بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور ٹی وی شخصیت راکھی ساونت نے بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں اپنی مذہبی زندگی، اسلام قبول کرنے، حج و عمرہ اور اپنے موجودہ عقیدے کے بارے میں کھل کر بات کی ہے ۔یہ انٹرویو انہو ںنے بی بی سی ہندی کو دیا ہے۔
EPAPER
Updated: August 02, 2026, 5:04 PM IST | Mumbai
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور ٹی وی شخصیت راکھی ساونت نے بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں اپنی مذہبی زندگی، اسلام قبول کرنے، حج و عمرہ اور اپنے موجودہ عقیدے کے بارے میں کھل کر بات کی ہے ۔یہ انٹرویو انہو ںنے بی بی سی ہندی کو دیا ہے۔
بالی ووڈ کی معروف اداکارہ اور ٹی وی شخصیت راکھی ساونت نے بی بی سی کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں اپنی مذہبی زندگی، اسلام قبول کرنے، حج و عمرہ اور اپنے موجودہ عقیدے کے بارے میں کھل کر بات کی ہے ۔یہ انٹرویو انہو ںنے بی بی سی ہندی کو دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:سات برس کی محبت، صرف ایک ماہ کی شادی، میجر حمزہ عارف ترنگے میں لپٹے گھر پہنچے
راکھی ساونت نے بتایا کہ ان کی زندگی میں اسلام سے وابستگی کا آغاز ان کے سابق شوہر عادل خان درانی سے شادی کے بعد ہوا۔ شادی کے دوران انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام فاطمہ رکھا، تاہم اب وہ عوامی سطح پر دوبارہ راکھی ساونت ہی کہلاتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ اب فاطمہ نام استعمال نہیں کرتیں لیکن وہ آج بھی اسلام پر عمل کرتی ہیں اور خود کو مسلمان مانتی ہیں۔ ان کے مطابق ان کی شادی ختم ہو چکی ہے، مگر اسلام سے ان کا تعلق برقرار ہے۔
حج اور عمرہ کے بارے میں کیا کہا؟
بی بی سی سے گفتگو میں راکھی ساونت نے بتایا کہ وہ حج اور عمرہ کی سعادت حاصل کر چکی ہیں اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی حاضری کو اپنی زندگی کا انتہائی روحانی تجربہ قرار دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا ارادہ مستقبل میں بھی دوبارہ حرمین شریفین جانے کا ہے۔
اسلام نے مجھے سکون دیا
راکھی ساونت نے کہا کہ اسلام نے انہیں اندرونی سکون اور روحانی اطمینان عطا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اللہ پر کامل یقین رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق مذہب ان کی ذاتی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔وہ مذہب ِ اسلام پر عمل کرنے میں ہی زندگی کا سکون تلاش کرتی ہیں۔
کون سا مذہب مانتی ہیں؟
اس سوال کے جواب میں راکھی ساونت نے واضح کیا کہ وہ آج بھی اسلام پر قائم ہیں ، اگرچہ تفریحی دنیا اور بالی ووڈ میں انہیں اب بھی راکھی ساونت کے نام سے ہی جانا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نام بدلنے یا نہ بدلنے سے زیادہ اہم بات ان کا ایمان اور مذہبی عمل ہے۔