جب جب شرد پوار نے گوتم اڈانی سے ملاقات کی ہے ، مہاراشٹر کی سیاست میں کوئی دھماکہ ہوا ہے ، حالیہ ملاقات کے بعدسپریہ سلے کے مرکز میں وزیر بننے کی چہ میگوئیاں جاری ہیں، جلد حقیقت پر سے پرد ہ اٹھے گا
EPAPER
Updated: January 01, 2026, 11:18 PM IST | Mumbai
جب جب شرد پوار نے گوتم اڈانی سے ملاقات کی ہے ، مہاراشٹر کی سیاست میں کوئی دھماکہ ہوا ہے ، حالیہ ملاقات کے بعدسپریہ سلے کے مرکز میں وزیر بننے کی چہ میگوئیاں جاری ہیں، جلد حقیقت پر سے پرد ہ اٹھے گا
ایک طرف انڈیا اتحاد کے قائد سمجھے جانے والے راہل گاندھی مسلسل وزیر اعظم مودی کے ساتھ صنعتکار گوتم اڈانی کو نشانہ بناتے ہیں کہ ملک میں جاری دھاندلیوں اور بدعنوانیوں کیلئے وہی ذمہ دار ہیں تو دوسری طرف ان کے حلیف شرد پوار، اڈانی سے اپنی قربت کا اظہار کرنے کا کوئی موقع ہاتھ جانے نہیں دیتے۔ گزشتہ دنوں بارامتی میں این سی پی کے بانی شرد پوار کا پورا خاندان یکجا تھا۔ موقع تھا شرد پوار اے آئی سینٹر کے افتتاح کا۔ اجیت پوار، سپریہ سلے، سونیترا پوار، روہت پوار، یوگیندر پوار، غرض یہ کہ پوار خاندان کا کوئی فرد نہیں تھا جس نے اس پروگرام میں شرکت نہ کی ہو۔ اہم بات یہ تھی کہ اس تقریب میںصنعتکار گوتم اڈانی اور ان کی اہلیہ مہمان خصوصی تھے۔
شرد پوارنے جب جب صنعتکار گوتم اڈانی سے ملاقات کی ہے تب تب مہاراشٹر کی سیاست میں کوئی دھماکہ ہوا ہے۔ یہ سلسلہ ۲۰۱۴ء سے جاری ہے جب اجیت پوار کے مطابق شرد پوار کی قیادت میں این سی پی کے کچھ بڑے لیڈران دہلی میں گوتم اڈانی کی رہائش گاہ پر گئے تھے۔ وہاں ان کی ملاقات امیت شاہ سے ہوئی تھی۔ اس میں یہ طے کیا گیا تھا کہ بہت جلد این سی پی مہاراشٹر میں بی جے پی کے ساتھ حکومت میں شامل ہوگی۔ اسی کے بعد کانگریس اور این سی پی نے علاحدہ الیکشن لڑنے کا اعلان کیا اور شیوسینا ( اس قت غیر منقسم) نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ دیا۔ جب انتخابات کے نتائج آئے تو بی جے پی کو ۱۲۰؍ سیٹیں ملیں، جبکہ شیوسینا کو ۶۰؍ ، کانگریس کو ۴۴؍ اور این سی پی کو ۴۰؍، یعنی بی جے پی سب سے بڑی پارٹی ہونےکے باوجود اقتدار سے دور تھی۔ ظاہر سی بات ہے کہ کانگریس اور این سی پی تو (سیکولر ہونے کی بنا پر) بی جے پی کا ساتھ نہیں دے سکتے تھے۔ اس کی ساری توقعات شیوسیناہی کے ساتھ تھی۔ اچانک این سی پی کے پرفل پٹیل ٹی وی پر نمو دار ہوتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ ’’ عوام نے چونکہ بی جے پی کو یکطرفہ اکثریت دی ہے اس لئے این سی پی اس کی بلا شرط حمایت کرنے کیلئے تیار ہے۔‘‘ اس اعلان سے جہاں سیکولر ووٹر حیران رہ جاتے ہیں وہیں شیوسینا بھی سکتے میں آجاتی ہے۔ اس کے ہاتھ آیا سودا کرنے کا ایک بڑا موقع این سی پی کے اس اعلان کی وجہ سے نکل جاتا ہے۔ بالآخر بی جے پی ’نظریات‘ کی بنیاد پر این سی پی کا ساتھ لینے کے بجائے شیوسینا سے ہاتھ ملاتی ہے اور شیوسینا بھی کوئی راستہ باقی نہ رہ جانے کے سبب ا س ہاتھ کو تھام لیتی ہیں۔
اجیت پوار نے کئی سال بعد یہ انکشاف کیا کہ شرد پوار اور امیت شاہ کے درمیان یہ طے ہو گیا تھا کہ الیکشن کے بعد بی جے پی اور این سی پی مل کر حکومت بنائیں گے لیکن اسی بنا پر پرفل پٹیل نے یہ اعلان کیا تھا لیکن اعلان کے بعد اچانک شرد پوار نے اپنا فیصلہ بدل دیا۔ انہوں نے امیت شاہ سے کہہ دیا کہ ہم نے اگر نظریات سے انحراف کیا تو ہمارے ووٹرس ناراض ہو جائیں گے اس لئے ہم اتحاد نہیں کر سکتے۔ اس کے بعد ۲۰۲۳ء میں شرد پوار اور اڈانی ایک ساتھ نظر آئے تھے جب اڈانی خود ممبئی میں واقع پوار کی رہائش گاہ ’سلور اوک‘ پہنچے تھے۔ دونوں میں کیا بات ہوئی کسی کو نہیں معلوم لیکن یہ وہی وقت تھا جب راہل گاندھی پارلیمنٹ میں اڈانی کے خلاف مہم چلا رہے تھے اور ان کے تعلق سے جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کی جانچ کا مطالبہ کر رہے تھے۔ راہل کی یہ مہم موثر ثابت ہو رہی تھی۔ اسی دوران اچانک شرد پوار نے ٹی وی پر بیان دیدیا کہ وہ اڈانی کے خلاف جوائنٹ پارلیمانی کمیٹی کی جانچ کے حق میں نہیں ہیں کیونکہ اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کے بعد پوار کے کئی بیانات ایسے آئے جو انڈیا اتحاد کے موقف کے برخلاف تھے۔ خیر پوار تو انڈیا اتحاد میں رہے لیکن ان کی پارٹی کے سب سے مضبوط لیڈران اجیت پوار کی قیادت میں مہایوتی میں شامل ہو گئے۔ اس کے بعد سے ملک میں سیکولر ازم اور کمیونل ازم کے درمیان لکیر مٹتی چلی گئی۔
اس وقت راج ٹھاکرے سمیت کئی اہم لوگوں نے کہا تھا کہ اجیت پوار نے بغاوت نہیں کی ہے بلکہ شرد پوار کی مرضی سے وہ مہایوتی میں شامل ہوئے ہیں۔ بہت جلد سپریہ سلے بھی مرکزی کابینہ میں وزیر کے طور پر نظر آئیں گی۔ یہ بات اب تک تو درست ثابت نہیں ہوئی لیکن گزشتہ ۲۸؍ دسمبر کو بارامتی میں اڈانی کے پوار خاندان کے درمیان نظر آنے پرکم از کم مراٹھی صحافیوں نے یہ لکھنا شروع کر دیا ہے کہ بہت جلد سپریہ سلے این ڈی اے میں شامل ہونے کا اعلان کر سکتی ہیں کیونکہ شرد پوار کچھ عرصہ پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ ان کی پارٹی کے کچھ لوگ چاہتے ہیں اب این سی پی کو پوری طرح این ڈی اے میں شامل ہوجانا چاہئے اور حکومت میں حصہ دار بننا چاہئے لیکن اس کا فیصلہ سپریہ سلے کو کرنا ہے کہ وہ اقتدار میں حصہ دار بننا چاہتی ہیں یا اپوزیشن میں رہنا چاہتی ہیں۔ اتنے واضح موقف کے بعد صحافیوں کی یہ بات غلط نہیں معلوم ہوتی۔ اڈانی سے ملاقات کا اثر اسی دن نظر آیا جب دونوں این سی پی نےپونے ایک روز قبل توڑے گئے اپنے اتحاد کو دوبارہ قائم کرلیا۔ یاد رہے کہ کارپوریشن الیکشن میں این سی پی نے ممبئی اور پونے میں کہیں بھی کانگریس کے ساتھ اتحاد نہیں کیا ہے۔ کارپویشن الیکشن کے بعد واضح ہو جائے گاکہ اڈانی کی اس ملاقات کا مقصد کیا تھا۔