Updated: August 02, 2026, 5:03 PM IST
| Glasgow
ساکشی چودھری کو برسوں سے ہندوستانی باکسنگ کا مستقبل سمجھا جاتا تھا۔ ۱۵؍ برس کی عمر میں جونیئر عالمی چیمپئن اور۱۸؍ سال کی عمر تک مسلسل دو یوتھ عالمی خطابات جیتنے والی بھوانی کی اس باکسر سے توقع تھی کہ وہ سینئر سطح پر بھی ملک کے لیے بڑے اعزازات جیتیں گی، لیکن بار بار کندھے کی چوٹ نے ان کے کیریئر کی رفتار روک دی۔
ساکشی چودھری۔ تصویر:پی ٹی آئی
ساکشی چودھری کو برسوں سے ہندوستانی باکسنگ کا مستقبل سمجھا جاتا تھا۔ ۱۵؍ برس کی عمر میں جونیئر عالمی چیمپئن اور۱۸؍ سال کی عمر تک مسلسل دو یوتھ عالمی خطابات جیتنے والی بھوانی کی اس باکسر سے توقع تھی کہ وہ سینئر سطح پر بھی ملک کے لیے بڑے اعزازات جیتیں گی، لیکن بار بار کندھے کی چوٹ نے ان کے کیریئر کی رفتار روک دی۔
یہ بھی پڑھئے:سونو نگم کا دعویٰ: کاپی رائٹ کی لڑائی کے بعد ٹی سیریز اور زی میوزک نے مجھ پر پابندی لگا دی
جب ان کی ہم عصر باکسر دولتِ مشترکہ کھیل، ایشیائی کھیل اور اولمپکس میں حصہ لے رہی تھیں، ساکشی چوٹ کے باعث ایک کے بعد ایک موقع گنواتی رہیں۔ پھر ۲۰۲۶ء کے دولتِ مشترکہ کھیلوں کے انتخاب سے قبل انہیں ایک اور بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑا۔۵۴؍ کلوگرام زمرے میں ایشیائی چیمپئن پریتی پوار کی مضبوط دعویداری کے باعث ساکشی نے کوچوں کے مشورے پر ۵۱؍کلوگرام زمرے میں اترنے کا فیصلہ کیا۔
وزن تبدیل کرنا صرف چند کلو کم کرنے کا نام نہیں ہوتا، بلکہ رفتار، طاقت اور برداشت کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ ساکشی نے یہ مشکل مرحلہ کامیابی سے طے کیا، لیکن اصل امتحان ابھی باقی تھا۔ ہندوستانی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے انہیں دو عالمی چیمپئن، نکہت زرین اور میناکشی ہڈا کو شکست دینا تھی۔ ساکشی نے پہلے نکہت اور پھر ٹرائلز میں میناکشی کو شکست دے کر ثابت کر دیا کہ وہ صرف سابق یوتھ چیمپئن نہیں بلکہ عالمی سطح پر مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ بقول مبصرین، یہ کامیابیاں گلاسگو میں پیش آنے والے ہر مقابلے سے زیادہ مشکل تھیں۔
دولتِ مشترکہ کھیلوں میں ساکشی نے غیر معمولی اعتماد کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے چاروں مقابلے متفقہ فیصلے سے جیتے۔ جنوبی افریقہ کی لیتھابو مودوکانالے، شمالی آئرلینڈ کی کیٹلن فرائرس، کنیڈا کی ایمبر جین وال اور فائنل میں انگلینڈ کی روبی وائٹ ان کے سامنے بے بس نظر آئیں۔ فائنل میں بھی ساکشی نے اپنی لمبی پہنچ، درست پنچ اور بہترین حکمت عملی کی بدولت روبی وائٹ کو سنبھلنے کا موقع نہیں دیا اور متفقہ فیصلے سے اپنے پہلے ہی دولتِ مشترکہ کھیلوں میں طلائی تمغہ جیت لیا۔
یہ بھی پڑھئے:سات برس کی محبت، صرف ایک ماہ کی شادی، میجر حمزہ عارف ترنگے میں لپٹے گھر پہنچے
ساکشی کی یہ کامیابی صرف گلاسگو میں چار فتوحات کا نتیجہ نہیں بلکہ برسوں کی محنت، چوٹوں سے واپسی، وزن کا زمرہ تبدیل کرنے اور عالمی چیمپئن حریفوں کو شکست دینے کی جدوجہد کا ثمر ہے۔ ہندوستانی خواتین کی باکسنگ کے لیے بھی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ قومی سطح پر مقابلہ اس قدر سخت ہو چکا ہے کہ دولتِ مشترکہ کھیلوں کی ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے پہلے عالمی چیمپئن باکسروں کو شکست دینا پڑتی ہے۔ اب ساکشی کی نظریں ایشیائی کھیلوں، عالمی چیمپئن شپ اور ۲۰۲۸ء اولمپکس پر ہیں، جہاں وہ ایک سابق جونیئر اسٹار نہیں بلکہ دولتِ مشترکہ کھیلوں کی چیمپئن کی حیثیت سے اتریں گی۔