Updated: July 23, 2026, 8:08 PM IST
| Mumbai
کانگریس کے سینئر لیڈر ششی تھرور نے دہلی میں طلبہ احتجاج پر پولیس کارروائی کے تناظر میں امیتابھ بچن کی ۲۰۱۲ء کی ایک پرانی پوسٹ شیئر کی ہے جس میں اداکار نے اس وقت پرامن مظاہرین پر آنسو گیس اور واٹر کینن کے استعمال پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ تھرور نے پوسٹ بغیر کسی اضافی تبصرے کے شیئر کی، تاہم اس کے بعد سوشل میڈیا پر امیتابھ بچن کی موجودہ خاموشی پر نئی بحث چھڑ گئی۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے دہلی میں جاری طلبہ احتجاج اور پولیس کارروائی کے درمیان بالی ووڈ کے سپر اسٹار امیتابھ بچن کی ۲۰۱۲ء کی ایک پرانی سوشل میڈیا پوسٹ شیئر کی ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر اداکار کی موجودہ خاموشی موضوعِ بحث بن گئی۔ یہ پوسٹ دسمبر ۲۰۱۲ء میں دہلی کے نربھیا کیس کے بعد ہونے والے احتجاج کے دوران امیتابھ بچن نے کی تھی، جس میں انہوں نے لکھا تھا کہ وہ ’’دہلی میں ہونے والے واقعات کو دیکھ کر دکھی اور خوفزدہ ہیں، پرامن احتجاج کا جواب آنسو گیس اور واٹر کینن سے دیا جا رہا ہے۔‘‘ ششی تھرور نے اسی پرانی پوسٹ کو موجودہ حالات کے تناظر میں شیئر کیا، تاہم اس کے ساتھ کوئی نیا تبصرہ یا وضاحت شامل نہیں کی۔
یہ بھی پڑھئے: وزیر اعلیٰ وجے نے پھرکہا، ’’نیٹ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے‘‘
تھرور کی جانب سے یہ پوسٹ شیئر کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد صارفین نے سوال اٹھایا کہ امیتابھ بچن، جنہوں نے ۲۰۱۲ء میں پولیس کارروائی پر کھل کر ردِعمل دیا تھا، اب جاری طلبہ احتجاج اور پولیس ایکشن پر خاموش کیوں ہیں۔ کئی صارفین نے ان کی پرانی پوسٹس بھی شیئر کیں اور ان کے موجودہ مؤقف پر تنقید کی، جبکہ بعض افراد نے کہا کہ کسی بھی شخصیت کو ہر عوامی یا سیاسی معاملے پر اظہارِ خیال کرنے کا پابند نہیں سمجھا جا سکتا۔ رپورٹس کے مطابق ششی تھرور خود بھی حالیہ دنوں میں طلبہ احتجاج کے حق میں آواز بلند کر چکے ہیں۔ ان کی جانب سے امیتابھ بچن کی پرانی پوسٹ شیئر کیے جانے کو کئی مبصرین نے موجودہ صورتحال پر ایک علامتی سیاسی پیغام قرار دیا، اگرچہ تھرور نے اس کی کوئی الگ تشریح پیش نہیں کی۔
یہ بھی پڑھئے: پیپر لیک معاملے میں راہل گاندھی کی مودی پر تنقید، طلبہ کے ۳؍ مطالبات دہرائے
دوسری جانب خبر لکھے جانے تک امیتابھ بچن نے نہ تو ششی تھرور کی جانب سے دوبارہ شیئر کی گئی پوسٹ پر کوئی ردِعمل دیا تھا اور نہ ہی جاری طلبہ احتجاج یا پولیس کارروائی کے حوالے سے کوئی نیا عوامی بیان جاری کیا تھا۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طلبہ احتجاج کو متعدد سیاسی لیڈروں، فلمی شخصیات اور سماجی کارکنوں کی حمایت حاصل ہو رہی ہے، جبکہ پولیس کارروائی اور احتجاج کے مختلف پہلوؤں پر ملک بھر میں بحث جاری ہے۔