Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کی کون سی یونیورسٹی کے طلبہ اوسطاً سب سے زیادہ کماتے ہیں؟

Updated: June 07, 2026, 2:41 PM IST | Washington

امریکی محکمۂ تعلیم کے کالج اسکور کارڈ کے تازہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ بعض یونیورسٹیوں کے طلبہ گریجویشن کے صرف چار سال بعد ہی چھ ہندسوں کی سالانہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔ فہرست میں میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سرفہرست ہے، جبکہ انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، صحت اور فارماسیوٹیکل علوم سے وابستہ اداروں کے فارغ التحصیل افراد سب سے زیادہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

طویل عرصے سے کالج کی ڈگری کو بہتر مستقبل اور مالی استحکام کی ضمانت سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی تعلیمی فیس، طلبہ کے قرضوں کے بوجھ اور بدلتی ہوئی ملازمتوں کی ضروریات کے درمیان اب یہ سوال زیادہ شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر ایک ڈگری کی حقیقی معاشی قدر کیا ہے۔ امریکی محکمۂ تعلیم کے کالج اسکور کارڈ کے تازہ ترین اعداد و شمار نے اس سوال کا جزوی جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ رپورٹ میں ان طلبہ کی اوسط آمدنی کا جائزہ لیا گیا ہے جنہوں نے وفاقی مالی امداد حاصل کی اور گریجویشن کے چار سال بعد ملازمت اختیار کی۔ اعداد و شمار کے مطابق، میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) اس فہرست میں پہلے نمبر پر ہے، جہاں کے گریجویٹس کی اوسط سالانہ آمدنی ایک لاکھ ۶۲؍ ہزار ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ اس کے بعد کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ایک لاکھ ۵۳؍  ہزار ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا۔

یہ بھی پڑھئے: فلسطینی کھیلوں پر وار: اسرائیل نے اسٹار فٹبالر رند حلوانی کی حراست بڑھائی

صحت کے شعبے سے وابستہ سیموئیل میرٹ یونیورسٹی تیسرے نمبر پر رہی، جہاں فارغ التحصیل طلبہ کی اوسط آمدنی ایک لاکھ ۴۸؍ ہزار ڈالر رہی۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور ہاروی مڈ کالج کے گریجویٹس کی اوسط آمدنی ایک لاکھ ۳۷؍ ہزار ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی کے سابق طلبہ نے اوسطاً ایک لاکھ ۳۵؍ ہزار ڈالر کمائے۔ رپورٹ سے واضح ہوتا ہے کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کے شعبے آج بھی سب سے زیادہ منافع بخش تعلیمی راستے سمجھے جاتے ہیں۔ ایم آئی ٹی، کیل ٹیک، کارنیگی میلن، اسٹینفورڈ اور دیگر معروف اداروں میں کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سائنس اور انجینئرنگ کے پروگراموں نے فارغ التحصیل افراد کو اعلیٰ تنخواہوں والی ملازمتوں تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

صحت کے شعبے سے متعلق ادارے بھی نمایاں رہے۔ نرسنگ اور ہیلتھ سائنسز کے کئی کالجوں نے غیر معمولی نتائج دیے۔ ماؤنٹ سینائی فلپس اسکول آف نرسنگ اور ہیلن فلڈ کالج آف نرسنگ کے گریجویٹس کی اوسط آمدنی بالترتیب ایک لاکھ ۱۴؍ ہزار اور ایک لاکھ ۱۷؍ ہزار ڈالر رہی۔ اسی طرح رش یونیورسٹی، امریکن یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز اور یونیورسٹی آف نارتھ ٹیکساس ہیلتھ سائنس سینٹر بھی نمایاں اداروں میں شامل رہے۔ کاروبار، معاشیات اور مالیات کے شعبے بھی مضبوط کمائی کا ذریعہ ثابت ہوئے۔ بابسن کالج، کلیئرمونٹ میکینا کالج، کولمبیا یونیورسٹی اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی جیسے اداروں نے اپنے مضبوط کاروباری پروگراموں اور وسیع سابق طلبہ نیٹ ورکس کی بدولت گریجویٹس کو منافع بخش مواقع فراہم کیے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی ہاؤس نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی روکنے کی قرارداد منظور کرلی

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان نتائج کو مکمل تصویر کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ کالج اسکور کارڈ صرف ان طلبہ کی آمدنی کا حساب لگاتا ہے جنہوں نے وفاقی امداد حاصل کی، ملازمت اختیار کی اور گریجویشن کے بعد مزید تعلیم جاری نہیں رکھی۔ اس میں کاروباری سرگرمیوں، گریجویٹ تعلیم، کریئر کی تبدیلیوں اور علاقائی معاشی فرق جیسے عوامل شامل نہیں ہیں۔ رپورٹ میں جغرافیائی محل وقوع کو بھی ایک اہم عنصر قرار دیا گیا ہے۔ فہرست میں شامل بیشتر ادارے امریکہ کے مہنگے مگر معاشی طور پر مضبوط علاقوں، جیسے کیلیفورنیا کی سلیکون ویلی، نیویارک، بوسٹن اور دیگر بڑے شہروں میں واقع ہیں۔ ان علاقوں میں زیادہ تنخواہیں اکثر زندگی کے بلند اخراجات کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔ اس کے باوجود رپورٹ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، صحت اور مالیات جیسے شعبے اب بھی ابتدائی کریئر میں سب سے زیادہ معاشی فوائد فراہم کرنے والے شعبوں میں شمار ہوتے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے انتخاب میں طلبہ کے لیے آمدنی کا پہلو پہلے سے زیادہ اہم بنتا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK