بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن نے ہندوستان دورے پر شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ دہرایا ،خلیل الرحمٰن کا دورہ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد ہندوستان کی طرف سے منعقد کردہ پہلی اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات تھی۔
EPAPER
Updated: April 11, 2026, 10:38 PM IST | Dhaka
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن نے ہندوستان دورے پر شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ دہرایا ،خلیل الرحمٰن کا دورہ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد ہندوستان کی طرف سے منعقد کردہ پہلی اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات تھی۔
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمٰن نے جمعہ کو کہا کہ نئی دہلی کے اپنے دورے کے دوران انہوں نے ڈھاکا کا یہ مطالبہ دہرایا کہ ہندوستان معزول وزیراعظم شیخ حسینہ کو بنگلہ دیش کے حوالے کرے۔ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، محمد یونس کی زیر قیادت سابق عبوری حکومت نے نومبر میں ہند-بنگلہ دیش حوالگی معاہدے کے تحت یہ درخواست کی تھی۔ خلیل الرحمٰن کا دورہ حسینہ حکومت کے خاتمے کے بعد ہندوستان کی طرف سے منعقد کردہ پہلی اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات تھی۔ واضح رہے کہشیخ حسینہ اگست ۲۰۲۴ء میں اپنی عوامی لیگ حکومت کے خلاف طلبہ کی وسیع احتجاج کے کئی ہفتوں بعد ہندوستان فرار ہوگئی تھیں۔ وہ۱۶؍ سال برسراقتدار تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ایک ہزار گھنٹے سے تجاوز کر گیا: انٹرنیٹ واچ ڈاگ
بعد ازاں نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات محمد یونس نے اس کے بعد بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کی سربراہی سنبھالی۔ جبکہ فروری میں پارلیمانی انتخابات کے بعد بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے ملک میں نئی حکومت تشکیل دی۔ پارٹی کی چیئرپرسن طارق رحمان نے وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔تاہم اس ہفتے کے اوائل میں خلیل الرحمٰن نے نئی دہلی میں قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوبھال اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے ملاقاتیں کیں، اس سے قبل وہ نویں بحر ہند کانفرنس میں شرکت کے لیے ماریشس گئے۔ جے شنکر نے اپنے بنگلہ دیشی ہم منصب سے کہا کہ ہندوستان ’’تعمیری انداز میں‘‘ ڈھاکا کی نئی حکومت کے ساتھتعلقات کا خواہاں ہے اور دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے کام کرے گا۔
ماریشس میں دی ہندو سے گفتگو کرتے ہوئے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے کہا کہ’’ ڈھاکا نے اپنے حوالگی معاہدے کے تحت حسینہ کی واپسی کے لیے پہلے ہی کہہ دیا تھا۔ ہم نے اسے دہرایا۔‘‘رحمان نے مزید کہا کہ وہ دہلی میں اپنی ملاقاتوں کے بعد دوطرفہ تعلقات کے بارے میں مناسب حد تک پر امید ہیں۔انہوں نے کہا،’’ دونوں ممالک کے سربراہ وزیراعظم طارق رحمان اور ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی نے نہ صرف خطوط کا تبادلہ کیا بلکہ انہوں نے بات بھی کی، اور دونوں تعلقات کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک کے لیے اہمیت کا حامل تعلق ہے اور ہم نے اس بارے میں بات کی کہ اسے کیسے آگے بڑھایا جائے۔‘‘اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا، ’’ مجھے امید ہے کہ ہم یہ اگلے چند ہفتوں میں کریں گے۔‘‘
ذہن نشین رہے کہ حسینہ کے ہندوستان فرار ہونے کے بعد نئی دہلی اور ڈھاکا کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔ جب اس ملک کی ایک عدالت نے مبینہ طور پر انسانیت کے خلاف جرائم کے لیے انہیں سزائے موت سنائی جس کے بعد بنگلہ دیش نے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ ہندوستان حسینہ کو حوالے کرے۔دراصل بنگلہ دیش کے بین الاقوامی جرائم ٹربیونل نے حسینہ کو اپنی حکومت کے خلاف احتجاج پر جان لیوا کریک ڈاؤن کا حکم دینے کا مجرم پایا۔تاہم دسمبر میں جے شنکر نے کہا تھا کہ یہ حسینہ پر منحصر ہے کہ وہ بنگلہ دیش واپس جانا چاہتی ہیں یا نہیں۔