Inquilab Logo Happiest Places to Work

آخربنگال میں غیر معمولی۹۲ء۹۰ ؍ فیصد پولنگ کی وجہ کیا ہے ؟

Updated: April 24, 2026, 11:44 PM IST | Kolkata

ہندوستان کی انتخابی تاریخ میں اب تک اتنی پولنگ کبھی نہیں ہوئی، کہیں نہیں ہوئی اس لئے انقلاب نے اس کی ممکنہ وجوہات پر غور کیا اور اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ پانچ وجوہات ہوسکتی ہیں

Despite the scorching heat in West Bengal, a large number of voters came out of their homes and cast their votes. (Photo: PTI)
مغربی بنگال میںسخت گرمی کے باوجود بڑی تعداد میںووٹر گھروں سے نکلے اور ووٹ دیا۔(تصویر: پی ٹی آئی )

مغربی بنگال میں پہلے مرحلے میں ریکارڈ۹۲ء۹۰؍ فیصدپولنگ ریکارڈ کی گئی ہے جو غالباً ملک کی تاریخ کی اب تک کی سب سے زیادہ پولنگ ہے۔ اس سے قبل شمال مشرقی ریاستوں میں ۸۰؍ سے ۸۵؍ فیصد کے درمیان پولنگ ہوتی تھی لیکن گزشتہ روز بنگال نے وہ سبھی ریکارڈ توڑ دئیے ۔ بنگال میں گزشتہ الیکشن میں جو ۲۰۲۱ء میں کورونا کے سائے میں ہوا تھا اور بی جے پی نے تب بھی بہت زورلگایا تھا لیکن جیت نہیں سکی تھی،تب ۸۲؍ فیصد پولنگ ہوئی تھی ۔ اس وقت الیکشن کئی مرحلوں میں ہوا تھا لیکن اس مرتبہ صرف ۲؍ ہی مرحلوں میں الیکشن ہو گا اور اگلے مرحلے میں ۲۹؍ اپریل کو ووٹ ڈالے جائیں گے ۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ ۲۰۲۱ء اور اس سے قبل ۲۰۱۶ء میں بھی پولنگ کے دوران اتنی زیادہ ووٹنگ نہیں ہوئی تھی جتنی ۲۰۲۶ء کے پہلے مرحلے میں ہوئی ہے۔ اس کی کئی وجوہات بتائی جارہی ہیں لیکن ایس آئی آر کو ہی سب سے بڑی اور اہم وجہ مانا جارہا ہے کیوں کہ اس مرتبہ ووٹر لسٹ سے لاکھوں نام حذف ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے  ووٹرس کی تعداد کم ہوئی ہے اور اسی سبب ووٹنگ فیصد میں اضافہ نظر آرہا ہے۔ حالانکہ یہ بھی حقیقت ہے کہ بنگال میں گزشتہ تمام الیکشن میں ووٹنگ فیصد ۷۵؍ سے زائد ہی رہا ہے اور اس مرتبہ ایس آئی آر نے ووٹرس کو زیادہ بیدار کردیا۔ 

(۱) خصوصی جامع ووٹنگ 
 بنگال میں غیر معمولی ووٹنگ کو الیکشن کمیشن کی ’’خصوصی جامع نظر ثانی‘‘ کے جواب میں ’’خصوصی جامع ووٹنگ‘‘ قرار دیا جاسکتاہے۔ ۹۱؍ لاکھ نام کٹنے کے بعدیہ اپنے حق رائے دہی کے تئیں عوام کی بیداری اور اس کے تحفظ کے احساس کا نتیجہ ہے۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ حتمی ووٹنگ فیصد کے مطابق مغربی بنگال میں ۹۲ء۹۰؍ فیصد پولنگ ہوئی ہےجو اس ریاست میں اب تک کا ریکارڈ ہے۔اسے عوامی بیداری کا نام بھی دیا جارہا ہے اور ایس آئی آر کو بھی وجہ قرار دیا جارہا ہے۔ 

(۲) مقابلہ سخت تھا 
  ایک طرف جہاں بی جےپی  نے اقتدار پر قبضہ کرنے کیلئے ہر ممکن حربہ آزمایا ہے وہیں ٹی ایم سی اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔ یعنی مقابلہ بہت سخت ہے اور ایسی صورت میں دونوں پارٹیوں کے حامی  ووٹر یادہ تعداد میں نکلے کیونکہ انہیں احساس تھاکہ ان کا ووٹ فیصلہ کن ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ چونکہ ایس آئی آر کو ایک بڑے طبقہ نے این آر سی کی مشق  کے طورپر دیکھا ، نام کٹنے  سے لوگوں  میں بے چینی پیدا  ہوئی  اور یہ بے چینی  ووٹنگ میں اضافہ کا سبب بن گئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایس آئی آر کی وجہ سےووٹرس میں بیداری بھی پیدا ہوئی اور بے چینی بھی کہ ان کا نام بھی حذف ہو سکتا ہے ۔

(۳) ووٹرس نےایس آئی آر کیخلاف احتجاجاً ووٹ دیا !
 چونکہ بڑی تعداد میں ووٹرس کے نام  حذف ہوئے ہیں اس لئے جن کے نام فہرست میں باقی ہیں، وہ بڑی تعداد میں ووٹنگ کے لئے نکلے۔بمپر پولنگ کو ان کے احتجاج  کے طور پر بھی دیکھا جارہا ہے۔انہوں نے اسے اپنی ذمہ داری سمجھا کہ نتائج کو ووٹ کٹنے کے اثر سے محفوظ رکھا جائے،اس لئے وہ بڑی تعداد میں گھروں سے باہر نکلے۔ ایسے میں اسے ممتا کی فتح قرار دیا جاسکتا ہے کیوں کہ انہوں نے اپنے تمام ووٹرس کوذہنی طور پر اس بات کے لئے آمادہ کیا کہ بڑی تعداد میں نکلیں اور ایس آئی آر کے خلاف اپنا احتجاج درج کروائیں۔ حالانکہ بی جے پی اسے اپنے حق میں قرار دے رہی ہے ۔ اس کا دعویٰ ہے کہ جب بھی کہیں زیادہ پولنگ ہوتی ہے نتائج بی جے پی کے حق میں آتے ہیں۔ 

(۴) اقلیتی ووٹرس نے اپنا جمہوری حق کا بھرپور استعمال کیا 
 ’’درانداز‘‘ کے نام پر کارروائیوں کی دھمکیاں، یو سی سی کے نفاذ کا اعلان  اور ایسے دیگر اندیشوں  نے اقلیتی ووٹرس کو اپنے جمہوری حق کے استعمال کے تئیں فکر مند کیا۔ بنگال الیکشن جیتنے کیلئے دہلی کے حکمراں محاذ نے بنگال میں دراندازوں کی گھس پیٹھ کا ہوّا کھڑا کیا اور اسی کے دم پر انتخابی بیانیہ بھی ترتیب دیا جس کی وجہ سے بنگال کے اقلیتی ووٹرس جو تقریباً ۳۰؍ فیصد ہیں، نے بھرپور ووٹنگ کا فیصلہ کیا ۔ بنگال کے کچھ اضلاع میں مسلم ووٹرس کی تعداد ۶۰؍ فیصد کے قریب ہے۔ساتھ ہی  بی جےپی اور ٹی ایم سی دونوں  نے اپنی فتح کو یقینی بنانے کیلئے آخری ووٹر تک پہنچنے کی مہم چلائی اور الیکشن کے وقت رائے دہندگان کو گھروں سے نکال کر پولنگ بوتھ تک لانے میں کامیابی حاصل کی۔

(۵) حفاظتی عملہ کی غیر معمولی تعیناتی 
 سیکوریٹی فورسیز کی غیر معمولی تعیناتی اور ’’سنگینوں کے سائے میں الیکشن ‘‘ جیسی صورتحال نے ووٹرس کی برہمی میں  اضافہ کیا  جس کا اظہار انہوں  نے زیادہ ووٹنگ کے ذریعہ کیا۔ ایک اور اہم وجہ جو سامنے آئی ہے وہ ایس آئی آر کی وجہ سے انتخابی فہرست  سے ۹۱؍ لاکھ نام حذف ہونے کی ہے۔ بنگال کی ووٹر لسٹ  سے ۱۱ء۶۳ ؍فیصد نام کٹے  ہیں  چونکہ ووٹرس کی مجموعی  تعداد گھٹی ہے،اس لئےفیصد بڑھا ہوا نظر آرہا ہے۔ گزشتہ الیکشن میں ۸۱؍ فیصد پولنگ ہوئی تھی جبکہ اس مرتبہ پہلے مرحلے میں تقریباً ۹۳؍ فیصد پولنگ ہوئی ہے۔  ووٹنگ فیصد میں یہ فرق  بنگال کے انتخابی ماہرین کے مطابق انتخابی فہرست سے لاکھوںنام نکل جانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اب اگلے مرحلے پر سبھی کی نگاہیںمرکوز ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK