ڈبلیو ایچ او غریب ممالک کو ۲؍ ارب ویکسین فراہم کرے گا

Updated: January 14, 2021, 12:05 PM IST | Agency | Washington

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سرپرستی میں کام کرنے والے ادارے’ کوویکس‘ نے کہا ہے کہ اس نے غریب ممالک کو کورونا ویکسین فراہم کرنے کیلئے ۶؍ ارب ڈالر کا فنڈ اکھٹا کر لیا ہے اور ویکسین کی دو ارب خوراکوں کا آرڈر بھی دے دیا ہے۔

Covid19 Vaccine - pic : INN
کووڈ ویکسین ۔ تصویر : آئی این این

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سرپرستی میں کام کرنے والے ادارے’ کوویکس‘ نے کہا ہے کہ اس نے غریب ممالک کو کورونا ویکسین فراہم کرنے کیلئے ۶؍ ارب ڈالر کا فنڈ اکھٹا کر لیا ہے اور ویکسین کی دو ارب خوراکوں کا آرڈر بھی دے دیا ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ وہ ویکسین کی مزید ایک ارب خوراکیں حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ادارہ یہ ویکسین غریب اور کم آمدنی  والے  ممالک میں صحت عامہ کے کارکنوں کو فراہم کرے گا تاکہ وہ عالمی وبا سے محفوظ رہ کر اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں۔اگرچہ چین، امریکہ، اسرائیل اور دوسرے ممالک کو ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم ڈبلیو ایچ او کو خدشہ ہے کہ ویکسین کے اسٹاک  میں جس رفتار سے کمی ہو رہی ہے، اس کے پیش نظر ہو سکتا ہے کہ کم یا درمیانی آمدنی رکھنے والے ۹۲؍ممالک  کے ہیلتھ ورکروں کیلئے ’کوویکس‘ پروگرام کے ابتدائی مرحلے میں ویکسین دستیاب نہ ہو سکے۔
 ایک روز قبل عالمی ادارۂ صحت نے ویکسین بنانے والوں سے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ وہ غریب ممالک کیلئے ویکسین کے اس کے پروگرام ’کوویکس‘کیلئے  ٹیکے فراہم کریں۔ڈبلیو ایچ او کے سینئر مشیر بروس ایلوارڈ کا کہنا ہے کہ ہمیں توقع ہے اور ہمیں یقین ہے کہ ہم فروری میں ان ممالک میں ویکسی نیشن کر سکیں گے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ ہم زیادہ سے زیادہ ملکوں میں ویکسین پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں، لیکن ہم یہ سب کام تنہا نہیں کر سکتے۔ ہمیں ویکسین بنانے والوں کا اور اس سلسلے میں مالی معاونت فراہم کرنے والوں کا تعاون درکار ہے۔اس سے قبل عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس یہ کہہ چکے ہیں کہ ویکسین کے کلیدی سپلائرد کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ ہمارے پاس اس یقین دہانی کیلئے ضروری ڈیٹا موجود ہو کہ ویکسین لگانے کا عمل تحفظ اور کوالیٹی کے اعتبار سے ہر معیار پر پورا اترتا ہو۔ ۴۰؍ سے زیادہ ممالک میںکورونا  ویکسین لگانے کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جہاں فائزر، بائیواین ٹیک، ماڈرنا، ایسٹرا زینیکا کے ساتھ ساتھ چین اور روس کی تیار کردہ ویکسین دی جا رہی ہیں۔ ایلورڈ کا کہنا ہے کہ یہ تمام ممالک امیر اور متوسط آمدنی کے حامل ہیں۔ جبکہ ہم ان غریب ملکوں کیلئے ویکسین حاصل کر رہے ہیں جو اسے خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ واضح رہے کہ کورونا کے زیادہ تر مریض  امریکہ کے علاوہ یورپ کے امیر ممالک ہی میں پائے گئے ہیں۔ غریب ممالک میں اس بیماری کا اثر بہت بعد میں پہنچا ، اس میں بھی کئی ممالک میں اس وبا پر قابو پالیا گیا ہے لیکن  بیماری کا خطرہ برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK