چھٹی لائن کے جاری کام کے سبب بڑی تعداد میں لوکل ٹرینیں منسوخ رہیں گی۔ طویل مسافتی ٹرینیں ۲۰؍جنوری تک وسئی اسٹیشن تک ہی چلائی جائیںگی ۔ ۳؍جنوری سے میمو ٹرینوں میںبھی تبدیلی کی جارہی ہے۔
کاندیولی اور بوریولی کے درمیان چھٹی لائن کے کام کی وجہ سے کئی لوکل ٹرینیں منسوخ کی گئی ہیں۔ تصویر: آئی این این
نیا سال ابتداء میں ویسٹرن ر یلوے کے تقریباً ۴۰؍لاکھ مسافرو ں کے لئے ۱۸؍ جنوری تک مشکلات بھرا رہے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مذکورہ تاریخ تک کاندیولی اوربوریولی کے درمیان چھٹی لائن کے کام کے لئے روزانہ شب میں۱۱؍بجے سے صبح ساڑھے ۴؍بجے تک بلاک رہے گا۔ اس دوران روزانہ ۸۵؍سے ۱۰۰؍لوکل ٹرینیںمنسوخ رہیں گی جبکہ سنیچر اوراتوار کو یہ تعداد اوربڑھ جائے گی۔ ریلوے انتظامیہ کے مطابق ۱۸؍جنوری کے بعد مسافروں کو راحت ملے گی اور بوریولی چرچ گیٹ کے درمیان تقریباً ۲۰؍ سروسیز کا اضافہ کیا جائے گاجس سے ہزاروں مسافروں کو بھیڑ بھاڑ سے راحت ملے گی۔
اسی طرح بلاک کے سبب کچھ میل/ایکسپریس ٹرینوں کو وسئی روڈ اسٹیشن پر ہی ختم کردیا جائے گا۔ وہ ٹرینیں کچھ اس طرح ہیں :ٹرین نمبر ۱۹۴۲۶؍ نندوربار-بوریولی ایکسپریس اور ٹرین نمبر ۱۹۴۱۸؍ احمد آباد-بوریولی ایکسپریس کو وسئی روڈ ریلوے اسٹیشن پرہی ۲۰؍جنوری تک مختصر طور پر ختم کردیا جائے گا۔ اسی طرح ٹرین نمبر۱۹۴۲۵؍ بوریولی- نندوربار ایکسپریس اور ٹرین نمبر ۱۹۴۱۷؍ بوریولی- احمد آباد ایکسپریس کو۱۸؍ جنوری۲۰۲۶ء تک وسئی روڈ اسٹیشن سے مختصر روٹ پر چلائی جائیں گی۔اس کی تفصیلات متعلقہ اسٹیشن سپرنٹنڈنٹس کو مہیا کرائی گئی ہیں۔
اس تعلق سے مسافروں کو آگاہ کیاگیا ہے کہ وہ مندرجہ بالا تبدیلیوں کوذہن نشین کرلیں اور اس کے مطابق اپنے سفر کے تئیں منصوبہ بندی کریں۔
دریں اثناء سنیچر ۳؍جنوری ۲۰۲۶ء سےمیمو ٹرینوں میں بھی تبدیلی کی جارہی ہے اورویرار سنجان اورسنجان سورت میمو ٹرین کو ضم کرکے اسے معمول کے مطابق چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس انضمام کے بعد ٹرین نمبر ۶۹۱۴۱؍ویرار سورت میمو ، ویرار سے سوا ۵؍بجے روانہ ہوگی اوراسی دن ۱۰؍بجکر ۳۰؍ منٹ پر سورت پہنچےگی ۔ اسی طرح ٹرین نمبر ۶۹۱۴۲؍ سورت ویرار میمو ،سورت سے شام کوساڑھے ۵؍ بجےروانہ ہوگی اور اسی رات ساڑھے ۱۱؍ بجے ویرار پہنچے گی ۔ مسافر اس تبدیلی کو بھی ذہن میںرکھیں ۔
ویسٹرن ر یلوے کے چیف پی آر او ونیت ابھیشک نےنمائندۂ انقلاب کوبتایاکہ’’یہ بہت اہم کام کیا جارہا ہے،اس دوران مسافروں کو ہونے والی پریشانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس سےقبل بھی اسی کام کے لئے تقریباً دوماہ تک باندرہ اورکاندیولی کےدرمیان بلاک کیا گیا تھا، اب وہی کام آگے بڑھانے کے لئے بلاک کیا جارہا ہے ۔‘‘ انہوں نےیہ بھی بتایا کہ ’’چھٹی لائن کاکام پورا ہونے کےبعد ایک لائن الگ سے ہوجائے گی ، اس سے میل اورایکسپریس ٹرینوں کو بغیرکسی رکاوٹ کے چلایا جاسکے گا اورفاسٹ لوکل ٹرینوں کے بھی پٹریاں تبدیل کرنے کی ضرورت نہیںپڑےگی۔اس سے وقت کی پابندی ہوگی ، مسافروں کا وقت بچے گا، زائد ٹرینیں چلائی جاسکیںگی اس سے بھی مسافروں کو بھیڑبھاڑ سے نجات ملے گی اورسفر آسان ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ مسافروں سے بار بار یہ اپیل کی جارہی ہے کہ وہ ہونے والی پریشانی کو نظراندازکرتے ہوئے ریلوے انتظامیہ سے تعاون کریں۔‘‘