Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال: کئی اضلاع میں مارپیٹ، ہمایوں کبیر پر حملہ، بی جے پی ایجنٹ قرار دیا گیا

Updated: April 24, 2026, 1:18 PM IST | Mumbai

جنوبی دیناج پور میںبی جے پی امیدوار شوبھندوسرکارکوبھی ماراپیٹا گیا ،اسپتال لے جانا پڑا ،الیکشن کمیشن نےمتاثرہ ضلعوںکے انتظامیہ سے واقعات پر رپورٹ طلب کرلی۔

Shobhindu Sarkar was attacked in South Dinajpur. Photo: INN
جنوبی دیناج پور میں شوبھندو سرکار پر حملہ کیا گیا۔ تصویر: آئی این این

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی پولنگ کے دوران کچھ تشدد کی وارداتیں بھی ہوئیںجن پر الیکشن کمیشن نے رپورٹ طلب کی ہے۔ جمعرات کو ریاست کی۱۵۲؍سیٹوں پر ووٹنگ کے دوران مرشد آباد، بیر بھوم اور جنوبی دیناج پور جیسے اضلاع سے کشیدگی کی اطلاع ملی ۔الیکشن کمیشن نے ان پرتشدد واقعات کا نوٹس لیتے ہوئے ضلع انتظامیہ سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔

سب سے سنگین جھڑپیں ضلع مرشد آباد کے نودا علاقے میں ہوئی جہاں عام جنتا اُنین پارٹی (اے جے یو پی) اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے حامیوں میں جھڑپ ہوئی ۔ اے جے یو پی کے بانی ہمایوں کبیر شیو نگر گاؤں کے پولنگ بوتھ پر پہنچے تو ترنمول کے حامیوں نے انہیں گھیر لیا اور انہیں بی جے پی ایجنٹ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی، یوپی اور بہار میں شدید گرمی، اتراکھنڈ میں بارش اور برف باری کے آثار

اچانک دونوں گروپوں نے ایکدوسرے پر پتھراؤ کیا جس میں کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ پولیس اور مرکزی فورسیز کو بھیڑ کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج کا سہارا لینا پڑا۔ہمایوں کبیر نے  پولیس اور ٹی ایم سی پر ووٹروں کو دھمکانےکا الزام لگایا جبکہ ٹی ایم سی امیدوار شاہینہ ممتاز خان نے اس الزام کی سختی سے تردید کی۔

تشدد دوسرے اضلاع میں بھی پھیل گیا اوربی جے پی کے نمائندوں کو بھی نشانہ بنایاگیا۔  بیر بھوم کے لابھ پورمیں بی جے پی امیدوار دیباشیش اوجھا کے پولنگ ایجنٹ پر مہلک ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا۔ ایجنٹ کے سر پر شدید چوٹیں آئیں اور بی جے پی نے اس حملے کا الزام ترنمول پر لگایا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سنجے گائیکواڑ کی گووند پانسرے کی کتاب شائع کرنے والے پبلشر کو دھمکی

جنوبی دیناج پور کے کمار گنج اسمبلی حلقے میںبی جے پی امیدوار شوبھندو سرکار پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ پولنگ اسٹیشن کی طرف جارہے تھے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ پولیس کی موجودگی میں انہیں ٹی ایم سی کے حامیوں نے مارا پیٹا جس کے بعد انہیں اسپتال لے جانا پڑا۔متعدد شکایتوں کے بعد الیکشن کمیشن نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ کمیشن نے مرشدآباد سمیت تمام متاثرہ علاقوں کے ضلعی عہدے داروں سے واقعات کی رپورٹ مانگی ہے ۔ حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ویڈیو فوٹیج کے ذریعے حملہ آوروں کی شناخت کی جا رہی ہے اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK