸۱۵۰؍ کروڑ روپے کا خالص نقصان ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:راکھی ساونت نے کہا ’’آج بھی مذہبِ اسلام پر عمل کرتی ہوں ‘‘
وہیں، اس بحران کے درمیان بازار میں ان کمپنیوں کے فروخت کی جانے والی پیٹرولیم مصنوعات جیسے پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی، پی این جی وغیرہ کی قیمتیں بھی بڑھیں۔ اس سے ان کمپنیوں کی مجموعی آپریٹنگ آمدنی میں ۲۴؍ فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ سہ ماہی کے دوران انڈین آئل کی آپریٹنگ آمدنی ۲۷۵۹۷۲؍کروڑ روپے، بھارت پیٹرولیم کی ۱۵۹۴۷۹؍ کروڑ روپے اور ہندوستان پیٹرولیم کی ۱۴۴۵۳۱؍ کروڑ روپے رہی۔ تینوں کمپنیوں کی مجموعی آپریٹنگ آمدنی ۵۷۹۹۸۲؍ کروڑ روپے رہی۔ یہ ایک سال پہلے کے ۴۶۸۳۲۱؍ کروڑ روپے کے مقابلے میں تقریباً ۲۴؍ فیصد زیادہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ساکشی چودھری کی جدوجہد رنگ لائی، دولتِ مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ
سہ ماہی کے دوران خام تیل کی اوسط قیمت انڈین باسٹک میں مسلسل بہتر ہوتی رہی۔ اپریل میں یہ ۴۸ء۱۱۴؍ ڈالر، مئی میں ۲۳ء۱۰۶؍ ڈالر اور جون میں ۲۲ء۸۳؍ ڈالر فی بیرل رہی تھی۔ جولائی میں یہ اوسط اور گھٹ کر ۵۲ء۸۱؍ڈالر فی بیرل رہی جو دوسری سہ ماہی کے لیے اچھے اشارے ہیں۔ تاہم ۳۰؍ جولائی کو انڈین باسٹک میں خام تیل کی قیمت ۰۴ء۹۰؍ڈالر فی بیرل رہی۔