Updated: April 24, 2026, 1:22 PM IST
| Mumbai
بنگال کے مختلف اضلاع میں ووٹنگ کا رجحان خاصا مضبوط رہا ، کوچ بہار، جنوبی دیناج پور اور جلپائی گوڑی جیسے اضلاع میں۹۰؍ فیصد سے زیادہ پولنگ درج کی گئی، دارجلنگ اور کالیمنگ جیسے پہاڑی علاقوں میں بھی و وٹنگ کی شرح معقول رہی ،تمل ناڈو میں بھی عوام بڑی تعداد میںاپنے گھروں سے نکلے۔
نندی گرام کے ایک پولنگ بوتھ پر ووٹر۔ (پی ٹی آئی)
مغربی بنگال اور تمل ناڈو اسمبلی انتخابات کیلئے جمعرات کوہوئی پولنگ میںعوام کا زبر دست جوش وخروش نظر آیا۔لوگ بڑھ چڑھ کرپولنگ مراکز پہنچے اور اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ شام۶؍ بجے تک مغربی بنگال میں۹۱ء۷۸؍ فیصد جبکہ تمل ناڈو میں ۸۴ء۴۱؍ فیصد ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔تمل ناڈو میںگزشتہ اسمبلی انتخابات میں۷۶؍ فیصدکے قریب پولنگ ہوئی تھی اور یہ پہلی مرتبہ ہےکہ۸۰؍فیصد سے زائدپولنگ ریکارڈ کی گئی۔
مغربی بنگال میں مختلف اضلاع میں ووٹنگ کا رجحان خاصا مضبوط رہا ۔ کوچ بہار، جنوبی دیناج پور اور جلپائی گوڑی جیسے اضلاع میں۹۰؍ فیصد سے زیادہ ووٹنگ درج کی گئی جو عوامی شمولیت کی واضح مثال ہے۔ بیر بھوم، مرشد آباد اور جھارگرام میں بھی ووٹنگ کا تناسب۹۰؍ فیصد کے آس پاس رہا، جبکہ دارجلنگ اور کالیمنگ جیسے پہاڑی علاقوں میں بھی معقول شرح دیکھنے کو ملی۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری اور دیہی دونوں علاقوں میں ووٹروں نے بھرپور حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھئے: سنجے گائیکواڑ کی گووند پانسرے کی کتاب شائع کرنے والے پبلشر کو دھمکی
ریاست کے دیگر اضلاع جیسے مغربی مدنا پور، مشرقی مدنا پور، مالدہ اور شمالی دیناجپور میں بھی ووٹنگ کا تناسب۸۵؍ فیصد سے زیادہ رہا جو انتخابی عمل میں عوامی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے ۔ ماہرین کے مطابق اس بار ووٹروں کی بڑی تعداد نے گھروں سے نکل کر جمہوری عمل میں حصہ لیا جو مستقبل کے انتخابات کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔
تمل ناڈو میںخواتین اور معمر افراد کی بڑی تعداد پولنگ مراکز پہنچی
دوسری جانب تمل ناڈو میں بھی ووٹنگ کا رجحان کافی حوصلہ افزا رہا۔ کئی اضلاع جیسے کرور، سیلم، ایروڈ اور نمکل میں ۸۵؍ فیصد سے زائد ووٹنگ درج کی گئی۔ اگرچہ کچھ شہری علاقوں جیسے چنئی اور مدورئی میں ووٹنگ کا تناسب نسبتاً کم رہا، تاہم مجموعی طور پر ریاست میں عوام کی دلچسپی واضح طور پر نظر آئی۔دیہی علاقوں میں خاص طور پر خواتین اورمعمرافراد کی بڑی تعداد نے ووٹنگ مراکز کا رخ کیا جس سے ووٹنگ فیصد میں اضافہ ہوا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابی عمل پرامن رہا اور کہیں سے بھی کسی بڑی بے ضابطگی کی اطلاع نہیں ملی۔سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اس بلند ووٹنگ فیصد کا اثر انتخابی نتائج پر بھی پڑ سکتا ہے، کیونکہ زیادہ ووٹنگ عام طور پر تبدیلی یا مضبوط عوامی رائے کی نشاندہی کرتی ہے۔ مغربی بنگال میں دوسرے مرحلے کی پولنگ ۲۹؍ اپریل کو ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی، یوپی اور بہار میں شدید گرمی، اتراکھنڈ میں بارش اور برف باری کے آثار
بنگال میں تبدیلی کا اشارہ مل گیا ہے: مودی
وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ بنگال سے موصول ہونے والی اطلاعات نے تبدیلی کی ہواؤں کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جہاں بھی ووٹر ٹرن آؤٹ زیادہ تھا وہاں بی جے پی جیتی ہے۔ کرشن نگر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا ’’ اس بار بنگال کے کئی اضلاع میں ٹی ایم سی کھاتہ بھی نہیں کھولے گی۔میں کہہ سکتا ہوں کہ پچھلے۵۰؍سال میں یہ پہلا الیکشن ہے جہاں تشدد سب سے کم رہا ہے۔ اس سے پہلے وہ کسی کو پھانسی دیتے تھے اور دعوی کرتے تھے کہ اس شخص نے خودکشی کی ہے۔ وہاں غنڈہ راج چل رہا تھا۔ میں مغربی بنگال کی سرزمین پر جمہوریت قائم کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔‘‘